نئ نسل کے کوے، چیلیں

نئ نسل کے کوے، چیلیں۔۔۔۔ شہناز احد

ایک فرلانگ تک پھیلے ہوئے کوڑے کے ڈھیر پر مختلف عمر کے تقریباً ایک درجن سے زائد بچے اور اتنے ہی ادھیڑ عمر افراد اُس ڈھیر پر یوں چل رہے تھے جیسے باغ ابن قاسم یا آنٹی پارک میں چہل قدمی کر رہے ہوں۔ مکھیوں بدبو اور غلاظت سے قطعی بے نیاز مختلف اشیا چن چن کر وہ اپنی پشت پر بندھے ہوئے تھیلوں میں یوں ڈال رہے تھے جیسے گلاب موتیا یا کپاس چن رہےہوں. میں نے غور سے دیکھا ان میں سے کئ مختلف مشروبات کے خالی ڈبوں کو ہلاتے ہوۓ اندر موجود قطروں کو حلق میں انڈیل رہے تھے۔

وہ سب کوڑے میں موجود اشیا سے کھیل بھی رہے تھے جیسے یہی ان کی ونڈر لینڈ ہو۔ دیکھتے ہی دیکھتے کوڑے کی پہاڑی کا حجم گھٹنا اور پشت پر لگے ہوئے تھیلوں کا بڑھنا شروع ہوگیا تھا۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ان میں کوڑے کی ملکیت پر لڑائ ہونے لگی۔ وہ ایک دوسرے کی ماں بہنوں سے محبت کا اظہار کرتے اور پھر اپنے کام میں لگ جاتے۔ انسان اور انسانیت کی اس سے زیادہ تزلیل دیکھنا میرے بس کی بات نہی تھی۔
میں نے منہ دوسری جانب موڑا تو ذہن کی اسکرین پر بچپن کے کچھ واقعات اچانک چمکنے لگے جیسے کل کی بات ہو۔
کل، وہ بھی گزرا ہوا، ہمیشہ یادوں کے تہہ خانے میں نیزے کی آنی کی طرح اٹکا رہتا ہے۔
ہماری رہائش اس وقت ملیر میں تھی. والد نے فوج سے سبکدوش ہونے کے بعد اس علاقے میں رہنے کو ترجیح دی۔
وہ ملیر جو اپنے باغوں ، کھیتوں، ٹیوب ویلوں، امرودوں، سبزیوں، جنگ جلیبی، پیپتے اور ناریل کے درختوں کے باعث سارے ملک میں جانا پہچانا جاتا تھا۔ جہاں بھوپال کی شہزادی کی رہائش گاہ، مشہور زمانہ کوئٹہ ٹینک،گرینڈ ہوٹل جہاں تمام آئیر لائینز کا اسٹاف ٹھہرتا تھا. صرف یہی نہیں وہاں بلوچ سرداروں کی رہائش گا ہیں، ولایت شاہ کا مزار بھی تھا. لب سڑک بہت بڑا مندر تھا، اور وہاں ملک کی سب سے بڑی تعلیمی درسگاہ یعنی جامعہ ملیہ کے ادارے تھے،جس میں رہائشی سہولت کے باعث پورے ملک سے بچے حصول علم کے لئے آتے تھے۔
میرے کانوں میں آج بھی ان اونٹ گاڑیوں کے قافلوں کی ٹن ٹن گونجتی ہے جب سر شام پھلوں سبزیوں کے ٹوکرے لادے تاجر شہر کی طرف جاتے تھے۔
ان دنوں ہماری زندگی کا سب سے اہم ہر چودہ دن بعد آنے والا وہ پندرہواں دن ہوتا تھا، جب ماموں ہماری امی سے ملنے آتے تھے۔ انھیں اس وقت کی بڑی بڑی اور اچھی گاڑیاں رکھنے کا بہت شوق تھا۔ جیسے شیور لیٹ،کیڈلک اور اسی قسم کی دوسری گاڑیاں ادل بدل ہوتی رہتی تھیں۔
ان کی حثیت ہماری زندگیوں میں ایک الف لیلیو ی کردار جیسی تھی۔ چاۓ کا دور چلتا اور پھر وہ آواز لگاتے چلو بھئ بچوں اب چلو. یہ آواز اس وقت ہمارے لہو کی گردش تیز کر دیتی تھی۔
ہم بہن بھائ اور دیگر کزن سب گاڑی میں بھر جاتے تھے۔ کسی کو کسی سے کوئ شکایت نہی ہوتی تھی۔ نہ کسی کا پیر دبتا تھا نہ ہاتھ۔
گاڑی نیشنل ہائ وے پر سو ، نوے کی اسپیڈ پر دوڑنے لگتی ، گاڑی نام کی شے سڑک پر شادونادر ہوتی تھی۔ سڑک ریتی بجری کے ٹرکوں،کبھی کبھار آنے والی بسوں، گدھا اور اونٹ گاڑیوں کے استمعال میں رہتی تھی۔ سڑک کے کنارے کنارے سائیکل سوار بھی نظر آجاتے۔ منٹوں میں گاڑی لانڈھی پہنچتی تھی جس کی پہچان یہ تھی کہ چند گز کے بعد تاروں اور کھمبوں سے بھرا وہ علاقہ آتا جس کے آگے “ پراپرٹی ریڈیو پاکستان” کا بورڈ لگا ہوتا۔ تھوڑا اور آگے نکلتے تو سڑک کی دونوں جانب چھوٹی چھوٹی پہاڑی نما چیزیں نظر آتی تھیں، جن کے بارے میں ایک دفعہ ماموں نے بتایا تھا کہ یہ شہر کراچی کا کوڑا کرکٹ ہے جسے شہر سے باہر رکھا جاتا ہے۔ اکثر ان پہاڑیوں پر غلیظ سے ٹرک کوڑا انڈیلتے نظر بھی آتے تھے. کھلی زمین پر کھلے آسمان تلے کھڑی ان پہاڑیوں سے ناگوار سی بدبو کا اخراج ہوتا تھا ۔ ہم میں سے کسی کے استفسار پر انھوں نے بتایا کہ یہ سب گل سڑ کے کھاد میں تبدیل ہو جاتا ہے اور دوبارہ سے قابل استمعال بن جاتا ہے۔
کوڑے کی ان پہاڑیوں پر لاتعداد کوے اور چیلیں منڈلاتے رہتے کبھی کبھار ان پہاڑیوں پر بڑے بڑے پروں اور منحوس سی شکلوں کے پرندے بھی نظر آتے تھے۔ معلومات میں اضافے کے لیے ماموں نے بتایا گیا کہ انھیں گدھ کہتے ہیں۔ مردہ خور پرندہ ہے۔ اس کی موجودگی اس بات کی گواہی ہے کہ کوڑے میں کوئ مردہ چیز بھی ہے۔
یہ منظر دیکھتے دیکھتے تھوڑا اور آگے جاتے تو سڑک پر “ کراچی حدود ختم “ کا بورڈ استقبال کرتا۔ کچھ دیر رکنے کے بعد ہم وہاں بھاگنے دوڑنے میں مصروف ہو جاتے تھے. تھوڑی دیر بعد واپسی کا سفر شروع ہوتا تھا اور دوبارہ سے کوؤں چیلوں کی پہاڑیوں کا نظارہ کر تے واپس گھر آجاتے تھے۔
ہمارے گھر سے چند سو گز کے فاصلے پر ایک بہت بڑا باغ تھا۔ اس باغ سے صبح سویرے ہزاروں کی تعداد میں کوے اور چیلیں اُڑتے ہوئے نامعلوم منزل کی طرف چلے جاتے تھے۔ انھیں اُڑتا دیکھ کر اکثر کوڑے کی پہاڑیوں کا خیال آتا۔ شام ڈھلے ان کی واپسی ہوتی۔ اور جو کبھی کبھار کوئ بڈھا بیمار کوا ساتھیوں کے ساتھ نہ جا پاتا تو گھروں کی دیوار پر بیٹھ کر شور مچاتا جسے گھروں میں موجود نانیاں دادیاں کسی مہمان کی آمد کا غیبی اشارہ گرد آنتیں اور بہوؤں بیٹیوں کو اسے روٹی پانی دینے کا کہتی تھیں۔ وہ کھانا کھاتا اور کائیں کائیں کرتا ہوا انھیں منتظر رہنے کی دعا دیتا اُڑ جاتا۔
