پاکستان میں تھیلیسیمیا میں مبتلا افراد کی تعداد تقریباً ایک کروڑ سے زائد

رپورٹ :  طارق اقبال 
پاکستان میں تھیلیسیمیا میں مبتلا افراد کی تعداد تقریباً ایک کروڑ سے زائد ہے
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج تھیلیسیمیا سے آگاہی کا عالمی دن ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد اس مرض سےمتعلق آگاہی اور شعور بیدار کرنا ہے۔
تھیلیسیمیا ایک موروثی بیماری ہے اس بیماری کی دو اقسام ہیں۔ تھیلیسیمیا مائنر اور تھیلیسیمیا میجر۔ یہ بیماری والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ اس بیماری کے دوران خون بننے کا عمل رک جاتا ہے اور مریض کو خون لگوانا پڑتا ہے۔ پاکستان میں تھیلیسیمیا میں مبتلا افراد کی تعداد تقریبا ایک کروڑ سے زائد ہے جبکہ ہر سال پانچ ہزار بچے اس موذی مرض کا شکار ہو رہے ہیں۔تھیلیسیمیا سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ شادی سے پہلے تھیلیسیمیا کی اسکریننگ کروا لی جائے تو اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں تھیلیسمیا کے مریضوں کی زندگیاں بچانے کیلیے سالانہ ڈیڑھ لاکھ خون کی بوتلوں کی اشد ضرورت پڑتی ہے۔ تھیلیسیمیا کے پھیلنے کی ایک وجہ خاندان میں شادیوں کا رجحان بھی ہے۔ متاثرہ بچوں کے علاج پر سالانہ دس ارب روپے کے اخراجات آتے ہیں تاہم حکومتی سطح پرکوئی ایسا ادارہ نہیں جہاں بچوں کو بلامعاوضہ خون کی فراہمی کی جائے۔  ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ تھیلیسیمیا کے بارے میں آگاہی، احتیاطی تدابیر اور باقاعدہ علاج سے اس کی پیچیدگیوں سے نہ صرف بچا جا سکتا ہے بلکہ مریض قابل ذکر حد تک اور صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