مارکیٹ میں بہت بڑے پیمانے پر ادویات کی شارٹیج ہونے کا خدشہ ہے

عالمی سطح پر پاکستان کی پہچان بننے والے مایہ ناز ڈاکٹر شیخ قیصر وحید پہلی مرتبہ کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال میں زمینی حقائق پر کھلی گفتگو کر رہے ہیں

وہ پاکستان فارما مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق سربراہ کی حیثیت سے پاکستانی فارما انڈسٹری کو درپیش مشکلات مسائل اور چیلنجوں پر گہری دسترس رکھتے ہیں اور حکومتی مشینری کی استداد اور گنجائش سے بھی پوری طرح باخبر ہیں وہ میڈی شور لیبارٹریز پاکستان لمیٹڈ کے صدر اور سی ای او بھی ہیں ان کا شمار پاکستان کے انتہائی قابل پروفیشنلز میں ہوتا ہے


انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے سائنس میں آنرز اور باعزت ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کیں او پاکستان اور بیرون ملک متعدد مارکیٹنگ اینڈ سیلز مینجمنٹ کورسز میں شرکت کر چکے ہیں انہوں نے فارماسیوٹیکل کیریئر کا آغاز انیس سو اٹھتر میں کیا انہیں بہترین ساکھ کی حامل مختلف ملٹی نیشنل اور نیشنل فارما کمپنیز کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا

انہوں نے فارماسٹیکل مارکیٹنگ میں پی ایچ ڈی کر کے ڈاکٹر یٹ کا اعزاز حاصل کیا ۔انہوں نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ہیلتھ کمیٹی کی سربراہی بھی کی اور وہ پاکستان میں صحت کے مسائل کے حوالے سے انتہائی گہرا مشاہدہ اور وسیع تجربہ رکھتے ہیں
رونا سے پیدا شدہ صورت حال نے انہوں نے جیوے پاکستان ڈاٹ کام کے ایگزیکٹو ایڈیٹر محمد وحید جنگ سے خصوصی گفتگو کی ہے

