بیٹھ بیٹھ کر خطرہ نہ مول لیں، احتیاط کیجیے

تحقیق،  رپورٹ : طارق اقبال
 زیادہ تر کویت میں مقیم ملازمین آن لائن کام کر رہے ہیں
 دیر تک بیٹھ کر کام کرنا انسانی صحت کے لیے خطرناک اور کئی سنگین امراض کو جنم دینے کا باعث بنتا ہے۔
آن لائن پروفیشنلز سمیت متعدد پیشے ایسے ہیں جن سے وابستہ افراد اپنے جاگتے ہوئے وقت کا بیشتر حصہ بیٹھ کر گزارتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ‘ایسے افراد گردن کے مہروں کی اکڑن، امراض قلب، کمر کے نچلے حصے کے درد، موٹاپے اور ٹانگوں میں بے چینی جیسی شکایات کا شکار ہو سکتے ہیں۔’
مسلسل بیٹھ کر کام کرنا خصوصاً کمپیوٹر یا ٹیلی ویژن وغیرہ کی سکرینز سے وابستہ کاموں کا حصہ رہنے والے افراد بے خیالی میں آنکھیں جھپکانا کم کر دیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے انہیں بعض اوقات آنکھوں میں جلن، دکھن یا خشکی کی شکایت ہو سکتی ہے۔ اس پریشانی سے بچنے کے لیے ہر تیس منٹ یا مناسب وقفوں کے بعد اپنی آنکھیں کام کی سکرین سے ہٹائیں اور جتنا دور کا منظر دیکھنا ممکن ہو اسے غور سے دیکھیں، آنکھوں کو بار بار جھپکیں۔

اپنے بیٹھنے کے انداز کو دیکھیں کہ کہیں غلط انداز نشست کی وجہ سے کمر پر زیادہ بوجھ تو نہیں پڑ رہا، گردن مسلسل جھک تو نہیں رہی، ٹانگیں موڑ کر بیٹھنے سے جوڑوں کو اضافی کھچاؤ کا سامنا تو نہیں ہے۔ اپنے پاؤں کو وقتا فوقتا حرکت دیتے رہیں۔ ایک ہی پوزیشن میں مسلسل نہ بیٹھیں بلکہ کچھ وقفوں سے خود کو حرکت دیتے رہیں اور اپنے انداز نشست کو بدلتے رہیں۔
طبی ماہرین کی جانب سے متنبہ کیا جا چکا ہے کہ جسمانی طور پر متحرک نہ رہنے کی وجہ سے دنیا بھر میں سالانہ تیس لاکھ اموات ہوتی ہیں۔ یہ غیر متعدی امراض سے ہونے والی اموات کی چوتھی بڑی وجہ قرار دی جاتی ہے۔
صحت بھی بحال رکھنی ہو اور خود کو سنگین خطرات سے بھی بچانا ہو تو بیٹھ کر کام کرنے والوں کو ممکنہ خرابی کا شکار ہونے سے بچنے کے لیے کچھ احتیاطیں تجویز کی جاتی ہیں۔