کل سے پابندیاں نرم، چھوٹی دکانوں، مارکیٹوں کو سحری سے شام 5 بجے تک کاروبار کی اجازت، ہفتے میں 2 دن چھٹی، اسپتالوں کی مخصوص او پی ڈیز بھی کھل جائیں گی

چھوٹی دکانوں، مارکیٹوں کو سحری سے شام 5بجے تک کاروبار کی اجازت ہوگی تاہم ہفتے میں 2؍ دن چھٹی ہوگی ، اسپتالوں کی مخصوص اوپی ڈیز بھی کھل جائیں گی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ احتیاط نہ کی گئی تو دوبارہ لاک ڈائون کرنا پڑے گا ، کھولنے کیلئے بھی عقلمندی ضروری ہے ، صوبوں کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند رہیں گے ، طلبہ کو گزشتہ سال کے رزلٹ پر ترقی مل جائے گی۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور مانڈ اینڈ کنٹرو ل کمیٹی کے سربراہ اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم فیصلے مسلط کرسکتے تھے نہیں کئے۔

وفاقی وزیر صنعت وپیداوار حماد اظہر نے کہا کہ متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ پائپ ملز، پینٹ فیکٹریاں، بجلی کے تار، ٹائلز، سرامکس، سینیٹری، اسٹیل، المونیم اور ہارڈویئر کے تمام کارخانے اور دکانیں کھل جائیں گی، کھانے پینے کی اشیا اور دواؤں کی دکانیں سارا ہفتہ کھلیں گی، ٹرانسپورٹ کا فیصلہ صوبے کریں گے، رات کو کوئی دکان نہیں کھلے گی ۔

علاوہ ازیں جیو کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بڑے شاپنگ مالز، پلازہ ، میگا ڈیپارٹمینٹل اسٹورز ، ریسٹورنٹس، ہوٹلز ، شادی ہالز ، سینماز، عوامی اجتماعات ، کنسرٹس ، اسپورٹس ایونٹس اور آٹو موبائل مینوفیکچرز پر پابندی برقرار ہے۔

وزیر صنعت پنجاب میاں اسلم اقبال نے کہا کہ فی الحال لاہور میں بڑے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں نہیں کھلیں گی، پنجاب میں ریسٹورنٹس، ہوٹل، شادی ہال، حجام کی دکانیں کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ہفتہ (9 مئی) سے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار نرمی کا اعلان کردیا۔

قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے 13 مارچ کو لاک ڈاؤن نافذ کیا اور عوامی مقامات کو بند کیا لیکن مجھے پہلے دن سے یہی خوف تھا کہ ہمارے حالات یورپ، چین سے مختلف ہیں اور ہم نے جو لاک ڈاؤن کرنا ہے وہ مختلف ہوگا کیونکہ یہاں یومیہ اجرت پر کام کرنے والا دار طبقہ ہے اور ہمیں خدشہ تھا کہ اگر سب بند کردیا تو ان لوگوں کا کیا بنے گا۔

عمران خان نے کہا کہ ہم لاک ڈاؤن کھول رہے ہیں لیکن عقلمندی سے، اگلے مرحلے میں ہماری کامیابی میں پاکستانیوں کا بہت بڑا ہاتھ ہوگا، اگر اس وقت ہم ایک قوم بن کر خود احتیاط کریں اور منظم طریقے سے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پیز) پر عمل کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ قوم کی ذمہ داری ہے کہ ایس او پیز پر عمل کریں، ہم یہ نہیں سمجھتے کہ پولیس جا کر چھاپے مارے اور اس پر عملدرآمد کروائے کیونکہ آزاد اور مہذب معاشروں میں ایسا نہیں ہوتا، عوام کو اگر مشکل مرحلے سے نکلنا ہے تو حکومت ڈنڈے کے زور پر نہیں کہہ سکتی کہ نماز کے دوران فاصلہ رکھیں، حکومت کتنی فیکٹریوں میں جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر مشکل وقت سے نکلنا ہے تو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اگر پھر سے کورونا وائرس کے کیسز بڑھ گئے اور لوگوں نے احتیاط نہ کی تو ہمیں سب بند کرنا پڑے گا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے معاملے پر مکمل طور پر اتفاق نہیں ہے، میرے خیال سے اسے کھلنا چاہیے کیونکہ یہ ایک عام آدمی استعمال کرتا ہے اور اس سے غریب کو فائدہ ہوتا ہے اور اس حوالے سے سپریم کورٹ کی بھی یہی رائے تھی کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹرین سروس کو بحال کیا جائے۔