جس میں انتہائی چونکا دینے والے باتیں سامنے آئی ہیں اس کی تفصیلات
ملاحظہ فرما یں

دیکھیں موجودہ صورتحال میں ملکی اور ملٹی نیشنل فارما کمپنیوں کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ادویات کی فراہمی کو جاری رکھا جائے کیونکہ اگر کسی بھی قسم کی دوا کی کسی بھی سطح پر کمی واقع ہوجائے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان مریض کو اٹھانا پڑتا ہے ویسے بھی اس وقت انتہائی حوصلہ شکن صورتحال ہے مریض باہر نہیں جا سکتا اسپتال والے مریض کو لے نہیں رہے کنسلٹنٹس اپنے کلینک میں نہیں بیٹھ رہے جنرل پریکٹیشنرز والوں نے کلینک بند کئے ہوئے ہیں تو ایک عام مریض جو پہلے گھر کے قریب کسی بھی ڈاکٹر کو یا کلینک پر خود کو دکھا لیتا تھا اس کے لیے بہت بڑا مسئلہ اور چیلنج بن گیا ہے اب یہ چیلنج ایک طرح سے فارماسٹیکل انڈسٹری پر منتقل ہو رہا ہے کیونکہ فارما انڈسٹری کی جو سیل ہوتی تھی کیوں کہ کنسلٹنٹس حضرات اپنے کلینک پر بیٹھ کر دو یا لکھتے تھے وہ سیل اب رک گئی ہے آپ کو بتاتا چلوں کہ فارما انڈسٹری میں ہمارے تین قسم کے شعبے ہوتے ہیں ایک قسم ایسی دعائوں کی ہوتی ہے جو وقتی بیماریوں جیسے نزلہ کھانسی درد وغیرہ سے متعلق ہوتی ہیں دوسری قسم ایسی دوائیوں کی ہوتی ہے جو کرونک بیماریوں سے تعلق رکھتی ہیں جیسے شوگر ہے بلڈ پریشر ہے دل کے امراض ہیں ڈپریشنز ہیں۔ کچھ دوائیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں شوقیہ فنکار ہی کہتے ہیں جیسے وٹامنز ہوتے ہیں جن کا تعلق کسی بیماری سے نہیں ہوتا ۔تو کرونک بیماریوں کی جو ادویات ہیں ان کی سیل میں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔مریض دکان پر جاتا ہے اور میڈیکل سٹور والے کو پرانی ڈبی دیتا ہے یا پرانا نسخہ دکھاتا ہے اور دعائیں لے لیتا ہے لیکن وہ دوائیاں جو جی پی لکھتا تھا اینٹی بائیوٹیک لگتا تھا کوئی دوائی لکھتا تھا ڈپریشن کی یہ انزائٹی کی ۔اس طرح بہت سی دوائیاں ہیں جیسے معدے کی دوائیاں ہیں سر درد کی دوا یاں ہیں ۔وہ سیل ختم ہوگئی ہے اور وہ سیل انڈسٹری کی تقریبا 60 فیصد کے قریب بنتی ہے اب اس کا اثر فارما انڈسٹری پر آرہا ہے کیونکہ ڈسٹریبیوٹر بھی متاثر ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں ہماری سہیل نہیں ہے سپلائی نہیں ہے جو بھی معاملہ ہے ۔
اس کے علاوہ دوسرا بڑا چیلنج جو موجود ہے اور آنے والے دنوں میں بڑھے گا وہ یہ ہے کہ ہمارے پڑوسی ملک سے را مٹیریل کی فراہمی بند ہے وہاں لاک ڈاؤن ہے اور جو چین سے را مٹیریل آتے تھے ان کمپنیوں نے اپنے فریٹ ریٹ 400 فیصد بڑھا دیئے ہیں
یعنی ایک روپے کی چیز اس وقت وہ چالیس روپے کی ریٹ ریٹ پر دے رہے ہیں اس وجہ سے مجموعی لاگت متاثر ہو رہی ہے کچھ کمپنیوں کو ہوسکتا ہے فائدہ ہو تو وہ اس ریٹ پر بھی فری ٹریڈ پر بھی منگوا لینا مٹیریل لیکن زیادہ تر کمپنیاں اس پر کئی دفعہ سوچیں گی اوراس کا نتیجہ بہت جلد نکلے گا کہ مارکیٹ میں بہت بڑے پیمانے پر
مارکیٹ میں بہت بڑے پیمانے پر ادویات کی شارٹیج ہونے کا خدشہ ہے

بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری حکومت یہ والی حکومت یا اس سے پہلے والی حکومت جب ماضی کی تمام حکومتیں انہوں نے پاکستان کی فارم انڈسٹری کو صحیح طریقے سے اہمیت نہیں دی جس طرح کی وہ پالیسی اور پیکج دیتے ہیں اس میں فارما انڈسٹری کو صحیح معنوں میں فائدہ نہیں ہوتا ۔یہ انتہائی غلط تصور پایا جاتا ہے کہ فارما انڈسٹری کے لوگ بہت امیر لوگ ہیں آپ کو بتاؤ کہ پاکستان میں ٹوٹل انڈسٹری میں سب سے زیادہ جو لوگ امیر ہیں وہ کون لوگ ہیں جن کے پاس سب سے زیادہ سرکولیشن ہے وہ کھانے پینے کی چیزیں بنانے والے لوگ ہیں اس کے بعد ٹیکسٹائل کے لوگ ہیں ۔جو کمپنیاں ٹافیاں بناتی ہیں یہ بلغم اور ٹافیاں وغیرہ جن کے نام بھی کسی نے نہیں سنے ہوتے وہ ایک ارب ڈیڑھ ارب کی کمپنیاں بن چکی ہیں میں گوجرانوالہ کی ایک کمپنی کو جانتا ہوں جس کا نہ کوئی نام ہے نہ کوئی برانڈ ہے وہ ڈیڑھ دو ارب روپے کی سیل کرتی ہے۔جبکہ پاکستان کی تمام فارما انڈسٹری 3ارب کی ہے جو 22 کروڑ لوگوں کو ادویات فراہم کرتی ہے ہماری انڈسٹری کے جو لوگ ہیں وہ پڑھے لکھے لوگ ہیں صاف ستھرے لباس میں رہتے ہیں اچھی گاڑی استعمال کرتے ہیں باہر سے پڑھ لکھ کر آئے ہوئے ہیں ان کا ایک لائف اسٹائل ہے تو سرکار کو لگتا ہے کہ یہ لوگ بہت مالدار لوگ ہیں ۔
دوسری بدقسمتی یہ ہے کہ فارم سیکٹر کے لوگ بہت کم حکومتی ایوانوں میں گئے ہیں ایک مرتبہ کراچی سے گئے تھے اور اب ایک صاحب مردان سے گئے ہیں لیکن جو فیصلہ ساز شخصیات ہیں پارلیمنٹ میں جو وزیر بنتے ہیں اور آپ کو پتا ہے جس طرح فیصلے کرتے ہیں ۔انکا ادویہ سازی سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ ٹیکسٹائل والے ہوتے ہیں یا سیمنٹ والے ہوتے ہیں یا فوڈ انڈسٹری سے ان کا تعلق ہوتا ہے یا وہ بڑے بڑے ایگریکلچر لسٹ ہیں اور ہزاروں ایکڑ زمین کے مالک ہیں زیادہ تر پارلیمنٹ میں 60 سے 70 فیصد جو لوگ آتے ہیں وہ زیادہ تر لینڈ اونرز ہوتے ہیں انکا انڈسٹری سے کوئی تعلق نہیں ہے نہ ہی انہیں انڈسٹری کے بارے میں کچھ تصور ہے وہ سبسیڈی لیتے رہتے ہیں ہر قسم کی سب سے بڑی لیتے ہیں کیونکہ پاور میں بیٹھے ہوتے ہیں ہمیشہ ہی یہ لوگ پاور میں رہتے ہیں آج بھی ایک بہت طاقتور صاحب ہیں جو وزیر بھی ہیں پہلے وہ ایکٹنگ پرائم منسٹر اور صدر بھی رہے ہیں یہ لوگ پارٹیاں بدل بدل کر پاور میں ہی رہتے ہیں جب ہو ا بدلتی ہے یہ لوگ پارٹی بدل کر پاور میں ہی رہتے ہیں فارما انڈسٹری کے لوگ ایسی پوزیشن میں نہیں ہے جو بات اوپر تک پہنچا سکے جہاں فیصلے ہوتے ہیں اس لیے فارما انڈسٹری ہمیشہ بد نام ہوتی ہے اور نقصان اٹھاتی ہے اور مسائل کا سامنا کرتی ۔

تیسری اہم بات یہ ہے کہ ہر آدمی کہتا ہے کہ دوائیاں بہت مہنگی ہیں ۔جو لوگ یہ باتیں کرتے ہیں میں انہیں آپ کے توسط سے چیلنج کرتا ہوں کہ انہیں پتہ ہی نہیں ہے کہ دوائیوں کی قیمت کیا ہے کیسے ہوتی ہے اور کتنی ہونی چاہیے ۔پارلیمنٹ کے لوگوں کو تو پارلیمنٹ کی وجہ سے مفت میں دوائیاں ملتی ہیں اور وہ شغل میلے کے طور پر اس طرح کے بیان دے دیتے ہیں ۔
پھر ایک اور جملہ کہا جاتا ہے دوائیاں جعلی ہیں ۔حالانکہ انہیں پتہ نہیں ہے کہ جعلی دوا کیا ہوتی ہے ۔یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ انہیں حقیقت کا پتہ ہی نہیں ہے میں ان کی معلومات کے لئے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان وہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں دنیا کی سستی ترین دوائیاں ملتی ہیں اور جو لوگ پڑوسی ملک کی دوائیوں کی قیمت سے موازنہ کرتے ہیں ان کی معلومات کے لئے بھی عرض ہے کہ 60 فیصد دوایا ں پاکستان میں ایسی ہیں جو پڑوسی ملک سے بھی ہستی ہیں
ان کے ملک میں دوائیاں سستی ہوسکتی ہیں کیونکہ را مٹیریل وہ خود بناتے ہیں پیکنگ میں پیروں خود بناتے ہیں ہمارے ملک میں تو صرف 5 فیصد رامیٹریل بنتا ہے باقی 95فیصد را مٹیریل تو ہم امپورٹ کرتے ہیں اس کے باوجود ہم ان سے سستی دوائیاں بنا رہے ہیں ایک آدھ دوا کوئی پاکستان میں مہنگی ہوگی دنیا سے ۔اور ایک اور اہم بات میں کرنا چاہتا ہوں کہ بیڈ پبلسٹی بہت ہے یہ میڈیا کا کمال ہے کہ میڈیا کے پاس خبر ہی نہیں ہے تو وہ دواؤں کے حوالے سے اس طرح کی خبریں چلا دیتے ہیں کہ دوائیں مہنگی ہیں دوائی جعلی ہیں ایک میڈیا میں تو ایک صاحب بیٹھے ہوئے ہیں ان کا کام ہی یہی ہے ۔

