اور ایمان کا ماتم تھا – یا وعدہ تھا حاکم کا

پاکستان میں جس طرح میرے عزیز ہم وطنو، وسیع تر قومی مفاد، اسلام کا قلعہ، جمہوریت، سیاست اور احتساب جیسے الفاظ قابل اعتبار نہیں ٹھہرے، اسی طرح ریفرنڈم کا لفظ بھی بدنام زمانہ ہے، ضیا صاحب کے دور میں ریفرنڈم کی بدنامی کو چار چاند لگ گئے اور یہی وجہ تھی کہ مرحوم و مغفور حبیب جالب کو کہنا پڑا۔

شہر میں ہُو کا عالم تھا

جن تھا یا ریفرنڈم تھا

قید تھے دیواروں میں لوگ

باہر شور بہت کم تھا

کچھ باریش سے چہرے تھے

اور ایمان کا ماتم تھا

یا وعدہ تھا حاکم کا

یا اخباری کالم تھا

یوں یہ ضروری نہیں کہ آپ ہمارے ریفرنڈم والے لفظ کو درخور اعتنا سمجھ لیں، پھر ہم قلمکار تو کمزور و نہتے ٹھہرے، اس لئے اپنے کہے کو ڈنڈے والوں کی طرح جائز بھی قرار نہیں دلا سکتے، لہٰذا محض یہ گزارش ہے کہ آپ ہماری اس بات پر غور ضرور فرمائیے گا کہ کورونا جو ایک وبا یا مرضِ لادوا یا مخمصہ، جو ہے سو ہے، لیکن اس کا آنا یوں گویا ریفرنڈم کا ہو جانا بھی ہے کہ شاید پہلی مرتبہ یہ بات دیکھنے میں آرہی ہے کہ کراچی تا خیبر اور بولان تا راوی و آزاد کشمیر کوئی بھی ہم وطن حکمرانوں کے کہے پر اعتبار کیلئے آمادہ نہیں، اس بیماری کی اصل حقیقت، اس کے خطرات سے متعلق حفاظتی انتظامات اور حکمرانوں کے اعلانات و اقدامات پر کسی کو یقین نہیں، اگر ملک کی اکثریت یہی محسوس اور ایسا ہی سوچ رہی ہے تو پھر ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہو سکتے ہیں کہ گویا کورونا کی بیماری نے جہاں خوف و وسوسے پھیلائے وہاں وفاقی و صوبائی حکمرانوں کی جوہری و اساسی صلاحیت کو اس طرح بے نقاب کرکے رکھ دیا کہ یہ امر اجماع اُمت ٹھہرا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے! گویا یہ اکثریتی رائے حکمرانوں کیخلاف ریفرنڈم ہی ہے، گزشتہ دنوں کورونا وائرس از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جناب جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ’’کہیں شفافیت نہیں، لگتا ہے سارے کام کاغذوں میں ہو رہے ہیں، وفاقی حکومت کی پالیسی صرف 25کلومیٹر تک محدود ہے‘‘۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ تمام ایگزیکٹیو ناکام ہوگئے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ٹیسٹنگ کٹس اور ای پی پیز پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں، ماسک اور دستانوں کیلئے کتنے پیسے چاہئیں، اگر تھوک میں خریدا جائے تو 2روپے کا ماسک ملتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سندھ حکومت کہتی ہے 150 فیکٹریوں کو کام کی اجازت دیں گے، اجازت دینے والوں سے پولیس والے تک سب کو ہی کچھ دینا پڑتا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کورونا کی روک تھام سے متعلق اقدامات میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہو رہی ہے۔ دریں اثنا سندھ ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر ہوئی ہے کہ کورونا کی آڑ میں سرکاری اور نجی اسپتالوں نے دیگر امراض کا علاج بند کر دیا جس سے آئے روز مریض مر رہے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے جو کچھ معزز جج صاحبان نے کہا ہے کہ وہ ہر پاکستان کے دل کی آواز ہے، چند مفاد پرست طبقات، ذخیرہ اندوزوں اور اس بیماری کو مال بنانے کا سیزن سمجھنے والوں کے ماسوا پورا ملک کہہ رہا ہے کہ نہ تو کورونا وائرس کے خاتمے و علاج کیلئے عملی اقدامت کیے جا رہے ہیں، نہ ہی بے روزگاروں کیلئے راشن کا کوئی انتظام ہے، یعنی صرف اعلانات ہیں اور عملی طور پر کچھ نہیں ہو رہا بلکہ سندھ میں تو سوشل میڈیا سمیت دکانداروں کی زبان پر یہ بات عام ہے کہ بازار کھولنے کیلئے بھتہ طلب کیا جا رہا ہے، اس پر یقین اس لئے بھی کیا جا رہا ہے کہ ماضی میں تاجروں سے بھتہ مانگنے والوں کا تعلق یا تو حکمران طبقات سے تھا یا انہیں حکمران طبقات کی اشیرباد حاصل تھی۔ چنانچہ کیونکر کوئی اعتبار کرے کہ کورونا کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ حق سچ ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں کورونا وائرس کی تشخیص کا کوئی نظام نہیں، وفاق کا کہنا ہے سندھ کی کٹس غیر معیاری ہیں، سندھ یہی الزام وفاق پر دھر رہا ہے، پھر جاں بحق ہونے والوں سے متعلق کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اُن کا انتقال کس سبب ہوا۔ گویا بیماری نہیں بقول جالب صاحب ’’جن‘‘ ہے۔ یہ بے اعتباری سیاسی قیادت و سیادت سمیت ہرسُو پھیلی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس شعبہ سے ڈرتے ہیں اسے کھول دیتے ہیں، تاجروں کو کاروبار کی اجازت نہیں، مساجد کھول دی گئیں، 90فیصد مساجد میں ریگولیشنز پر عمل نہیں ہو رہا، کیا اس سے کورونا نہیں پھیلے گا۔ درحقیقت ایسا ہی ہے! اب عوام جائیں تو کہاں جائیں۔
Ajmal-Khattak-Kasar-Jang