وزیراعظم کے بعد فوکل پرسن برائے کورونا وائرس ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ اس وقت وبا تقریباً ہر ملک میں پھیلی ہوئی ہے لیکن اس کا انداز ہر جگہ الگ رہا ہے اور کچھ ممالک میں یہ آگ کی طرح پھیلی کہ ایک دن میں ہزاروں اموات ہوئی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک میں اس وائرس کے پھیلاؤ میں اس طرح کی تیزی نہیں دیکھی گئی۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ دکانیں فجر کے بعد سے شام 5 بجے تک کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسدعمر نے بتایا کہ ہفتے میں 5 روز تک کام کی اجازت ہوگی اور دو روز کاروبار بند ہوگا جس کے دوران صرف وہی دکانیں کھلیں گی جنہیں لاک ڈاؤن کے دوران اجازت تھی۔

این سی سی نے چھ چیزوں پر فیصلے کیے ہیں ، تعمیرات کے شعبے کے دوسرے مرحلے کو کھولنے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا ، چھوٹی مارکیٹوں ، دکانوں ، دیہات کی دکانوں کو کھولنے کی اجازت دے دی گئی ، سحری کے بعد سے شام پانچ بجے تک دکانیں کھلی رہیں گی جبکہ افطاری کے بعد اور رات کو دکانیں اور کاروبار کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی ، منتخب اور نامزد شدہ اوپی ڈیز کو کھولنے کافیصلہ بھی کیا گیا ہے ،خوراک اور ادویات کی دکانوں کے علاوہ تمام دکانیں ہفتے میں دو روز بند رہیں گی۔

وفاقی وزیر صنعت وپیداوار حماد اظہر نے کہا کہ متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ پائپ ملز، پینٹ بنانے والے یونٹس، الیکٹریکل کیبلز ، ٹائلز ، سرامک ، سینٹری ، سٹیل و ایلو مینیم کی تمام فیکٹریوں اور دکانوں کو کھول دیا جائے گا، ہارڈویئر کی تمام دکانوں کو بھی کھولنے کا فیصلہ کیاگیا ہے، دیہات ، محلوں کی تمام دکانوں اور چھوٹی مارکیٹوں کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کمانڈ اینڈ کنٹرو ل کمیٹی کے سربراہ اسد عمر نے کہا کہ تمام فیصلے صوبوں کی مشاورت سے جا رہے ہیں، جتنے بھی فیصلے کر رہے ہیں اس کا مقصد انسانی زندگیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹاک شوز سے لگتا ہے کہ وفاق و صوبے دست و گریباں ہیں، وزیراعظم چاہتے تو ٹرانسپورٹ کے بارے میں فیصلہ صوبوں پر مسلط بھی کر سکتے تھے لیکن وزیراعظم تمام صوبوں سے مل کر فیصلے کرنا چاہتے ہیں، اسپتالوں کی پہلے سے منتخب ا ور نامزد او پی ڈیز بھی کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ سے متعلق تفصیلی سے غور کیا گیا ، وزیراعظم نے صوبوں پر فیصلے مسلط نہیں کیے اس حوالے سے عالمی تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے اور ڈاکٹروں سے مشاورت کے بعد آئندہ چند روز میں فیصلہ کیا جائے گا۔

ادھر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ حکومت نے اعلیٰ سطح اجلاس میں فیصلہ کیا گہا ہے کہ کرونا وائرس کے برھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر تمام تعلیمی اداروں میں 15 جولائی تک چھٹیوں میں توسیع کر دی ہے جبکہ فیڈرل بورڈ کے زیر اہتمام ہونے والے تمام کلاسوں کے امتحانات منسوخ کر دیئے گئے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ جب کرونا وائرس کی وباء پھیلی تو وزیراعظم نے ہدایت کی کہ طلباء کی صحت کا خیال رکھا جائے، جس کے باعث تعلیمی ادارے بند کیے گئے اور امتحانات کو جون جولائی تک ملتوی کردیا گیا۔

اسی طرح ہم نے ٹیلی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا، ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم تمام فیصلوں پر نظر ثانی بھی کریں گے

Courtesy jang urdu