ڈرگ ایکٹ کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ 1976 کی بات ہے جب بھٹو صاحب کا دور تھا نیشنلائزیشن کا دور تھا تب یہ ڈرگ ایکٹ بنا تھا ان کا نظریہ تھا کہ ساری انڈسٹری کو حکومت کے کنٹرول میں ہونا چاہیے ۔تو انہوں نے ایک کلاس ڈال دی جسے ہم ڈرگ ایکٹ کی سب سیکشن 12 کہتے ہیں ۔جس کے تحت وفاقی حکومت نے یہ اختیار اپنے پاس رکھا ہوا ہے کہ ایک ٹیبلٹ سے لے کر کسی بھی دوائی کی قیمت کا تعین وفاقی حکومت خود کرے گی دنیا میں کہیں پر بھی ایسا نہیں ہوتا ۔دنیا میں طریقہ کار یہ ہے کہ ادویات کا ایک جزو ہوتا ہے مالیکیول اس کی قیمت کا تعین کر دیا جاتا ہے ۔دنیا کے نوےفیصد ملکوں میں جہاں دوا کے کارخانے ہیں وہاں قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے ۔پولیس بارے میں ڈیٹا دستیاب ہیں اور حکومت کے جتنے بھی کار پر سساز ہوتے ہیں ان سب کے پاس یہ معلومات ہوتی ہے اس میں جھوٹ بولنے والی کوئی بات نہیں ہے ساری معلومات انٹرنیٹ پر دستیاب ہے آپ گوگل کریں اور معلومات آپ کے سامنے آجائے گی اب تو کسی کو زیادہ محنت کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے کسی بچے سے کہیں وہ ساری معلومات آپ کو نکال کر دے گا 90فیصد ملکوں میں کنٹرول نہیں ہے قیمت پر ۔بنگلہ دیش میں پرائس کنٹرول نہیں ہے انڈیا میں پرائس کنٹرول نہیں ہے چین میں پرائس کنٹرول نہیں ہے ۔یہ وہ ملک ہے جہاں دوائیاں بنتی ہیں ان کی بات کر رہا ہوں اور جہاں دو یا نہیں بنتی جن میں فلپائن کمبوڈیا اور افریقہ کے ممالک جہاں دوا ساز فیکٹریاں نہیں ہے وہاں دعا کی قیمت کنٹرول کرنے کا کوئی طریقہ کار ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ دوائیاں امپورٹ کرتے ہیں خود نہیں بناتے سری لنکا کی مثال لے لیں وہاں دوا ہی نہیں بنتی وہ امپورٹ کرتے ہیں وہاں قیمت کا تعین امپورٹر کرتا ہے تاجر کرتا ہے وہ کتنی سستی یا مہنگی بیچ رہے ہیں اس کا سرکار سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے پاکستان کی بدقسمتی یہ ہوئی کہ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب سوشلسٹ مائنڈ تھا ۔
ادویات کی قیمتوں میں سال 2001 کے بعد 18 سال تک اضافہ نہ ہونے کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ فارما انڈسٹری کوئی کاروبار نہیں بلکہ یہ فلاحی کام کے طور پر ہونا چاہیے اور دوائیاں مفت ملنی چاہیے ہوسکتا ہے لوگ یہ توقع بھی رکھتے ہوں کہ فارما کمپنیوں کو دوائی کے ساتھ کھانے پینے کی چیزیں بھی دینی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ آپ اپنے ادارے کے ذریعے خود دیا کرالیں اسٹاک ایکسچینج کی معلومات دیکھ لیں آپ کو پتہ چل جائے گا کہ کون سی کمپنیاں ایک روپے کی سرمایہ کاری پر پچاس پیسے 35 پیسے یا 25 پیسے کا منافع کما رہی ہیں جبکہ پاکستان کی فارما انڈسٹری ایک روپے کے اوپر صرف سات پیسے منافع کماتی ہے ۔
اس کے علاوہ پاکستان کی فارما انڈسٹری دیگر تمام انڈسٹریوں کے مقابلے میں پاکستان کی حکومت کو سب سے زیادہ ٹیکس دیتی ہے اپنی آمدن کا ایک فیصد آر اینڈ ڈی کی مد دیتی ہے اربوں کھربوں روپے حکومت جمع کرکے کھا گئی کوئی ان سے پوچھ سکتا ہے کہ آر اینڈ ڈی قیمت میں جو اربوں کھربوں روپے لیے تھے ان کا اکاونٹ کہاں ہے وہ تو انڈسٹری کی امانت تھی لیکن یہ کھا گئے ۔

