جاہل عوام تو بیوقوف بن سکتے ہیں لیکن آپ……..

اپنی تمام تر غیر جانبداری کے ساتھ میں مسلسل اسی کوشش میں رہی ہوں کہ پی ٹی آئی حکومت کا کم از کم ایک ہی عمل ایسا ہو کہ اس حکومت کی دل کھول کر تعریف کر سکوں مگر افسوس کے ساتھ حکومت نے ہر معاملے میں ابتدا سے انتہائی اہم موضوعات پر خاصی غیر سنجیدہ اور غیر حقیقی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے۔ آخر وہ۔ کون سے تھنک ٹینک اس جماعت میں امپلائڈ یا ڈپلائڈ ہیں کہ سیاست کا معاملہ ہو، معیشت کا یا پھر صحت کا یہ حکومت اکثر غیر منطقی اور کافی حد تک ماورائے عقل توجیہات پیش کرتی آئی ہے۔

عوام بھی بڑی ہی غیر سنجیدہ اور لاپروا ثابت ہوئے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ہر منطق اور بے منطق اسلوبوں پر تالیاں بجا بجا کر خوش ہوجاتے ہیں۔ مگر جب معاملہ زندگی موت کا ہو تو شعبدہ گری کے میدان سے باہر نکلنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ یہ لفظی کمالات بس وقتی دل بہلاوے کا سبب تو ہو سکتے ہیں مگر ناظرین کو بہر حال یہ پتہ ہوتا ہے کہ یہ حقیقت نہیں۔ کنٹینر پر کھڑے ہو کر یوٹیلٹی بلز جلانے کے معاملات سے لے کر دھرنوں تک عوام کو خوابوں کی دنیا میں رکھا گیا۔ سادہ لوح عوام معاشیات کے گمبھیر پیچ و خم سے نابلد آنکھ بند کرکے اس خوابی جنت میں کھو گئے۔ گو کہ ہمیں تب بھی علم تھا کہ یہ سب ناممکن سے بھی زیادہ ناممکن ہے۔ مگر چلیں ہوگیا اور آپ کنٹینر سے اتر کر حکمران بن ہی گئے مگر اس حکومت کی ناعاقبت اندیشی نے تو تباہی کے پہاڑ ڈھانے شروع کردیے۔

ایک ریسرچ تجزیہ کے مطابق ملک میں
شرح سود جو 5 فیصد تھی، اب 13.5 فیصد تک ہو گئی۔
اسٹاک مارکیٹ 53 ہزار تک تھی، نیچے گر کر 32 ہزار تک رہ گئی۔
شرح نمو جو 5.5 فیصد تھی، اب منفی 1.5 فیصد ہے۔
بیرونی سرمایہ کاری ساکت ہو گئی ہے
مہنگائی 5.5 فیصد تھی آج 10 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔
اس ملک میں پندرہ ڈالر فی بیرل میں ملنے والا تیل آپ 96 روپے فی لیٹر میں دے رہے ہیں۔
پہلے ملک یومیہ 5 ارب کا مقروض تھا، آج روزانہ 21 ارب روپے کا مقروض ہورہا ہے۔
(یہ تمام اعداد و شمار قبل از کرونا ہیں )

چینی، آٹا، تیل، گیس اور دوائیوں سمیت ہر چیز میں مہنگائی کا طوفان برپا کرکے بھی یہی رونا کے عوام ٹیکس نہیں دیتے۔

حکمرانی کے دو سالہ عرصے میں کسی بھی قسم کا ترقیاتی پروگرام آپ نے شروع کیا نہ ہی اس کی کوئی نیت رکھتے ہیں۔ نہ ہسپتال، نہ تعلیمی ادارے، نہ کوئی بھی انڈسٹری اور نہ ہی انفراسٹرکچر کی کوئی بھی پلاننگ آپ کے ریکارڈ اور ترجیحات میں نظر آتی ہیں۔ البتہ آپ کے دور میں تعلیمی بجٹ میں واضح کمی ضرور دیکھی گئی ہے۔ اوپر سے یہ کہنا کہ پچھلے خساروں کی وجہ سے آپ کو یہ سب کرنا پڑا اور یہ کہ ملک کو پچھلے خساروں سے نکال لیں پھر سب بہتر کریں گے ایک بھیانک مذاق ہے۔

