معروف چولستانی سنگر کرشن لعل بھیل گزشتہ روز رحیم یار خان میں وفات پا گئے

معروف چولستانی سنگر کرشن لعل بھیل گزشتہ روز رحیم یار خان میں وفات پا گئے ، وہ ایک عرصے سے گردے کے عارضے میں مبتلا تھے اور رحیم یارخان ہسپتال میں ڈائیلاسز کے سلسلے میں داخل تھے ۔ ان کی وفات سے سرائیکی وسیب خصوصاً چولستان میں صفِ ماتم بچھ گئی ہے ۔ کرشن لعل بھیل نےانڈیا اور دبئی سمیت مختلف ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا ۔ لوک ورثہ ، الحمرا ، پی این سی اے اور دیگر اداروں سے ایوارڈ حاصل کیے ، گائیکی کے ساتھ ساتھ وہ موسیقار بھی تھے ، انہوں نے بہت سے شاگرد پیدا کئے اور ان کو موسیقیت کے فن سے آگاہ کیا ۔ کرشن لعل بھیل 1965ء میں لعل ناتھ کے گھر ضلع رحیم یارخان کے چولستانی علاقے میں پیدا ہوئے ۔ کرشن لعل بھیل کی وفات پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے سرائیکستان قومی کونسل کے صدر ظہور دھریجہ نے کہا کہ وسیب کے فنکار سسک سسک کر مر رہے ہیں۔

ہم ایک عرصے سے کرشن لعل بھیل کے سرکاری خرچ پر علاج کیلئے مطالبہ کرتے آ رہے تھے لیکن حکومت نے توجہ بھی نہ دی ۔ کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے عام آدمی کے ساتھ ساتھ وسیب کے فنکار سب سے زیادہ متاثر ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی شہرت یافتہ چولستانی سنگر فقیرا بھگت بھی 11 مئی 1999ء کو یرقان کے مرض کے باعث فوت ہوئے تھے ، وہ بھی چولستان میں پانی کی کمی کا شکار ہوئے اور کرشن لعل بھیل کی بیماری کا باعث بھی پانی کی کمی تھا ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیراعلیٰ آنجہانی کرشن لعل بھیل کے لواحقین کی مالی مدد کریں اور چولستان میں پانی کے مسائل حل کیے جائیں اور بلا تاخیر سرائیکی صوبہ بنایا جائے تاکہ وسیب کے لوگ اپنے مسئلے خود حل کر سکیں اور وسیب کے ادیب شاعر اور فنکار بے بسی کی موت مرنے سے بچ سکیں ۔