ہر لمحہ ماں کا ہے

دنیا میں مدَر ڈے منانے کی روایت ایک محبوب رواج بن چکا ہے۔ بے شک ماں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایک دن مخصوص کرنا ماں سے اظہار محبت کو علامت بنانا مقصود ہے


وگرنہ اولاد کا ہر لمحہ اس کی ماں کی محبت پر نچھاور ہے۔باپ جنت کا دروازہ ہے تو ماں کے پیروں تلے جنت ہے۔ جنت میں داخل ہونے کے لئے دروازے سے گزرنا پڑتا ہے۔ باپ کا مقام باب بہشت ہے جبکہ پروردگار نے بندوں سے اپنی محبت کی مثال ماں سے دے کر ماں کا رتبہ تمام رشتوں سے بلند فرما دیا۔رب اپنے بندوں سے ستر مائوں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شخص نے دریافت کیا ’’یارسول اللہؐ میرے حْسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ‘‘؟۔فرمایا ’’تیری ماں ‘‘ پوچھا ’’پھرکون‘‘ فرمایا۔۔’’ تیری ماں ‘‘ اْس نے عرض کیا۔۔’’پھر کون ‘‘۔فرمایا۔۔’’تیری ماں‘‘ تین دفعہ آپ نے یہی جواب دیا۔چوتھی دفعہ پوچھنے پر ارشاد ہوا۔’’تیرا باپ ‘‘۔ دینِ اسلام میں ماں کی نافرمانی کو بہت بڑا گناہ قرار دیاگیا ہے

کیونکہ ماں وہ ہستی ہے جس نے بچوں کو اپنا دودھ پلا پلا کر پالا پوسا ، اْن کی پرورش میں اپنی ہر راحت قربان کی ، اپنا ہر آرام ترک اور اپنی ہر خواہش نثار کردی۔۔نیک عورت دنیا میں جنت کا انعام ہے اور شر پسندعورت فتنہ ہے۔ اللہ سبحان تعالیٰ نے بندوں سے اپنی محبت کو ماں کی محبت سے تشبیہ دے کر ماں کو عظیم اعزاز سے نواز دیا۔ماں کو بھی چاہیے کہ وہ خدا کی محبت کے معیار کا فہم حاصل کرے۔