سادہ لوح بلکہ صحیح کہیں تو جاہل عوام تو بیوقوف بن سکتے ہیں لیکن آپ کو بخوبی علم ہے کہ یہ ایک ظالمانہ طریقہ واردات ہے کہ آپ نے ملک کو پچھلے ادوار سے کئی زیادہ خسارے کی نذر کردیا ہے جو مزید بڑھے گا مگر کم ہر گز نہیں ہوسکے گا البتہ آپ جو چاہتے ہیں وہ ضرور پورا ہوچکا ہوگا۔ اس پر عالم کہ اب بھی خود کو ایمان دار بلکہ واحد ایماندار ماننا اور منوانا فکر انگیز ہے۔ خدا کی طرح لوگوں کی زندگی اور موت پر بھی قادر ہونے کا کیا مطلب؟

بار بار یہ کہنا کہ اشرافیہ نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا۔ تو جناب یہ اشرافیہ ہے کون؟ کیا پی ٹی آئی قیادت اب تک ذہنی طور پر کنٹینر پر ہی ہے؟ براہ کرم نیچے اتر آئیے کہ اب آپ اس ملک کے حکمران ہیں۔ اب بھی وہی رونا دھونا حکمران ہوتے ہوئے آپ پر ہر گز زیب نہیں دیتا۔ سندھ کے علاوہ پورے ملک میں آپ کی حکومت ہے پھر بھی اگر وہ آپ کی مرضی سے ہٹ کر لاک ڈاؤن کا فیصلہ کررہے ہیں تو کیا یہ اشرافیہ آپ کی نہیں؟ پھر کس بات کا گلہ؟ سندھ کا سکہ پورے ملک میں تو چل نہیں رہا۔ اب اگر آپ کے اپنے ہی لوگ آپ کی غیر سنجیدہ لاک ڈاؤن پالیسی پر عمل پیرا نہ ہوں تو یہ قصور آپ کا ہے کسی سندھ حکومت کا نہیں۔

اب آپ یہ بات کرتے ہیں کہ کرونا سے 95 فیصد لوگ صحت یاب اور 5 فیصد ہی مرتے ہیں تو جناب کیا 22 کروڑ کا 5 فیصد آپ کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا؟ چلیں فرض کرلیتے ہیں کہ محض 1 لاکھ لوگ کرونا سے متاثر ہوتے ہیں تو 1 لاکھ کا 5 فیصد 5000 بنتا ہے اور 5000 لوگوں کا مرنا کیا ہوتا ہے آپ کو اس کا اندازہ بھی ہے؟ محض دس ہزار کے 5 فیصد ہی 500 ہوتے ہیں اور اگر 500 ہی مر جائیں تو یہ ایک ناقابل تلافی بحران اور ایک قومی المیہ ہے۔

بقول آپ کے جو لوگ پہلے سے بیمار ہیں وہی مرتے ہیں۔ تو جناب ذرا اس پاکستان نامی ملک میں جھانک کے دیکھیں صرف اس پر حکومت مت کریں اور دیکھیں کہ یہاں بیمار اور بوڑھے لوگ بھی پورا پورا کنبہ پال رہے ہوتے ہیں۔ یہ بیمار لوگ کسی کا باپ، بھائی، شوہر۔ ماں، اولاد، ان کے پالن ہار اور نجانے کیا کیا ہوتے ہیں تو کیا ان بیماروں کی جان کی کوئی وقعت نہیں؟ کیا آپ ان بیمار افراد کی کمی ان کے اہل خانہ میں پوری کرسکتے ہیں؟

