کرونا وائرس کے حوالے سے حکومت سندھ کی کروڑوں روپے کی خریداری میں ڈاکٹرعبدالباری اور ڈاکٹر طارق محمود کا کردار سوالیہ نشان بن گیا

کرونا وائرس کے حوالے سے حکومت سندھ کی کروڑوں روپے کی خریداری میں ڈاکٹر باری اور ڈاکٹر طارق محمود کا کردار سوالیہ نشان بن گیا ۔محصلین کا کہنا ہے کہ سرکاری فنڈز کے استعمال میں غیر سرکاری شخصیات کس طرح دستخط کر سکتی ہیں اور ان کا کیا قانونی کردار ہے ڈاکٹرعبدالباری ایک غیرسرکاری شخصیت ہیں ان کو اہم کردار سونپاگیا ہے


جبکہ جناح اسپتال کے ڈاکٹر طارق محمود وفاقی حکومت کے ماتحت ہیں وہ سندھ حکومت کے خریداری کے معاملات میں کیسے عمل دخل دے رہے ہیں اور ان کے دفتر میں ہی ڈاکٹر باری بھی آتے ہیں ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی سراج امجدی نے کرونا وائرس کے حوالے سے ہونے والی خریداریوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا ہے اور انہوں نے اس حوالے سے کئی قانونی سوالات بھی اٹھائے ہیں اور مختلف پہلوؤں پر اعتراضات بتائے ہیں کہ کیا کیا ہو رہا ہے ۔انہوں نے حکومت سندھ کے محکمہ صحت سے یہ سوال بھی پوچھا کہ وینٹیلیٹر خریدنے والے وینٹیلیٹر چلانے والے لوگ ان کے پاس موجود ہیں ماضی میں بھی ایک بہت بڑا اسکینڈل اس حوالے سے موجود ہے جدید مشینری کی خریداری اور پھر اس کو چلانے کے معاملے پر پہلے بھی مسائل آتے رہے ہیں روبوٹک سرجری کی مشینوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مشینری مفاہمتی سیاست کے دور میں خریدی گئی تھی اور آج بھی غیر فعال پڑی ہوئی ہے اور یہ جو وینٹیلیٹر خریدے جا رہے ہیں کیا ان کا حال بھی مستقبل میں ایسا ہی ہوگا ان کی دیکھ بھال اور مینٹیننس کس کی ذمہ داری ہوگی انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ حکومت حسین نے اب تک جن لوگوں کی کرونا وائرس میں ڈیتھ ہوئی ہے حکومت سندھ نے ان افراد کو کون سے قبرستان میں دفن کیا ہے جہاں کرونا کے مریضوں کو دفن کیا جارہا ہے بتایا جائے ان کی قبروں کی نشاندہی نہ تو کسی میڈیا کو بتائی جا رہی ہے نہ ہی ان کی تفصیلات شیئر کی جارہی ہیں اور ایک اہم سوال یہ ہے کہ جو مختلف اضلاع میں کرنتینہ سینٹر بنائے گئے ہیں وہاں کا طبی فضلہ کونسے سائنٹیفک طریقے سے کہا پر کیسے تلف کیا جا رہا ہے کیا اسے دبایا جارہا ہے دفنایا جا رہا ہے جلایا جارہا ہے اس کی کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں اس حوالے سے محکمہ صحت بھی خاموش ہے اور وزیراعلی سین بھی اپنی روزانہ میڈیا بریفنگ میں کوئی بات نہیں بتاتے وہ ان اہم معلومات کو پریس اور عوام سے شیئر کرنے سے مسلسل گریزاں نظر آتے ہیں انہوں نے خرچہ ظاہر کیا کہ تاریخ کے اس نازک موڑ پر بھی محکمہ صحت میں کرپشن اور کمیشن کا کھیل جاری ہے اور نیب کو مطلوب افسران پروکیورمنٹ کا حصہ بنے رہے ہیں ۔

انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ملک میں لاک ڈاؤن تو اناؤنس کردیاگیالیکن ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان نہیں کیا گیا اس سوال کا جواب تو عوام کو ملنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ لاگ ڈاؤن کرنے کے حوالے سے حکومت سندھ نے پہل کی اور تاثر بھی دیا کہاں سے پاکستان بھر میں لوگوں کی زندگیوں کا سب سے زیادہ احساس ہے لیکن طویل لاک ڈاؤن کے باوجود محکمہ صحت کا وہ کردار نظر نہیں آیا جس کی توقع تھی اور وہ مختلف ضروری اقدامات کرنے میں ناکام نظر آیا ۔سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ سندھ کی وزیر صحت ایک مہمان کردار کے طور پر نظر آئیں ۔لوگ سوال پوچھتے رہے ہیں کہ محکمہ صحت کو کون ڈیل کر رہا ہے وزیر صحت یا وزیر اعلی سید خود یا سیکریٹری صحت ۔اس حوالے سے عجیب الجھن اور کنفیوژن نظر آئی ۔
گذشتہ دنوں جب جناح ہسپتال میں ایک واقعہ پیش آیا تو وہاں وزیرصحت کی بجائے وزیراطلاعات کو جانا پڑا ۔جبکہ کرونا وائرس کے حوالے سے طبی عملہ اور نیم طبی عملہ ان کی کوئی فہرست سامنے نہیں آ رہی ہیں ان کی کوئی ٹریننگ کام نہیں آرہی ہے اگر محکمہ صحت نے ان کی کوئی تربیت کا انتظام کیا ہوتا کوئی ٹریننگ کرائی ہوتی تو بہتر نتائج آتے ۔نیشنل سٹیڈیم کے پاس ایکسپو سینٹر میں جو سب سے بڑا کلمتین سینٹر بنایا گیا ہے وہاں پر بھی جن ڈاکٹروں اور طبی عملے کی تعیناتی کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں وہ اس کی پابندی نہیں کرتے ہیں اور ڈیوٹی جوائن نہیں کرتے ۔محکمہ صحت سندھ میں سالہا سال سے جس کرپشن اور کمیشن کے کھیل کے اندر گم ہے اس کے نتائج اب سامنے آرہے ہیں ۔سراج امجدی نے کہا کے میں ایک ذمہ دار سینئر ہیلتھ رپورٹر کے حوالے سے آپ کو بتانا چاہتا ہوں جس کرپشن اور کمیشن کے اندر کون ہے اس دور کے اندر بھی اس ایمرجنسی کے اندر بھی محکمہ صحت سندھ کی انتظامیہ نے انہیں درست کرنے کے لئے کوئی بھی اقدام نہیں کیا رپورٹر کی حیثیت سے آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ سندھ بھر کے تمام اضلاع کے اندر سینکڑوں کے حساب سے ڈاکٹرز گھربیٹھے عرصے نہیں سالوں سے تنخواہ لے رہے ہیں اور اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ آدھی تنخواہ لیتے ہیں اور آدھی تنخواہ جو ہیں ان کے صلی صحت افسران کو وصول کرتے ہیں اور یہ کام جو ہے اور یہ اس کا علاج جو ہے تو آپ جب کہ ایمرجنسی آئی ہے اور محکمہ سے سیدھا سیکیورٹی لینے کی بات کر رہا ہے تو کوئی بھی اس ایمرجنسی کے اندر ۔لے رہے ہیں اور اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ آدھی تنخواہ لیتے ہیں اور آدھا جو ہیں ان کے صلی صحت افسران کو وصول کرتے ہیں اور یہ کام جو ہے اور یہ اصطلاح جو ہے کا جو ھے انکے صحت افسران کو وصول کرتے ہیں اور یہ کام جو ہے اور یہ اصطلاح جو ہے یہ کہلاتی ہے کہ ویزے کے اوپر تو اب جبکہ ایمرجنسی آئی ہے اور کی بات کر رہا ہے تو کوئی بھی اس ایمرجنسی کے اندر تو آپ جب کہ ایمرجنسی آئی ہے اور محکمہ سے سیدھا ڈیوٹی لینے کی بات کر رہا ہے تو کوئی بھی اس ایمرجنسی کے اندر ڈیوٹی کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں جس صوبے میں وزیر صحت اس منظرنامے میں ایک مہمان وزیر کے طور پر نظر آئیں وہ آپ اس اور کام کرنے والا عملہ اتنا بدعنوان ہو کہ وہ اس نازک موقع پر اپنی ڈیوٹی پر نہ آئے تو کس طریقے سے محکمہ صحت سندھ کی انتظامیہ صورتحال کو بہتر بنا سکتی ہے صوبائی حکومت ایسے ملازمین کو فارغ کرنے کے لیٹر ضرور جاری کر رہی ہے لیکن میری معلومات کے مطابق ابھی تک رونا ڈیوٹی نہ کرنے پر کسی بھی طبی یا نائن طبی ملازم کو فارغ نہیں کیا گیا ہے ۔

میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب سے یہ کرونا اور لاک ڈاؤن کی صورتحال ہوئی ہے اور حکومتی سندھ باظابطہ پریس بریفنگ اور میڈیا بریفنگ کا اہتمام کرتی آئی ہے اس کی جانب سے صرف حکومت سندھ کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو بلایا جاتا ہے لیکن آج تک اس اہم ترین معاملے کی کوریج کرنے والے ہیلتھ رپورٹرز کو مدعو نہیں کیا گیا نہ ان کو اعتماد میں لینے کی زحمت گوارا کی گئی ہے ۔سینئر صحافی کے طور پر حیران ہوں کہ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ صحافیوں کو اس نازک صورتحال میں کام کرنے میں روکا جا رہا ہے ان کی موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی لگائی گئی ہے ایسا تو کبھی کسی حالت جنگ میں نہیں ہوا کرفیو میں نہیں ہوا حیران ہوں کے اس صورتحال میں حکومت کو ایسے مشورے کون دے رہا ہے حکومت سندھ کا محکمہ صحت محکمہ اطلاعات اور محکمہ داخلہ ایسے ایسے احکامات جاری کر رہا ہے اقدامات کر رہا ہے جس پر مجھ جیسا سینئرصحافی نہ صرف حیران ہے بلکہ محکمہ داخلہ کے سیکرٹری کے اقدامات پر بھی پریشان ہوں کہ وہ نہ جانے ان اقدامات کے کیا نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں