بڑی پیشرفت ۔ڈیجیٹل کرونا انشورنس ایپ تیاری کے آخری مراحل میں ۔ظفیر الحق قاسمی پیرزادہ کی خصوصی گفتگو

ڈیجیٹل بینکنگ میں اپنی بہترین تخلیقات کے ذریعے عالمی شہرت حاصل کرنے والے پاکستانی ظفیر الحق قاسمی پیرزادہ نے پاکستانیوں کو ایک اور بڑی خبر دے دی ہے کرونا وائرس کی موجودہ صورتحال میں ایک بہت بڑی پیش رفت ہوئی ہے ڈیجیٹل کرونا انشورنس ایپ تیاری کے آخری مراحل میں داخل ہوگیا ہے ۔Covid.19

ڈیجیٹل موبائل انشورنس کے ذریعے 15 دن کے لیے انشورڈ ہونگے اگر خدانخواستہ آپ اس دو بابا کا شکار ہوگئے تو علاج ادویات اور اسپتال کے اخراجات انشورنس کمپنی ادا کرے گی ۔پاکستان جیسے ملک میں یہ بہت بڑی پیش رفت ہے جس میں شہریوں کو ایک بہت بڑی ذہنی پریشانی سے نجات مل جائے گی کیونکہ لوگ سب سے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ اگر خدا نہ خواستہ وہ بیمار ہوگئے تو علاج کا خرچہ کون اٹھائے گا ۔یہی وہ سوچ ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ عام بیماریوں میں بھی اسپتال کا رخ نہیں کرتے کیونکہ وہ اسپتال کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے اس لئے اپنی بیماریوں کو چپ چاپ سہتے رہتے ہیں ۔
جناب ظفیر الحق قاسمی نے بتایا کہ ایپ سماجی رابطے کی ویب کی طرز پر کام کرے گی خودکار نظام کے تحت ایپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کرنے پر Covid.19
ڈیجیٹل انشورنس ہو جائے گی

15 دن کے لیے انشورنس کے ساتھ میڈیکل کی تمام سہولیات اور مفت ایم بی ایس کی فراہمی بھی شامل ہے ۔پاکستان میں یہ اپنی طرز کی منفرد اور انوکھی سہولت ہے جسے عالمی معیار کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے یہ ایپ اس بات کی ضمانت ہے کہ پاکستان اب اکیسویں صدی میں داخل ہوچکا ہے اور اپنے شہریوں کی طبی سہولیات اور انشورنس کے حوالے سے بھرپور خدمت انجام دے سکتا ہے شہریوں کا خیال رکھتا ہے اور شہریوں کو تحفظ دے سکتا ہے یہ ایک ایسے موقع پر تیار کی گئی ہے جب پوری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے اور اس سے پیدا شدہ صورت حال سے نبرد آزما ہیں اور پوری دنیا کے سائنسدان کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے وسطی اقدامات اور ویکسین کی تیاری میں دن رات مصروف عمل ہیں اور اس صورتحال سے ہر شخص پریشان ہیں ذہنی طور پر الجھا ہوا ہے کہ سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کریں اور کیا نا کریں ان حالات میں ظفر الحق قاسمی جو عالمی سطح پر ڈیجیٹل بینکنگ کے حوالے سے اپنی خاص پہچان اور شناخت رکھتے ہیں اور اس سے پہلے تھیم ایکسپریشن کے حوالے سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں ان کی تحقیق کو عالمی سطح پر اعتراف کیا جاچکا ہے

اب انہوں نے اس اچھوتے موبائل ایپ کو متعارف کرانے کا سہرا بھی اپنے سرسجالیا ہے یہ اپنی نوعیت کی پہلی موبائل ایپلیکیشن ہوگی جو سماجی رابطے کی ویب کے طرز پر کام کرے گی اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بیک وقت پوری دنیا میں متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ نافذالعمل ہوگی یہ منفرد ایپ خودکار طریقے سے ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے والوں کو انشورڈ کرتی جائے گی اس موبائل ایپ کے ذریعے خود کار طریقے سے قریبی ہسپتال یا ڈاکٹر سے رابطہ ہو جائے گا آٹو ٹریننگ کے ذریعے سے مریض کو سہولیات فراہم کی جائیں گی اس کے ذریعے مریض 15 دن کے لیے انشوڈ ہو جائے گا اگر خدانخواستہ آپ اس بار کا شکار ہوگئے تو علاج ادویات اور اسپتال کے اخراجات انشورنس کمپنی ادا کرے گی خدانخواستہ وفات پانے کی صورت میں لواحقین کو اخراجات کی مد میں تعلیمی اخراجات یوٹیلیٹی بلز اور کرایہ کی ادائیگی ایک سال تک نہیں جائے گی واضح رہے کہ پوری دنیا میں کرونا انشورنس کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا اور یہ اعزاز بھی پاکستان کو حاصل ہو رہا ہے اس سلسلے میں ہم وزارت صحت حکومت پاکستان ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی رہنما اور اداروں سے رابطے میں ہیں اور اس پروجیکٹ کو پاکستان میں ہمارا ادارہ ورلڈ ڈیجیٹل انشورنس فاؤنڈیشن دنیا کی بہترین انشورنس کمپنیوں کے ساتھ مل کر لانچ کرنے کی تیاری میں مصروف ہیں اس سلسلے میں ملٹی نیشنل اور نیشنل انشورنس کمپنیوں سے رواں ہفتے ایم او یو پر دستخط متوقع ہیں ۔
رپورٹ صبیح سالک۔برائے جیوے پاکستان ڈاٹ کام