یادوں کے جھروکوں سے-وکالت سے سول جج کے امتحان تک

یادوں کے جھروکوں سے

عابد حسین قریشی

وکالت سے سول جج کے امتحان تک

سیالکوٹ میں بڑے مختصر عرصہ وکالت کا ذکر اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک اُس وقت کے عدالتی ماحول کی ہلکی سی جھلک پیش نہ کر دی جائے۔ یوں تو وہاں کئی ایک جج تعینات تھے اور پھر بعد ازاں ہزاروں سے واسطہ پڑا۔ مگر دو کردار ایسے زبردست ہیں کہ موجودہ دور کے جوڈیشل افسران کے لیے رہنمائی کا کافی سامان موجود ہے بشرطیکہ اُس طرح کے حالات کار آج بھی دستیاب ہوں۔

سیالکوٹ میں اُس وقت ایک بڑے ہی نامور۔ اعلی صلاحیتوں سے مالا مال نڈر اور بے باک سیشن جج شیخ سعید احمد تعینات تھے۔ جو بعد ازاں MIT اور سنیئر سپیشل جج اینٹی کرپشن بھی تعینات رہے۔ کمال کے آدمی تھے۔ چھوٹا سا قد مگر بے خوفی کا یہ عالم کہ اُن دنوں جنرل ضیا الحق کے مارشل لاء میں نیا نیا حدود آرڈیننس کا اجرا ہوا تھا۔ صرف FIR پڑھنے کو کہتے اور با آواز بلند یہ کہہ کر حدود کے مقدمہ میں ضمانت کنفرم کر دیتے کہ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں اور یہاں لوگوں کو کوڑے مارے جا رہے ہیں۔ اپنی پہلی درخواست ضمانت جو کہ چوری کے مقدمہ میں لیکر پیش ہوا اور چوری بھی مسجد سے پنکھوں کی جو ایک جھوٹا مقدمہ دو عمر رسیدہ نمازیوں کے خلاف سیاسی رنجش کی بنا پر درج کرایا گیا تھا۔میرے لفافہ کھولنے سے قبل اور میری گھبراہٹ کو بھانپتے ہوئے سیشن جج صاحب نے سرکاری وکیل سے پوچھا کہ کیا کیس ہے۔ اُس نے کہا کہ مسجد سے پنکھے چوری ہوئے ہیں۔ صرف یہ کہہ کر ضمانت کنفرم کر دی کہ بھائی یہ اللہ اور بندوں کا معاملہ ہے۔ میں اور آپ کون ہوتے دخل دینے والے۔ شیخ صاحب کی جسٹس کیانی کی طرح مزاحیہ جملوں اور تیز و تند تقریروں سے براہ راست لطف اندوز ہونے کا موقعہ ملا۔ جس جرت، بے باکی اور دلیری سے وہ مارشل لاء پر تنقید کرتے تھے ایک سحر طاری ہوجاتا اور ساتھ ان کے چُٹکلوں سے بار روم میں وکلاء لوٹ پوٹ ہو جاتے۔

اُنہی دنوں وہاں ضلع سیالکوٹ جو ڈسکہ سے شکرگڑھ تک پھیلا ہوا تھا صرف ایک ہی ایڈیشنل سیشن جج ملک محمّد رمضان مرحوم ہوا کرتے تھے۔اُن کی قانون پر گرفت، اہلیت اور سپیڈی ڈسپوزل پر سیالکوٹ بار فریفتہ تھی اور ہماری طرح کے نوجوان وکیل انکی قابلیت اور کورٹ ہینڈلنگ سے انسپائر تھے۔ ایک روز قبل سہ پہر کو بار روم میں ملک صاحب کی عدالت کی کاز لسٹ پہنچ جاتی تھی۔ جن اپیلوں یا فوجداری مقدمات پر سرخ نشان لگا ہوتا اُن میں ہر صورت کاروائی ہونا ہوتی تھی۔ التوا کا کوئی جواز نہ تھا۔ آج کے جج صاحبان کے لیے شاید یہ سب کچھ خواب و خیال ہو کہ کبھی ڈسٹرکٹ جوڈیشری اسطرح کے حالات میں بھی دلیری سے مگر چین و سکون سے کام کر رہی تھی۔

صُبح لسّی کا ایک جگ ملک صاحب کے سامنے ہوتا اور عدالتی کاروائی شروع ہو جاتی۔ پہلا آدھا گھنٹہ درخواست ہائے ضمانت کے لیے اور پھر اگلے ڈیڑھ سے دو گھنٹہ سول اپیلوں کے لیے۔ آج یہ بات شاید ناقابل یقین لگے کہ ڈیڑھ سے دو گھنٹہ میں پندرہ سے بیس اپیلیں روزانہ Contested اور سارے فیصلے روبرو عدالت کہ ساری سرخ نشان زدہ فائلیں گھر سے پڑھ کر آئے ہوتے۔ اس کے بعد وقفہ کرتے اور مرڈر ٹرائل شروع ہو جاتا جو ٹھیک تین دن بعد مکمل کر کے فیصلہ کر دیا جاتا۔ متزکرہ بالا دونوں جج صاحبان کی ورکنگ دیکھ کر یہ اندازہ ہوا کہ ایک اچھے جج کے لیے قابلیت کے ساتھ ساتھ اُس کا دلیر اور نڈر ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ کیا زمانہ تھا۔ کیا لوگ تھے۔ افسوس کے سب نایاب ہو گئے۔

