لب کشمیر پر مچلتی ہیں کچھ سلگتی کہانیاں

   لب کشمیر پر مچلتی ہیں کچھ سلگتی کہانیاں  قادر خان یوسف زئی کے قلم سے    مقبوضہ کشمیر موجودہ دنیا کا وہ دیرینہ مسئلہ ہے جسے حل کرنے کے لئے اقوام متحدہ نے کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ قابض بھارتی افواج کی جانب سے کشمیری مزاحمت کاروں اور نہتے نوجوانوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنے والی ہندو انتہا پسند ریاست کے وزیر اعظم نریندرمودی کی ہندو توا کی پالیسیوں نے پوری خطے کو ایٹمی جنگ کے قریب تر کردیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کو خود حق اردایت دینے کے بجائے مودی انتہا پسند سرکار کی جانب سے آئینی حیثیت کوختم، مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل اور جائیداوں کو جبراََ قبضہ کرکے یہود ی طرز پر آبادیاں بنانے کا شرمناک منصوبہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ دنیا اس وقت لاک ڈاؤن کے عمل سے کرونا وائرس کے باعث گذر رہی ہے، انہیں اس اَمر کا بخوبی ادارک ہوگیا ہوگا کہ جب گھروں میں آزاد انسانوں کو قید کردیا جائے اور کوئی رابطہ نہ رہے تو وہ زندگی کتنی دشوار گذارہوتی ہوگی، جب کہ مقبوضہ کشمیر میں آزاد نقل و حرکت تو دور کی بات، انہیں شعائر اسلام کے مطابق اپنی مذہبی روایات پر عمل پیرا ہونے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عالمی طاقتوں کے آشیر باد کے بعد مقبوضہ کشمیر کی قانونی و آئینی حیثیت کو تبدیل کرنے کی گھناؤنی سازش کی۔ ایک طویل ترین لاک ڈاؤن کا سامنا مقبوضہ کشمیر کی عوام کو ہوا تو جیسے آزادی کے ساتھ سانس لینے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہو۔ سلامتی کونسل میں دو مرتبہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال پر رکن ممالک نے اجلاس کیا، لیکن تجارتی و فروعی مفادات کی وجہ سے بھارت کو جارحیت سے روکنے میں پس و پش سے کام لینے کی روش جاری رہی۔ مقبوضہ کشمیر میں پڑھے لکھے نوجوانوں نے قلم چھوڑ کر اپنی آزادی کے لئے ہتھیار اٹھالئے۔ مبصرین کہہ رہے ہیں کہ انڈین حکومت کی طرف سے کشمیریوں کو دوسرے درجے کے شہری بنانے اور یہاں اسرائیلی طرز پر ہندوں کو آباد کرنے جیسی کوششوں سے یہاں کے لوگوں میں خوف ہی نہیں بلکہ بقا کی جنگ لڑنے کی مجبوری کا احساس بھی پایا جاتا ہے، جو آئندہ دنوں میں خطرناک رُخ بھی اختیار کر سکتا ہے۔یہی وہ خدشات ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کو مسلح مزاحمت کی جانب راغب کررہے ہیں، مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی جنگ، کشمیر ی نوجوان ہی لڑ رہے ہیں،، بھارتی حکومت کی جانب سے تحریک آزادی کے خلاف بے بنیاد ہتھکنڈوں کی قلعی اُس وقت کھل جاتی ہے جب جوشیلے اور آزادی کی تڑپ لئے کشمیری بھارتی انتہا پسند فوج کے  سامنے آتے ہیں۔ دنیا یہ عجب نظارہ دیکھتی آرہی ہے کہ نہتے نوجوانوں کے ہاتھوں میں اسلحہ نہیں بلکہ پلے کارڈ، بینر ہوا کرتے تھے، زیادہ شدت ہوئی تو پتھروں کو اپنا ہتھیار بنا لیا، اپنے سینے پر گولیاں کھائیں تو اس اسرائیلی ہتھیاروں کی وجہ سے شہادت اور اپنی بینائی سے محرومی کے ساتھ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی برداشت کیا۔ لیکن جدو جہد آزادی سے پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں ہوئے۔ ہر آنے والا دن مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو مزید طاقت دیتا،لاکھوں انتہا پسند قابض بھارتی فوجیوں کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے۔ اس تحریک آزادی میں صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ کشمیری بہادر بچیاں، بزرگ مرد و خواتین، بچے یہاں تک کہ بھارتی جارحیت سے معذور ہونے والے بھی شامل ہوتے۔ بھارتی جارحیت کی انتہا پسندی کے سرخیل مودی سرکار نے ایسا کوئی مذموم ہتھکنڈا استعمال کرنے میں عار نہیں سمجھا، جو تحریک آزادی کے شعلے کو سرد کرسکے، لیکن جتنا ظلم کیا گیا، اتنا ہی تحریک آزادی کے متوالوں میں جدوجہد کا جذبہ بڑھتا چلا گیا۔ تحریک آزادی تیزی سے پھیلنے شروع ہوئی اور نوجوانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مسلح مزاحمت شروع کردی۔ پڑھے لکھے نوجوانوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود جب یہ دیکھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندو شدت پسندوں کا رویہ سخت سے سخت ہوتا جارہا ہے تو انہوں نے اپنی قوم کی آواز بننے کا فیصلہ کیا اور دنیا نے دیکھا کہ ہندو انتہا پسندوں کے خلاف خوب صورت سجیلے نوجوانوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر آزادی کی شمع کو اپنے لہو سے روشن رکھا۔یہ آزادی کے استعارے،مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے ہی نہیں، بلکہ پوری دنیا میں کمزور طبقوں کے لئے مزاحمت کا استعارہ بن کر ابھرے اور اُن سے جذباتی وابستگی و والہانہ محبت کی مثال دور حاضرہ میں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ 2016  میں برہان وانی کی شہادت نے مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کے دلوں میں تحریک آزادی کی آگ کو مزید بھڑکا دیا۔ ہندو انتہا پسند حکومت کی غلطی فہمی تھی کہ اسلحہ کے زور پر جدوجہد آزادی کو روکا جاسکتا۔ لیکن اس کے الٹ ہوا اور برہان وانی کی شہادت کے بعد بڑی تعداد میں کشمیری نوجوانوں نے تحریک مزاحمت میں شمولیت اختیار کی اور بھارتی انتہا پسند ریاست کے خلاف صف آرا ہوئے۔ بتدریج برہان وانی شہید کے بعد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان تحریک آزادی کا حصہ بنے اور پوری دنیا نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی۔ ان نوجوانوں نے عالمی ضمیر کو جھنجوڑنے کے لئے مجبوراََ مسلح مزاحمت کا سہارا لیا۔ برہان وانی شہید کے علاوہ پروفیر مجاہد ڈاکٹر رفیع نے قابض بھارتی فوج میں لرزا طاری کردیا۔ بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے تسلیم کیا کہ پڑھے لکھے کشمیری نوجوان اب ہاتھوں میں اسلحہ اٹھا رہے ہیں، مقامی نوجوانوں میں عسکریت پسندی کا رجحان بڑھ رہا ہے جو باعث تشویش ہے۔بھارت کے سرکاری اعدادو شمار کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ سال 8 جولائی کو حریت کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد 59 مقامی کشمیری نوجوان عسکریت پسند گروپوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر رفیع شہید ایک سلجھے ہوئے نوجوان تھے، انہوں نے سوشیالوجی میں ماسٹرز کرنے کے بعد انڈیا کے قومی سطح کا امتحان نیشنل ایلیجیبلٹی ٹیسٹ دو مرتبہ پاس کیا اور اس کے لیے انھیں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی جانب سے فیلو شپ بھی ملی۔ انھوں نے بعد میں اپنے مضمون میں پی ایچ ڈی کیا اور گذشتہ برس ہی کشمیر یونیورسٹی کے سوشیالوجی شعبہ میں لیکچرار تعینات ہوئے۔انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوجیوں کی جانب سے ظلم و اپنے دو کزن کی شہادتوں کے بعد اپنی سوچ کو تبدیل کیا، ڈاکٹر رفیع شہید پہلے پروفیسر تھے جو باقاعدہ کسی مسلح تحریک کا حصہ بنے اور شہادت کا درجہ حاصل کیا۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلح شورش شروع ہوئی تو کئی پروفیسر مسلح گروپوں کے حمایتی ہونے میں پراسرار حالات میں شہید کئے گئے۔ ان میں ڈاکٹر عبدالاحد گورو، پروفیسر عبدالاحد وانی، ڈاکٹر غلام قادر وانی اور ایڈوکیٹ جلیل اندرابی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ تحریک آزادی کا ایک اور استعارہ منان وانی  شہید تھے،جنہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی پروگرام ادھورا چھوڑ کر مقبوضہ کشمیر میں جب مسلح جدوجہد کی راہ اپنائی تو انتہا پسند بھارت ہل گیا، وہ سائنس کے طالب علم تھے لیکن تاریخ، مذاہب اور سیاسی مزاحمت سے متعلق بھی وسیع مطالعہ رکھتے تھے۔ وہ اپنے مضامین میں امریکی شہری حقوق کے رہنما میلکم ایکس اور دیگر سیاہ فام مزاحمتی رہنماؤں کے حوالے دیا کرتے تھے۔انہیں بھوپال یونیورسٹی میں عالمی کانفرنس کے دوران بہترین مقالہ کے لیے ایوارڈ دیا گیا تھا، اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق وہ نہایت خالص خیالات پر مبنی تحقیق کے قائل تھے۔انھوں نے ہتھیاروں کی کوئی باقاعدہ تربیت نہیں حاصل کی تھی لیکن ان کے دانشورانہ قد کی وجہ سے کشمیری مزاحمت کاروں میں انہیں قائدانہ فہرست میں شامل کیا گیا۔ منان شہید اُس طویل فہرست میں شامل ہوگئے ہیں جس میں ایسے متعدد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہیں جنہوں نے اپنے کیرئیر کو ادھورا چھوڑ کر بندوق تھام لی۔نوید جٹ، سبزاربٹ کی شہادتوں کے بعد انتہا پسند مودی سرکار کا خیال تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دبانے میں کامیاب ہوگئے ہیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔  حریت پسند ریاض نائیکو اسکول میں ریاضی کے استاد تھے اور 2012 میں مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا تھا۔ جب جولائی 2016 میں برہان وانی شہید کر دیے گئے تو جانشین کے طور پر ان کا نام سامنے آیا۔ بھارتی  قابض  فورسز نے ان پر بارہ لاکھ روپے کا انعام رکھا تھا۔ ان کے ساتھ جنید صحرائی کے بھی محاصرے میں پھنسے ہونے کی اطلاعات تھیں تاہم اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ جنید صحرائی علیحدگی پسند تنظیم حریت کانفرنس کے سرکردہ رہنما محمد اشرف صحرائی کے بیٹے ہیں۔ضلع پلوامہ کا بیگ پورہ ریاض نائیکو کا آبائی گاؤں تھا اور اطلاعات کے مطابق وہ اپنے گھر ملاقات کے لیے آئے تھے۔ بھارتی قابض فورسز نے منگل پانچ مئی کی رات کو علاقے کا محاصرہ کر لیا تھا اور گاؤں کے ہرگھر میں تلاشی مہم شروع کی گئی تھی۔ریاض نائیکو شہید کی شہادت سے مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی کی تحریک میں مزید تیزی آئی ہے اور ریاض نائیکوشہید کے جنازے میں شریک ہزاروں کشمیریوں کی شرکت نے سخت لاک ڈاؤن کی پرواہ کئے بغیر شرکت کی اور بھارت قابض فوج کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ ہندو انتہا پسند جتنی بھی سازشیں کرلیں، کشمیریوں کی جنگ آزادی کو دبایا نہیں جاسکتا۔ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اقوام متحدہ کے چارٹرڈ پر سوالیہ نشان ہیں کہ پڑھے لکھے نوجوان، پروفسیر اور اعلیٰ تعلیم یافتہ کشمیری قلم کے ساتھ مسلح جدوجہد کا راستہ کیوں اختیار کررہے ہیں، آخر مقبوضہ کشمیر پر عالمی برداری کی خاموشی کا مطلب کیا ہے؟ کیاعالمی برداری کسی ایسے حادثے کا انتظار میں ہے کہ بھارتی سازشوں کی وجہ سے خطے میں ایٹمی جنگ چھڑ جائے۔ جھوٹے پروپیگنڈوں اور پاکستانی شہری آبادیوں پر مسلسل گولہ باریوں سے پاکستان کو مشتعل کرنے کی کوششوں کے مذموم مقاصد کیا ہیں۔ اقوام متحدہ کیوں انتظار کررہی ہے کہ بھارت فالس فلیگ آپریشن کرنے کی کوشش کرکے خطے میں نہ رکنے والی جنگ کی شروعات کردے اور پوری دنیا ایٹمی جنگ کے لپیٹ میں آجائے۔ برہان وانی، ڈاکٹر رفیع، ڈاکٹر عبدالاحد گورو، پروفیسر عبدالاحد وانی، ڈاکٹر غلام قادر وانی اور ایڈوکیٹ جلیل اندرابی، منان وانی،نوید جٹ، سبزاربٹ اور اب ریاض نائیکو کی شہادتیں متاضی ہیں کہ اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر پر اپنی قراردادوں کے مطابق عمل درآمد کرائے اور مقبوضہ وادی میں خون و کشت کے بہیمانہ کاروائیوں میں پڑھے لکھے نوجوانوں و مظلوم کشمیریو ں کی مزید شہادتوں کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