آپ کے لئے بے حد آسان ہے یہ کہہ دینا کہ مرنے والے بیمار اور 5 فیصد لوگ ہوں گے جیسے انہیں جینے کا حق نہیں۔ آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ ایسے ہی بدعنوان حاکموں کی وجہ سے ہی اس ملک کی صحت کا اتنا بدترین عالم ہے کہ اکثریت بیمار ہی ہے اور یہ جو کرونا کے مریضوں اور اموات کی تعداد مغربی ممالک کی نسبت کم نظر آرہی ہے تو ہمیں بخوبی علم ہے کہ اس کی وجہ کرونا ٹیسٹ کا بہت ہی محدود تعداد میں ہونا ہے۔ یوں تو آپ کرونا ٹیسٹنگ کے عمل کو مکمل روک دیں اور عوام کو گمراہ کن حد تک یقین دلا دیں کہ اب کرونا کا کوئی مریض رپورٹ ہی نہیں ہورہا۔

آپ کا کا یہ عمل کیا غیر منطقی ہونے کے ساتھ ساتھ سفاک بھی نہیں کہ نہ آپ کو ڈاکٹرز کی دہائیاں سنائی دیتی ہیں جو اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے ڈیوٹیاں دیتے ہوئے پاگل ہورہے ہیں اور خود بھی کرونا کا شکار ہورہے ہیں؟ نہ ہی آپ کو عوام کی جان کی پرواہ ہے۔ آپ کو پریشانی محض اس بات پر ہے کہ آپ کو یہ چند دن عوام کو ڈیلیور کرنا پڑے گا۔ اقتدار کے حصول کی خاطر پہلے جو۔ لمبی لمبی پر جوش تقریریں ہوا کرتی تھی اس کی حقیقت پھر کیا تھی؟

یا تو وہ عیاں کردیں اور جس طرح اقتدار کے فوراً بعد آپ کی حکومت نے عوام کی کمائی پر شب خون مارا ہے اب کچھ دن کے لئے آپ اپنے قریبی اشرافیہ اور وزرا کی عیاشی کو لگام لگاتے ہوئے اور جو کروڑوں روپے آپ اپنی تنظیم کے فروغ کے لئے سوشل میڈیا ایجنٹس کو ادا کررہے ہیں اسے روکتے ہوئے عوام کو لوٹانا شروع کردیں تو مسئلہ اتنا گمبھیر نہ لگے جتنا آپ نے بنایا ہوا ہے۔ یقین جانیے آپ کی ڈیلیورنس ہی آپ کو عزت اور آپ کے اقتدار کو دوام بخش سکتی ہے۔ آپ کو ہر گز بھی اپنی عزت و وقار کے لئے کسی بھی طرح کی پیڈ پروپیگنڈا مہم چلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ آپ خوش قسمت ہیں کہ قدرت نے آپ کو یہ موقع دیا ہے جو آپ سے پہلے کسی کو نصیب نہیں ہوا اور اس موقع پر ہی آپ خود کو عوامی لیڈر ثابت کرسکتے ہیں۔

مگر آپ دور اندیش واقع نہیں ہوئے ہیں جو عوام میں ڈیلیورنس کے ثمرات دیکھ سکیں۔ آپ کو یہ مسئلہ موجودہ بحران سے بھی زیادہ بھاری نظر آرہا ہے۔ آپ کو اپنا وقتی اقتدار اور اپنے دو فیصد اشرافیہ پانچ فیصد عوام سے زیادہ اہم لگتے ہیں۔ ذہنی طور پر فالج زدہ آدھ مرے عوام تو پہلے ہی سیاسی مداریوں کے آگے سر تسلیم خم کرتے آئے ہیں اب پھر آپ کے اس میڈیا پروپیگنڈا کا شکار ہونے لگیں گے کہ کرونا خطرناک نہیں اور قابو میں ہے بلکہ شاید حقیقت کے برعکس ذہنی اور معاشی دباؤ کے باعث عوام سننا بھی یہی چاہتے ہیں مگر اس کا خمیازہ ناقابل تلافی ہے۔ تاریخ کسی کو نہیں بخشتی۔ آپ کو بھی نہیں بخشے گی۔ بعضوں کا کہنا ہے کہ آپ کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ آپ نے بھی مر جانا ہے۔ بعد میں تاریخ آپ کو کسی بھی نام سے یاد کرے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فرق تو نسلوں کو پڑتا ہے اور آپ کی تو نسلیں بھی یہاں نہیں رہتیں اس لئے ”فکر نہ فاقہ عیش کر کا کا“
Asma-Shiraz