آپ زندگی کو کیسے دیکھتے ہیں؟

انسان شاید اس زمین پر اربوں سال سے آباد ہے، کتنے موسم بدلے، کتنی رُتیں آئیں اور رخصت ہوگئیں، زندگی مخصوص رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ انسان نے کبھی سلطنت، قوموں کا عروج دیکھا، تو کبھی زوال۔ کبھی اسے اپنے ہی جیسے انسانوں کی سفاکی اور شقی القلبی کا ماتم کرنا پڑا تو کہیں‌ اس نے رحم دل اور نہایت مہربان حکم رانوں‌ کی وجہ سے لوگوں کو‌ خوش اور شاد باد پایا۔ غرض کہ انسان نے زندگی کے کتنے ہی روپ دیکھ لیے، لیکن آج بھی یہ اس کے لیے نئی اور پُرکشش ہے۔

انسان زندگی کے بارے میں سوچتا ہے، اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو یہ اشعار اس معاملے میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔

کیف بھوپالی کا یہ شعر دیکھی
زندگی شاید اسی کا نام ہے
دوریاں، مجبوریاں، تنہائیاں

فراق گورکھپوری نے کہا تھا…

موت کا بھی علاج ہو شاید
زندگی کا کوئی علاج نہیں

اصغر گونڈوی کا یہ شعر دیکھیے۔

چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موجِ حوادث سے
اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے

معین احسن جذبی نے کہا…

مختصر یہ ہے ہماری داستانِ زندگی
اک سکون دل کی خاطر عمر بھر تڑپا کیے

شاہد کبیر کا شعر ہے…

زندگی اک آنسوؤں کا جام تھا
پی گئے کچھ اور کچھ چھلکا گئ