اپنے اندراعلیٰ صفات پیدا کرے۔اپنی دنیا کو اپنی اولاد اور میکے والوں تک محدود نہ رکھے۔ ماں ایک عظیم رتبہ ہے جس کے پیروں تلے جنت ہے۔ ماں کے مقام اور حقوق سے متعلق لیکچر ز دیئے جاتے ہیں لیکن ماؤں کو بھی ان کے مقام کا شعور ہونا چاہیے۔ ماں اپنی ذمہ داریاں ادا کیئے بغیر رب راضی نہیں رکھ سکتی۔ ایک ماں کی آخرت اس کی اولاد سے منسلک ہے۔ اولاد کی نیک تعلیم و تربیت کرنا اسے منزل منقصود تک پہنچانا ایک ماں کا اولین فریضہ ہے اور اس پل صراط کو عبور کیئے بغیر ماں کی نجات نہیں۔ پیروں تلے جنت ہے تو آزمائش اور امتحان بھی عظیم ہے۔ ایک بہترین ماں فجر کے وقت بیدار ہوتی ہے۔نماز کی ادائیگی کے بعد اپنے بچوں کو پاکیزہ ہاتھوں سے کھلاتی پلاتی ہے۔سکول بھیجتی ہے۔ قرآن اور دینی تعلیم دیتی ہے۔پانچ وقت نماز میں اپنے بچے کو اپنے ساتھ کھڑا کرتی ہے۔ اخلاقی تربیت کرتی ہے۔شوہراوراس کے خاندان کے ساتھ ادب سے پیش آتی ہے تا کہ بچہ ماں کے عمل سے رشتوں کا احترام سیکھ سکے۔ملازموں سے نرم رویہ اختیار کرتی ہے۔ مہذب لباس پہنتی ہے تا کہ بچہ کبھی یہ نہ کہہ سکے کہ اس کی ماں چست اور برہنہ لباس پہنا کرتی تھی۔ماں بچے کی رول ماڈل ہوتی ہے۔جو کرے گی اس کا بچہ بھی اس کی نقل کرے گا۔ شوہر کی بہنوں سے دوستانہ رویہ رکھے۔ خالہ کو پھوپھی پر یا نانی کو دادی پر ترجیح دینے سے بچے کو رشتوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے جس سے بچے کے ذہن میں کئی سوال جنم لیتے ہیں۔رشتوں میں تقسیم بچوں کے معصوم ذہن پر برے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ایک مکمل ماں اپنے بچے کی صحت مند شخصیت کے لیئے اپنی منفی رویوں کا گلہ گھونٹ دیتی ہے۔بچے کو گھریلو جھگڑوں سے الگ رکھتی ہے۔کم ظرف ہے وہ عورت جو اپنے بچے کے سامنے اس کے باپ یا ددھیال کی برائیاں کرے۔ ایسی احمق ماں اپنے ہی بچے کا نقصان کر تی ہے۔ ایک مرتبہ حرم شریف میں ہمارے قریب ایک خاتون بیٹھی اپنے بچے سے اس کے نانا اور ماموں کے لیئے دعا کرا رہی تھی’ اللہ جی میرے نانا ابو اور ماموں جان کو زندگی دے‘ اور بچہ ماں کے ساتھ دعا دہرا رہا تھا۔ تین چار بار جب دعا دہرا چکا تو ہم سے نہ رہا گیا بالآخر پوچھ ڈالا’’ اس کا دادا اور تایاچاچا حیات ہیں ؟ ان غریبوں کے لیئے بھی دعا کرا دو، آخر یہ معصوم ان کا خون ہے ‘۔ چندہ ماموں ،نانا ابو ،نانی امی، خالہ کے علاوہ بھی رشتے ہوتے ہیں لیکن کم ظرف خواتین مہنگے تحائف اپنے میکے کے لئے خریدیںگی اور سستے سیل پر لگے سسرال والوں کے لیئے خرید لائیں گی۔ کمائی سسرال کے لڑکے کی اور خرچ اپنی ماں بہنوں پر ہو رہی ہے۔ بد دیانت اور غیر منصفانہ رویہ والی عورت ممتا کے ساتھ بھی انصاف نہیں کر سکتی۔ عورت اپنے شوہر کے والدین کو برداشت کر لے تو یقین کیجیئے ہر بیٹا اپنے والدین کا فرمانبردار ہے۔ والدین سے محبت کرتا ہے بڑھاپے میں اپنے والدین کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔ اپنی بہنوں کے لاڈ نخرے اٹھانا چاہتا ہے۔بحثیت بیوی حسد جلن اپنی جگہ لیکن ماں بننے کے بعد رحیم و حلیم ہونے کی کوشش کرے۔ ممتا نام ہی نرم دلی اور رحم دلی کا ہے۔ اللہ سبحان تعالیٰ جو کہ رحیم و کریم ہے،اپنی ربوبیت کی مثال ممتا سے دیتا ہے۔ ماں کو مقام عالی پر فائز دیکھتا ہے۔اگر ماں اپنی دینی و دنیاوی ذمہ داریوں میں کوتاہی برتے گی تو تمام عبادتیں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ سب سے افضل عبادت اولاد کو نیک و صالح بنانا ہے۔یہ ایک طویل عمل اور مجاہدہ ہے۔۔

ماواں مرن مک جاندے ماپے ویر مرن ویہڑا ویلا

پیو مرے محمد بخشا مک جاندا اے میلہ۔

اچیاں لمیاں ٹالیاں گوہڑی جنہاں دی چھاں

ہر شے دنیا توں مل جاندی نئیں ملدی اک ماںباپ مرے سر ننگا ہوندا ویر مرے کنڈ خالی

ماواں بعد محمد بخشا کون کرے رکھوالی

بھائی بھائیاں دے درد ونڈاون

بھائی بھائیاں دیاں بانہواں

باپ سراں دے تاج محمد مانواں ٹھنڈیاں چھانواں

مْحسن ِ انسانیت ، نبی رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ؐنے ارشاد فرمایا کہ ’’اگر ننھے اور معصوم بچوں کو ماں کا دودھ نہ پلایا جا رہا ہوتا ، بوڑھے اور عمر رسیدہ افراد اپنے ربّ کے حضور عبادت میں جْھکے نہ ہوتے اور جانور میدان میں چرنہ رہے ہوتے تو یقیناً تْم پر سخت عذاب ہوتا ‘‘۔ماں کائنات کی سب سے قیمتی متاع اور سب سے عظیم سرمایہ ہے۔ اس کی شفقت و محبت اور خلوص و وفا کسی تعارف کا محتاج نہیں۔