میرا خواب ۔پاکستانی آئین کی ڈیجیٹلائزیشن ہے ۔پیرزادہ ظفیر الحق قاسمی کی جیوے پاکستان سے خصوصی گفتگو ۔ملاقات وحید جنگ

بڑے لوگ بڑے خواب دیکھتے ہیں ۔جس کا کوئی خواب نہیں اس کا کوئی مستقبل نہیں ۔پاکستان کے مشہور و معروف شاعر اور ادیب ضیاء الحق قاسمی مرحوم کے صاحبزادے پیرزادہ ظفیر الحق قاسمی نے بھی ایک خواب دیکھا ہے پاکستانی آئین کو ڈیجیٹلائزڈ کر نا ان کا خواب ہے ۔ان کے چچا جان مشہور ادیب شاعر کالم نگار عطاء الحق قاسمی کو ایک دنیا جانتی ہے

۔پیرزادہ ظفیر الحق قاسمی بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور منفرد وژن کی بدولت اپنے ملک اور عوام کے لیے اچھوتے آئیڈیاز پر عمل کرتے ہوئے منفرد اور بے مثال کام کرنا چاہتے ہیں اب تک ان کا کیریئر کامیابیوں سے بھرا ہوا ہے وہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی عوام کو زیادہ سے زیادہ آگاہی دی جائے تاکہ عوام کی اکثریت کو کاپی رائٹ ٹریڈمارک پیٹنٹ کے حصول اور فوائد کا پتہ نہیں ہے

لہذا ان کو اس بارے میں آگاہی دی جائے وہ چاہتے ہیں کہ حکومت تخلیق کار اور صلاحیتوں کے حامل پاکستانی نوجوانوں کو قومی خدمت کا موقع دے ۔وہ ملک سے بیروزگاری اور غربت کے خاتمے کے حوالے سے منفرد آئیڈیاز رکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر سینتیس سے زیادہ آئیڈیا اس پر عمل پیرا ہوجائیں تو ہم ملک میں بے روزگاری اور غربت میں کمی لاسکتے ہیں ان کی شدید خواہش ہے کہ آئین پاکستان کو بک شیلف سے نکال کر لوگوں کی دسترس میں لایا جائے ۔اور وہ یہ بات بھی مانتے ہیں کہ فوج حکومت عدلیہ مقننہ کی مدد کے بغیر ڈیجیٹلائزڈ آئین کی تشکیل ناممکن ہے ۔انہیں اس بات پر پورا یقین ہے کہ دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ قومی ترقی کی منازل تیزی سے طے کرتی ہیں ۔

پیرزادہ ظفیر الحق قاسمی بتاتے ہیں کہ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد بہت سے لوگ ہجرت کر کے پاکستان چلے آئے ان میں ایک خاندان میرے دادا کا بھی تھا جنہوں نے وزیر آباد کو اپنا مسکن بنایا میرے دادا مولاناقاسمی درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ تھے انہوں نے تدریس کے ساتھ لکھنے کے شوق کو جاری رکھتے ہوئے تذکرہ اسلاف میں اپنا شجرہ نسب مرتب کیا آپ نے بطور انسان ایک ایسی زندگی گزاری جو نیکی اور رحم دلی پر مبنی تھی آپ نے کی اور ایمانداری کی بناء پر شہرت عام رکھتے تھے بہاؤ الحق قاسمی مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ مفتی حسن کے مشورے پر پنجاب کے شہر شریف پورہ آگئے بازار مفتی محمد حسن نے جامعہ اشرافیہ کی بنیاد رکھی ایک بڑی مسجد دارالعلوم تعمیر کرایا 1953 میں تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں بہاؤ الحق قاسمی کو گرفتارکرکے شاہی قلعہ لاہور میں پابند سلاسل کیا گیا ۔سیاسی اور مذہبی تقریروں کی پاداش میں انگریز حکومت اور آزادی کے بعد پس زنداں رہے۔ صحافت سے بھی گہرا تعلق تھا القاسم اور ضیاءالاسلام کے بھی مدیر تھے ۔

