اکثر مرد شادی کے نام پر ایک روبوٹ گھر لے کر آتے ہیں جو ان کا ہر حکم بجا لائیں

کورونا نے جہاں دنیا کو بہت سے سبق سکھائے ہیں، عورتوں پر بھی یہ بات واضح کردی ہے کہ گھر بیٹھا ہوا مرد کسی ساس سے کم نہیں ہوتا۔ اس وبا نے جہاں پوری دنیا کی معیشت تباہ کی ہے وہیں اس نے گھروں کا سکون بھی ختم کر دیا ہے۔ اس سے سب سے زیادہ اذیت شادی شدہ گھریلو عورتوں کو ہوئی ہے۔

اب موجودہ حالات میں جہاں کورونا کی وجہ سے لوگ گھروں میں بند ہو کر رہ گئے ہیں، گھریلو عورتوں کی سزا میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، نندیں اپنے بچوں سمیت اپنی ماں کے گھر آگئی ہیں جیسے یہاں کورونا داخل نہیں ہو گا۔ کوئی پوچھے کہ کیا یہ کورونا پروف گھر ہے۔

ایک سروے کے مطابق چائنہ میں کورونا کے خاتمے کے بعد طلاق کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس کی وجہ گھریلو ناچاقی ہے۔ گھر میں کسی کو جب کوئی کام کہ دیا جاتا ہے تو یوں برسنے لگ جاتا ہے جیسے بادشاہ سلامت کی شان میں کوئی گستاخی ہو گئی ہو۔ گھر کی صفائی سے لے کر کھانا بنانے تک ہر موضوع پر بحث وتکرار رہتی ہے۔

عورتوں کی پہلے ہی گھر کے کام کر کر کے دماغ کی دہی بنی ہوتی ہے اور صبر کا پیمانہ لبریز ہوا ہوتا ہے۔ دوسری طرف خاوند ذرا سا کچھ کہنے پہ آگ بگولا ہو جاتا ہے۔ دونوں ہی تہیہ طوفان کیے ہوتے ہیں۔ مگر خاوند کو یہ سمجھنے کی بجائے کہ اسے بھی کچھ آرام کی ضرورت ہے آپے سے باہر ہو جاتا ہے کہ تیری ہمت کیسے ہوئی زبان چلانے کی پھر اسے اللہ رسول کے احکامات بتانے لگ جاتا ہے کہ تجھے تو اللہ پوچھے گا۔ بھلا بندہ پوچھے کیا تمہیں اللہ نہیں پوچھے گا، گھر کے کام کروانا سنت نبوی ہے تو یہ بات تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آتی۔

ہمارے معاشرے میں اکثر مرد شادی کے نام پر ایک روبوٹ گھر لے کر آتے ہیں جو ان کا ہر حکم بجا لائیں، جس طرح الیکڑانک اشیا کی گارنٹی کم ہوتی ہے اسی طرح نئی نویلی دلہن کی خصوصی حیثت بھی لمحاتی ہوتی ہے، کچھ پتا نہیں ہوتا کہ کتنی دیر برداشت کی جائے۔ اس لئے اکثر لوگ بہو کے آتے ہی اسے تمام کام سونپ دیتے ہیں جیسے اس بیچاری کے آنے سے پہلے ان کے گھر کا نظام بالکل ساکت تھا۔ اب وہ آئی ہے تو جادو سے سب نظام فعال ہوجائے گا۔

جہاں اس سے جسمانی مشقت کا کام لیا جاتا ہے، اس کی ذہنی مشقت بھی بڑھ جاتی ہیں۔ کبھی ساس اور کبھی نند کے تیر کی طرح تیز الفاظ اس کے دل اور جگر کو چھلنی کرتے ہیں۔ بعض گھروں میں تو بہو ”فائٹ بیک“ کرتی ہے مگر ایسا بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔

شادی کے بعد ایک عورت کی زندگی مکمل بدل جاتی ہے جیسے وہ عرش سے فرش پہ آجائے، ماں باپ کے گھر میں جس نے کبھی پانی کا گلاس اٹھ کے نہ پیا ہو یہاں اسے گھر کا ایک ایک کام کرنا پڑتا ہے، باورچی خانے سے لے کر گھر کی صفائی ستھرائی جیسے سب ہی اس کی ذمہ داری ہو۔

کورونا سے عورتوں کے مسائل کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ حقیقت میں عورت ہمیشہ سے ایسے مسائل سے دوچار رہی ہے۔ کبھی اس پر گھریلو تشدد کیا جاتا ہے تو کبھی طلاق دے کر گھر سے فارغ کر دی جاتی ہے۔ جو عورت گھر کی دیکھ بھال کرتی ہے اس کا ہی گھر نہیں ہوتا۔ ہم وراثت میں تو عورت کو حصہ دے دیتے ہیں مگر اصل زندگی میں اسے جو حق دینا چاہیے اس سے محروم رکھتے ہیں۔ کبھی وہ زبان کا شکار ہو رہی ہوتی ہے تو کبھی مار کا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر عورت عقل سے کام لے تو مرد کی خواہش اور پسند طے کرتی ہے۔ خوش شکل عورت کو رلتے اور عام شکل عورت کو راج کرتے دیکھا ہے۔ لیکن یہ سب کتابی باتیں ہیں اصل تو وہ ہے جو ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں۔

وائرس آنے سے گھروں میں لڑائی پیسوں کی کمی سے نہیں بلکہ ایک دوسرے کے رویے سے ہوتی ہے۔ ہر شخص زبان پر انگارے لئے گھومتا ہے اور مزے کی بات یہ کہ یہ انگارے لوگوں کے لیے نہیں بلکہ اپنے ہی قریبی رشتوں کے لئے ہوتے ہیں، جن سے ہم بات کرنے کے تمام ادب و آداب بھول چکے ہوتے ہیں۔

کورونا وائرس پر تو سائنس کی کاوش سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے مگر عورتوں کے مسائل ختم کرنے والی سائنس پتا نہیں کب وجود میں آئے گی جو لوگوں کو عورت کی عزت کرنا اور اس سے حسن سلوک سے پیش آنا سکھائے گی۔ اللہ نے تو سورہ النسا میں عورتوں کے حقوق کے بارے بتایا ہے مگر ہم یہ سمجھنے کے باوجود عورت پر ظلم کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ متاثر عورتیں گھریلو عورتیں ہیں۔

کیا اس لاک ڈاؤن سے نکلنے کے بعد مرد سمجھیں گے کہ لاک ڈاؤن دراصل کیا ہوتا ہے؟ کیا ا سے احساس ہوگیا ہوگا کہ جو عورتیں ہمہ وقت گھر میں محصور رہتی ہیں، ان کی ذہنی کیفیت کیا ہوتی ہے؟ لیکن شاید مرد سے سوچ سمجھ کی امید وابستہ کرنا ہرن پر گھاس لادنے کے مترادف ہے۔ جو ”چیز“ جس کام کے لیے بنی ہی نہیں، اس کی امید اس سے کیوں رکھی جائے۔
Asma-Liaqaut-