آپ کو پڑوسی ملک کی ایک مثال دوں تھے انہوں نے کچھ دہائیاں پہلے یہ فیصلہ کیا کہ اپنے ملک کو دوائیوں میں ایکسپورٹ ملک بنائیں گے انہوں نے فارما کونسل بنائی جس نے قرضہ لائے اور دس سال کی مدت کے لئے قرضے دیے گئے اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہاں پے بے شمار ایسی کمپنیاں بن گئی جوادویات بنا رہی ہیں اور ایکسپورٹ کر رہی ہیں اب ان کارخانوں نے دنیا بھر کے دواساز کارخانے امریکہ اور دیگر ملکوں میں جاکر خریدنا شروع کر دیے جب کہ ہمارے یہاں جو حکومتیں آتی رہیں وہ اینٹی فارما حکومتیں تھی ۔

ان سے پوچھا گیا کہ آپ حکومت سے اس قسم کی مراعات چاہتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہی تو مزیدار بات ہے کہ ہم کوئی مراعات نہیں چاہتے ۔ہمیں کوئی سبسیڈی نہیں چاہیے ہمیں کوئی مراعات نہیں چاہیے ۔ہم بس اتنا چاہتے ہیں کہ آپ اتنا مان لو کہ ہم ایک انڈسٹری ہیں اور اس کیٹگری میں ہمیں ڈال دو ۔

ہم میں آپ کو مثالوں کے پاکستان کے ایکسپورٹ کے پانچ بڑے نام ہیں جن میں ٹیکسٹائل ۔رائس ایگریکلچر سرجیکل ہے کارپیٹ نمایاں ہے اب کارپٹ 50ملین کی ایکسپورٹ کرتا ہے اور مراعات لیتا ہے زیرو ریٹیڈ انڈسٹری کی جبکہ فارما انڈسٹری 300ملین کی ایکسپورٹ کرتی ہے اور مراعات کوئی نہیں ہے ۔
ہماری فارما انڈسٹری کی لیڈرشپ آنے والی ہر حکومت سے یہی کہتی ہے کہ آپ ہمیں انڈسٹری کی کیٹیگری میں رکھیں اور ہمیں کچھ نہیں چاہئے اب میں آپ کو بتاؤں کہ جب بھی ہماری کسی حکومتی شخصیت سے ملاقات ہوتی ہے خود دو مرتبہ مجھے وزیراعظم سے ملاقات کرنے کا موقع ملا اور آپ اگر یہ بات کو لکھ سکتے ہیں تو ضرور لکھیں گے کہ میں تعریف کرنا چاہتا ہوں شاہد خاقان عباسی کی ہم گئے تھے 15 منٹ کی ملاقات کرنے اور جب اٹھے تو ساڑھے تین گھنٹے لگے انہوں نے غور سے ہماری باتیں تجاویز سنیں اور اس کے بعد بہت اچھے مثبت فیصلہ سامنے آئے لیکن بدقسمتی یہ تھی کہ ان کی حکومت کے پاس زیادہ وقت نہیں تھا اور آپ کو تو اچھی طرح پتا ہے کہ جب اس ملک میں بھی وزیراعظم جاتا ہے تو سارے فیصلے ڈبے میں بند ہو کر ساتھ چلے جاتے ہیں ۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ میں یہ چاہتا ہوں کے دو باتیں بالکل ذہنوں میں کلیئر ہوجائیں پہلی بات یہ ہے فارما سیکٹر کو ایک انڈسٹری کرار دیا جائے دوسری بات یہ ہے کہ مان لیا جائے کہ فارما انڈسٹری ایک پرافٹ ایبل انڈسٹری ہے یہ کوئی فی سبیل اللہ کام نہیں ہے پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے لوگ اور سرکاری افسران فارما سیکٹر کو عبدالستار ایدھی سمجھتے ہیں