وہ بتاتے ہیں کہ سبز ہلالی پرچم اور وطن پاکستان کو پوری دنیا میں ایک پرامن مثالی اور اسلامی تشخص کے علمبردار کے طور پر متعارف کرانے کے لئے مزاحیہ مشاعروں کا انعقاد کرنے میں ان کے خاندان کے لوگوں کا بڑا اہم کردار رہا ۔ان میں بے شمار تخلیقی صلاحیتیں تھیں آپ ادبی کتابوں کے مصنف اور طنزومزاح کی دنیا میں انقلابی اصلاحات کے بھی بانی تھے پہلی طنزومزاح ادبی کانفرنس کا سہرہ بھی آپ کے سر ہے آپ نے پوری دنیا میں ظرافت کو روشناس کرانے میں اپنا کردار ادا کیا ۔


اپنے آئیڈیاز اور خوابوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا تعلق جس خانوادے سے ہے وہ لوگوں کو ہنسا تا رہا ہے اور لوگوں کو کہ کہاں دینے والوں میں سے ہے ۔چاہے قربانی ہو یا تعلیم میں بھی اپنے اجداد کی طرح اس ملک اور یہاں کے رہنے والوں کو آئیڈیاز اور تخلیقی کاموں کے ذریعے قسم پرسی افلاس اور تنگدستی سے نکالنا چاہتا ہوں میں چاہتا ہوں کہ میرا ملک جدید ترقی یافتہ ملکوں کی طرح ٹیکنالوجی میں سبقت لے جائے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس جانب توجہ نہیں دی گئی جس کی ضرورت تھی گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم نے ڈیجیٹل پاکستان ویژن کے حوالے سے اعلانات کیے لیکن چراغ تلے اندھیرا جیسی پوزیشن ہے میں چیخ چیخ کر پاکستان کے ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس حوالے سے توجہ مبذول کرانے کی کوشش کرتا رہا ہوں مختلف ٹی وی چینلز پر کاوشوں کا ڈھنڈورا پیٹ چکا ہوں مختلف ٹی وی چینلز کا نام لے کر انہوں نے وہاں پر ہونے والی کاوشوں کا ذکر بھی کیا اور پھر کہا کہ میں مایوس نہیں ہوں لوگوں کو اس بارے میں آگاہی دیتا رہتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آگاہی دے سکوں کہ اپنے آئیڈیاز اور تخلیق کے حوالے سے کاپی رائٹس کروائیں یہ انتہائی اہمیت کی حامل باتیں ہیں لیکن ان پر یہاں کوئی توجہ نہیں دی تاہم کہہ کر چکے ہیں کہ کاپی رائٹ ٹریڈمارک اور پیٹنٹ کے حصول اور فوائد کیا ہیں اس حوالے سے حکومت کو چاہیے کہ عوام کو آگاہی دے تاکہ لوگوں کے علم میں اضافہ ہو اور وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اور حقوق کا تحفظ یقینی بنا سکیں اگر حکومت اور ایف بی آر اس جانب توجہ دیں تو یہ ایک بڑا موقع ہے یہاں ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے لوگوں کے آئیڈیاز چوری ہوتے ہیں اور کاپی رائٹ کے ذریعے انہیں محفوظ بنایا جا سکتا ہے گوگل ٹیلینور زونگ آدم جی انشورنس کے کاپی رائٹس اور بڑی بڑی کمپنیوں کے کاپی رائٹ کے کیسز چلتے رہے ہیں اس اہم معاملے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ساری دنیا نے ان چیزوں کی اہمیت کو تسلیم کر رکھا ہے ہمیں بھی ڈیجیٹل ورلڈ کے تقاضوں اور چیلنجوں کو سمجھنا چاہیے اور اپنے ملک کے ہونہار باصلاحیت لوگوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو تحفظ دینا چاہیے ۔

پاکستانی آئین کو ڈیجیٹلائز کرنے کی خواہش اور خواب کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین جس کے بارے میں ہر شہری کا بنیادی حق ہے کہ وہ اسے جانے مگر افسوس یہ صرف کتابی شکل یہ عدالتی امور میں کام آتے ہیں ایک عام آدمی کو پتہ ہی نہیں کہ حکومت اور آئین پاکستان ہمیں کیا حقوق دیتا ہے اگر آپ اسے آسان اور علاقائی زبانوں میں تراجم کرکے لوگوں کو اس کے بارے میں بتائیں گے تو انہیں زیادہ بہتر انداز سے سمجھنے کا موقع ملے گا