یہ وائرس بری طرح پھیل چکا ہے، اب ہمیں اس کے ساتھ کافی عرصہ تک نبرد آزما ہونا پڑے گا : سید ناصر حسین شاہ

کراچی: صوبائی وزیر اطلاعات ، بلدیات، ہاﺅسنگ ٹاﺅن پلاننگ ، مذہبی امور، جنگلات و وائلڈ لائف سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں ہم سب کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں اور جس طرح وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے اور سپریم کورٹ کے بھی احکامات ہیں اس سلسلے میں ہم سب کو ایک پیج پر آنا پڑے گا ۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اب یہ بیماری بری طرح پھیل چکی ہے اور اب ہمیں اس کے ساتھ ہی کافی عرصہ تک نبرد آزما ہونا پڑے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ہی کام کرنے پڑیں گے اس لئے ہم سب کے ساتھ ہیں لیکن عوام کے وسیع تر مفاد میں سندھ حکومت ایس او پیز بنائے گی اور ہر چیز کے طریقہ کار طے کریں گے اور اس کے مطابق کاروبار کھولیں گے ۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہمارا پہلے ہی دن سے یہ کہنا ہے کہ اگر پہلا کیس سامنے آتے ہی ملک میں یکساں پالیسی بنالی جاتی اور پورا ملک ایک ساتھ موثر طریقہ سے لاک ڈاﺅن کر لیا جاتا تو آج حالات اتنے سنگین نہ ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پرپہلا کیس سامنے آتے ہی 26فروری کو ہی اجلاس طلب کیا اور ماہرین پر مشتمل ٹاسک فورس تشکیل دے دی اور اس کے بعد ماہرین کی ہدایات کی روشنی میں اقدامات کئے ۔ لیکن وفاقی سطح پر اس بیماری سے نبرد آزما ہونے کے لئے اقدامات بہت تاخیر سے اٹھائے گئے اور ہر وہ کام کیا جو کہ صوبہ سندھ نے نافذ کیا تھا لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔ اگر اس وقت پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے کام پر دھیان دیا جاتا تو حالات کی نوعیت اس طرح کی نہ ہوتی پھر اس کے ساتھ ساتھ جب ہر طرف سے سندھ حکومت کی تعریف ہوئی تو وفاقی حکومت کی طرف سے اس کے اچھے کاموں پر بھی تنقید شروع ہوگئی  اور وفاقی حکومت کی طرف سے سندھ حکومت کے لاک ڈاﺅن کی بھر پور مخالفت کی گئی ۔

سید ناصر حسین نے کہا کہ ہمیں یہ بتایا جائے کہ باقی ماندہ صوبوں میں لاک ڈاﺅن کس نے کیا ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ٹرین سروس اور فضائی سروس بھی سندھ حکومت نے معطل کی ۔ لیکن تنقید برائے تنقید کی پالیسی سندھ حکومت پر تیر کے نشتر برسائے جاتے ہیں ۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کیا کہ ہمیں ہمارے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرادی نے ہدایات دی تھیں کہ سب کے ساتھ مل کر چلنا ہے اور اس اہم مسئلہ پر سیاست نہیں کرنی ہے اور ہم ان کی ہدایات پر پابندی سے عمل کر رہے ہیں اور ہمارا موقف اس پر واضح ہے کہ وزیر اعظم اس معاملہ پر سب کی قیادت کریں اور سب کی باہمی مشاورت سے عوام کے بہترین مفاد میں فیصلے کئے جائیں انہوں نے کہا کہ معیشت تو بحال ہو سکتی ہے لیکن انسانی جان واپس نہیں آسکتی ۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق جب بڑے شاپنگ سینٹرز اور کمرشل جگہیں نہیں کھلیں گی تو کراچی جیسے میگا شہر کے حساب سے پھر کیا چیز کھلے گی انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی کاروباری برادری کا پورا پورا احساس ہے لیکن ہم نے جو بھی فیصلے کئے وہ حالات کے تناظر میں کئے ۔یہ مشکل اور کٹھن فیصلے خوشی سے نہیں کئے ہم بڑے رنجیدہ ہو کر یہ فیصلے کر رہے ہیں۔ اور لاک ڈاﺅن پورے ملک میں ہی تھا صرف صوبہ سندھ میں نہیں تھا ۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس دفعہ عید کو سادگی سے منائیں ۔ انہوں نے کہا ضروری نہیں ہے اتنی زیادہ شاپنگ کی جائے بلکہ وہی پیسہ عوام کی فلاح و بہبود میں خرچ کیا جائے اور ضرورتمند لوگوں کی مدد بلا امتیاز کی جائے یہی ہمارا اسلام اور معاشرے کا شیوہ ہے۔