“ اب انہیں ڈھونڈ چراغ رُخ زیبا لےکر”

وکالت سے کوئی قابل ذکر آمدن نہ تھی مگر صبر و قناعت تھی۔ وسائل محدود مگر دلوں میں کشادگی تھی۔ عدالت کا عزت و احترام تھا۔ سینئرز کے سامنے کھڑا ہونے اور بات کرنے میں رکھ رکھاؤ تھا۔ سینئر کا بار میں رُعب و دبدبہ ہوتا تھا۔ وہ اپنے جونیئر کی اخلاقی تربیت بھی کرتے تھے اور عدالتی آداب سے آگاہی بھی۔ بد قسمتی سے پچھلے کچھ سالوں سے جو بار میں مسائل پیدا ہوئے ہیں اُنکی ایک اہم وجہ سینئر وکلاء کا غیر فعال ہونا بھی ہے۔ اب بار کی سیاست اور دیگر معاملات نوجوان وکلاء کے ہاتھ میں آچکے ہیں۔ پرانے سینئرز اور پروفیشنل وکلاء یا تو دنیا سے اُٹھ گئے یا خاموشی سے وقت گزار رہے ہیں۔

یہ جولائی 1981 کا کوئی دن تھا کہ اپنا دوست ذولفقار حیات جو کالج میں ہم سے ایک سال سینئر تھا اور بڑے ہی نفیس اور حلیم الطبع بزرگ وکیل مراد حیات ایڈوکیٹ کا بیٹا تھا۔ اُنکا گھر عدالتوں کے ملحقہ تھا۔ بڑا ہی خوبصورت انسان اور ہم بھی دوستی میں گرم جوش۔ میرے پاس آئے اور کہا کہ سول جج کا امتحان اکتوبر 1981 میں ہو رہا ہے۔ یہ لو فارم اور پُر کر کے جمع کراؤ۔ میں نے صاف انکار کر دیا۔ پتہ نہیں کیوں میں ابھی مقابلہ کہ کسی امتحان کے لیے ذہنی طور پر تیار نہ تھا۔ ذولفقار حیات نے اصرار کیا میں نے انکار کیا۔ تھوڑی سی تکرار بڑھی تو اُس نے کہا کہ شریف آدمی میں اکیلا نہیں پڑھ سکتا۔ مجھے تیاری کے لیے ایک آدمی کے ساتھ کی ضرورت ہے۔ اور کوئی بھی تیار نہیں ہو رہا۔ اسلیے اب میرے پاس انکار کی گنجائش نہ تھی۔ میں نے فارم پر ستخط کر کے اسکے حوالہ کر دیے کہ کمبینیشن بھی خود ہی سلیکٹ کر لو۔

آج پیچھے مُڑ کر دیکھتا ہوں تو ذولفقار حیات زندگی میں ایک بہت بڑے مُحسن کے طور پر نظر آتا ہے۔ میری زندگی میں بڑے خوشگوار ٹرننگ پوائنٹ ہیں۔ جنہیں میں معجزے یا خدائی غیبی مدد سمجھتا ہوں۔ جس طرح لاء کالج میں داخلہ کے وقت قدرت نے میاں آصف کو یونیورسٹی اولڈکیمپس بھیجا تھا اسی طرح اُس روز ذولفقار حیات ہاتھ میں فارم لیے قدرت کی طرف سے مجھے سول ججی گھر دینے آیا تھا۔ واہ میرے اللہ تیرا کس طرح شکر ادا کروں۔ تو جب نوازنے پر آتا ہے تو کیسے کیسے طریقہ سے نوازتا ہے۔

بہرحال کچھ ابتدائی اصول طے کرنے کے بعد جن میں ایک یہ بھی تھا کہ پڑھائی صبح دس بجے سے چار بجے سہ پہر تک ہو گی کہ اس کے بعد میں نے والی بال کھیلنا ہوتا ہے۔ پڑھائی میں ناغہ تو ہو سکتا تھا مگر والی بال میرا جنون تھا۔ دوپہر کو ذولفقار کی والدہ محترمہ بڑے پیار سے کھانا کھلاتیں۔ ٹھیک چار بجے پڑھائی کا سیشن ختم ہو جاتا۔ پنجاب پبلک سروس کمیشن کے زیر اہتمام اکتوبر 1981 میں PCS جوڈیشل کا لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں تقریباً ایک ہفتہ تک امتحان چلتا رہا۔ جنوری 1982 کے وسط میں رزلٹ آگیا۔ تقریباً 700 سے زائد امیدواروں میں سے صرف 14 تحریری امتحان پاس کر سکے۔ 42 سیٹوں کے لیے مقابلہ تھا۔ پاس ہونے والوں میں میں بھی شامل تھا۔ یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ ایک نان سیریس امیدوار اسطرح مقابلہ کے امتحان میں پاس ہو سکتا ہے۔ میرے والی بال کے دوستوں کو بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں نے یہ بات ان سے چھپائی ہوئی تھی۔

بہرحال اس کے بعد انٹرویو کا مرحلہ درپیش تھا۔ میں نے چونکہ زیادہ وکالت نہ کی تھی اسلیے قانون کے عملی تجربہ سے کوئی زیادہ شناسائی نہ تھی۔ بہرحال جب قدرت مہربان ہو تو وہ غیب سے بھی مدد کے سامان فراہم کر دیتی ہے۔ یوں ہوا کے PCS کے امتحان میں میرا رول نمبر 18 تھا اور انٹرویو کے لیے سب سے پہلے مجھے ہی اندر بلوایا گیا۔ عدالت عالیہ کے دو معزّز جج صاحبان جسٹس اے۔ ایس سلام مرحوم اور جسٹس میاں محبوب احمد بھی پینل میں شامل تھے۔ ایک نیک نام آئی۔سی۔ایس آفیسر ایم۔ایچ صوفی کمیشن کے چیئرمین تھے۔ جب انٹرویو شروع ہوا تو اس دوران چیئرمین صاحب میری اسناد اور دیگر کاغذات چیک کر رہے تھے کہ انکی نظر ہمارے سیالکوٹ کے کالج کے پرنسپل اصغر سودائی کی طرف سے لکھے گئے چند حروف جو میرے کریکٹر سرٹفیکیٹ کے ساتھ لف تھے پر پڑی۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ یہ وہی اصغر سودائی ہیں جنہوں نے مشہور نعرہ پاکستان کا مطلب کیا لا اله الا الله تخلیق کیا۔ میرا جواب اثبات میں پا کر وہ دیگر فاضل ممبران سے یوں مخاطب ہوئے کہ “ اس امیدوار کا تعلیمی کیریر بڑا اچھا ہے اور اصغر سودائی نے اسے بڑا اعلیٰ Rate کیا ہے” یہ سب کچھ ایک غیبی امداد کے طور پر ہو رہا تھا۔ اسکے بعد انٹرویو کا رنگ بدل گیا ۔ اصغر سودائی صاحب نے علامہ اقبال کالج سیالکوٹ چھوڑتے وقت جو الفاظ کریکٹر سرٹیفیکیٹ میں لکھے انہیں یہاں Re-Produce کرنا مناسب خیال کرتا ہوں۔

Mr. Abid Hussain Qureshi has been a student of this college from 1973 to 1977. He has been one of those distinguished students who leave their mark in the history of the college by virtue of obedience, submission and dutifulness. He has a strong sense of personality alongwith immense qualities of leadership.

He stood first in his Inter Examination as well as in B.A. with distinction in the college. He has been the best debator/speaker in the college during the said entire period and has won a number of trophies and certificates of excellence. He is also a good writer and has contributed articles to the college Magazine. I have a personal regard for him and wish him a good, safe and happy future.”

یہ سب اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات ورنہ اپنی اہلیت اور قابلیت سے کون آگاہ نہیں ہوتا۔ مگر جب قدرت جسے میں Divine Destiny کہتا ہوں کوئی کام کرنے کا فیصلہ کرے تو وہ کام ہو جاتا ہے۔ قدرت نے وکالت کی محنت سے اس وقت بچا لیا اور سول ججی کے امتحان میں نمایاں پوزیشن میں کامیاب کرا دیا۔

چودہ لوگ جنہوں نے تحریری امتحان پاس کیا اُن میں سے ایک انٹرویو کی نذر ہو گیا۔ بقیہ تیرہ کامیاب امیدواروں میں نیب کے موجودہ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل چوہدری خلیق الزمان نے ٹاپ کیا جو ایک اچھے اور کھرے دوست ہیں۔ میرٹ میں میرا نمبر چوتھا تھا۔ بقیہ کامیاب ہونے والوں میں جن کے نام یاد رہ گئے اُن میں سابق رجسٹرار صلاح الدین، امجد پرویز، ملک نسیم حسن، شوکت علی ساجد، عبد الکریم لنگاہ، طاہر کاظمی، ملک ریاض کھوکھر اور اللہ بخش ڈھانڈلہ وغیرہ شامل تھے۔ بلآخر جولائی کے پہلے ہفتہ میں میری پہلی پوسٹنگ بطور سول جج اوکاڑہ ہو گئی۔