ملازمین کے تحفظ کیلئے بینکوں نے 23 ارب روپے قرضہ جاری کیا

اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری بیان کے مطابق قرضوں سے 2 لاکھ 20 ہزار ورکرز کی ملازمتوں کو تحفظ ملے گا۔

اسٹیٹ بینک سے جاری بیان کے 1100 کمپنیوں کی 90 ارب روپے کے قرضوں کی درخواستیں زیر غور ہیں۔ درخواستوں کی منظوری سے 8لاکھ 50 ہزار ملازمتوں کو محفوظ بنایا جائے گا۔

اسٹیٹ بینک کے ملازمین کو 3 ماہ تک برطرف نہ کرنے والی کمپنیوں کو 3 فیصد شرح سود پرقرض فراہم کررہا ہے۔

گزشتہ روز مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا تھا کہ کئی کاروبار بند اورمزدوروں کے بے روزگار ہونے کا خطرہ ہے۔

مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کورونا کی وجہ سے دنیا میں تبدیلیاں آئی ہیں اور آئندہ کاروبار کے طریقہ کار بالکل مختلف ہوں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ مشکل وقت میں نئے مواقع پیدا ہوں گے اور یہ میک ان پاکستان پالیسی کو اپنانے کا سنہری موقع ہے۔

عبدالرزاق داؤد نے کہا تھا کہ کئی کاروبار بند اورمزدوروں کو بے روزگاری کا خطرہ ہے تاہم پاکستان میں مینوفیکچرنگ کو بڑھانا وقت کی ضرورت ہے.

اس سے قبل مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی برآمدات 21 سے 22 ارب ڈالر اور ملکی درآمدات کا حجم 42 ارب ڈالر تک رہنے کا امکان ہے جب کہ ترسیلات زر میں نمایاں کمی کا خدشہ ہے۔

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت مالیاتی پالیسی بورڈ کا اجلاس ہوا تھا جس میں گورنر ا سٹیٹ بینک، سیکریٹری خزانہ اور ڈپٹی چیئرمین منصوبہ بندی کمیشن سمیت دیگر حکام نے شرکت کی تھی۔

شرکا کو کورونا سے پہلے اور بعد کی صورتحال اور معیشت پر اثرات پر بریفنگ بھی دی گئی۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کورونا سے پہلے جی ڈی پی گروتھ 3.24 فیصد تھی جو اب کم رہنے کا امکان ہے تاہم اقتصادی ریلیف پیکج کے مثبت اثرات ہوں گے

اجلاس کے دوران بتایا گیا تھا کہ پرائمری بیلنس جولائی سے مارچ تک 104 ارب سرپلس رہا۔ گورنرا سٹیٹ بینک کی مالیاتی خسارہ کم کرنے کی کوششوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہم نے پالیسی ریٹ میں 425 پوائنٹس کمی کی ہے۔

ڈپٹی چیئرمین منصوبہ بندی کمیشن نے بتایا کہ کورونا کے باعث صارف اور سرمایہ کار کا اعتماد کم ہوا ہے، حکومت کاروبار کے لیے امور آسان کرنے سمیت اس پر دباوَ کم کرے۔

Courtesy Humnews Urdu