وقت بدلا ہم سب بڑے اور بکھرنے شروع ہوگۓ- ماموں کی مصروفیات بڑھتے بڑھتے بہت بڑھ گئیں- سڑک پر گاڑیوں کی تعداد میں ظالمانہ اضافہ ہوا، اور شہر سے باہر “ کراچی کی حدود ختم “ کا بورڈ دیکھنے کا شوق دم توڑ گیا۔
ہمارے گھر سے کچھ فاصلے پر واقع وہ باغ کٹ گیا۔ زمین بک گئ۔ سارے کوے چیل بے دخل کردئیے گۓ۔ درختوں کی شاخوں پر بنے ان کے ننھے آشیانوں کی جگہ سیمنٹ لوہے کی دیواروں والے چھوٹے بڑے مکانوں نے سر اٹھا لئے۔ صبح شام آنے جانے والے وہ کوے چیلیں کہاں گۓ کسی نے نہ سوچا-
بہت ساری تبدیلیوں کے ساتھ وقت رواں دواں رہا. اس کی روانی کے ساتھ جو بڑی تبدیلی شہر کے گلی کوچوں میں نظر آئ وہ سڑک کے کنارے ،محلے کے کونوں میں کوڑے کے ڈھیر تھے۔ کہیں کہیں یہ ڈھیر کوڑے دانوں سے ابل رہے ہوتے جبکہ زیادہ تر قید وبند سے آزار سڑک پر چہل قدمی کر رہے ہوتے اور تعجب خیز بات یہ تھی کہ ان ڈھیروں پر کوؤں چیلوں کی جگہ کتے، بلیاں اور گایوں کے غول نظر آنے لگے۔
یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا اور ابھی تک چل بھی رہا ہے۔
وقت اور آگے بڑھا.
شہر کا بلدیاتی نظام کروڑوں اربوں کا بجٹ شہر کی شکل بدلنے پر خرچ کرتا رہا،اونچے خدوخال والی سینکڑوں بلڈنگیں سر بلند ہو گئیں۔ درجنوں پل ادھر ادھر کرنے کے لئے بن گۓ۔
اور کوڑے کے ڈھیر وں میں بھی اسی حساب سے اضافہ ہوتا گیا۔
گلی ، محلے،بازار سڑک در سڑک،کوچہ در کوچہ، کونا در کونا کچرا کنڈی بنتا چلا گیا۔ اور بن رہا ہے۔ شہر کے کسی بھی کونے میں خالی پلاٹ کا ہونا ایسا ہےتو مانو لاٹری لگ گئ۔
عجب بات یہ ہے کہ کوڑے کے ان ڈھیروں پر اب چیل ، کوے، گدھ، گاۓ بھینس، کتے بلیاں شاذونادر ہی نظر آتے ہیں۔
ان کی جگہ کوڑا چننے والے بچوں، جوانوں اور ادھیڑ عمر ان افراد نے لے لی ہے جو آے تو پناہ کی تلاش میں تھے پر زمیں پکڑ کر ہی بیٹھ گۓ۔
ان پرانے کوؤں چیلوں کو وقت کی تبدیلی نے ہمارے گھروں اور چھتوں تک پہنچا دیا ہے۔ اپنے رزق کی تلاش میں یہ ہر وقت ہمارے سروں پر گھومتے رہتے ہیں ہماری کھڑکیوں بالکونیاں میں آ بیٹھتے ہیں۔- ان کا ذوق بھی بہتر ہوگیا ہے اب انھیں کوڑے کے ڈھیروں سے دلچسپی نہی رہی۔ کہ اب وہاں دوسری نسل کے کوے چیلیں اور گدھ آ گۓ ہیں۔