وزیراعلیٰ سندھ کا پیر سے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شہری جب بھی باہر جائیں ماسک کا استعمال کریں، جس طرح ہم باقی چیزیں روزانہ کرتے ہیں ماسک کو بھی حصہ بنالیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ میں 24گھنٹے میں 5532ٹیسٹ کئے گئے جبکہ مجموعی طورپر81810ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں ، 5532 میں سے 98 لوگوں کا کوروناٹیسٹ مثبت آیا ہےمراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں کورونا سے 24گھنٹے میں 5اموات ہوئیں، جس کے بعد کورونا سے اب تک 176اموات ہوئیں، سندھ میں اسوقت کورونا وائرس کے 9691کیسز ہیں جبکہ 24گھنٹےکےدوران77افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں 84فیصدمریض ہوم آئیسولیشن میں ہیں، بزرگ افراد کےلئےسخت ایس اوپیز ہیں، کراچی میں 2369لوگ بیرون ملک سے واپس آئے ، بیرون ملک سے آئے2369میں سے 516مسافر کورونامتاثر ہیں کابینہ نے13مارچ کو فیصلہ کیا اسکول 31مئی تک بند ہونگے، سندھ حکومت نے22مارچ سے سختی کی، 26مارچ سے لاک ڈاؤن ہوا، وفاق نے خود یکم اپریل سے لاک ڈاؤن کااعلان کردیا تھا، وفاق اورصوبوں کے متفقہ فیصلوں پر سندھ نے مکمل عمل کیا۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نےصوبوں کواختیاردیاکہ حالات دیکھ کرتبدیلی کرسکتےہیں، لاک ڈاؤن کا فائدہ ہوا ہرصوبے نے یہ کہا ہے، 6 مئی کو چیف منسٹرز بھی این سی اوسی میٹنگ میں شریک ہوئے، ہماری کچھ چیزیں وفاق کو پسند نہیں ہم پھر بھی ساتھ کام کررہے ہیں، لاک ڈاؤن ابھی رہے گا ،فیز ٹو پر بات ہورہی ہے ، کل این سی سی میں کہا جذباتی نہیں حقائق پر فیصلے کرنےہیں۔

مختلف ممالک کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ایران میں کورونا کے کیسز 19فروری سے شروع ہوئے اور ایران نے 14مارچ کو لاک ڈاؤن ہزار کیس ہونے پر لگایا اور اموات کم ہونے پر لاک ڈاؤن ہٹایا، اسی طرح اٹلی نے لاک ڈاؤن لگایا جب 1600کےقریب کیسزروزانہ آرہےتھے، بعد میں گراف نیچے جانے پر لاک ڈاؤن میں نرمی کرناشروع کی جبکہ امریکا نے لاک ڈاؤن کے معاملے پر کافی چیزوں کومس ہینڈل کیا ، انھوں نے لاک ڈاؤن اسوقت کیا جب یومیہ کیسز 18 ہزارکے قریب ہوئے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ جب انسان جنگ کی صورتحال میں ہوتا تو باقی چیزوں کو پیچھے رکھناپڑتاہے، کاروبار بند نہیں کرناچاہتے اور نہ کسی سے ہماری دشمنی ہے ،کل بھی میں نے کہا ایک غلطی ہم سے اور ایک وفاق سے ہوئی ، ہمیں چاہیے تھا بےروزگار ہونیوالوں کی ملکرمدد کرتے جو ہم نے نہیں کی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا وفاق صوبوں سےمشاورت کےبعدپالیسی بنائے ،وفاق یکم اپریل سے ہی مشاورت کرتی آرہی ہے ،وفاق نے چاروں صوبوں سے مشاورت کی ، ہم نے اپنامؤقف دیا، ہمارا مؤقف یہ تھا کہ ابھی سختیاں کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک پالیسی ہے ، ہم نے فیصلہ نافذ کرنا ہے، وفاق کے فیصلوں پر 100 نہیں تو99فیصد عمل کریں گے ، وفاق نے کہا کنسٹرکشن انڈسٹری کھولی جائے ہم نےکہا ٹھیک ہے کھولیں گے، ٹرائل سسٹم کے تحت سلیکٹڈ او پی ڈیز ہم نے پہلے ہی کھول رکھی ہیں، ہم 667 انڈسٹری کو کھول چکے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ فجر سے دکانیں کھولنے کے فیصلے پر وفاق کیساتھ ہیں، ہفتے اور اتوار کو 100فیصد لاک ڈاؤن ہوگا، ہفتہ، اتوار کو میڈیکل ، گروسری دکانیں پہلے کی طرح کھولیں گی، دیہی علاقوں میں جو بھی دکانیں ہیں ان کو کھولا جائے گا جبکہ رہائشی علاقوں میں موجود دکانیں کھولیں گی۔

مراد علی شاہ نے لاک ڈاؤن پیر سے ہٹانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شاپنگ مالز،بڑی مارکیٹس , اجتماعات،ریسٹورنٹس ، مارکیٹس، سینیما اور عوامی مقامات بند رہیں گے ، صرف کنسٹرکشن انڈسٹری سے متعلق کاروبارکھلے گا، تاجربرادری سے بات کریں گے اور وفاق تک ان کا مؤقف پہنچائیں گے ، وفاق سے اپیل ہے چھوٹے تاجروں کیلئے قرض دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی سے پہلے جو کاروبار بند تھا وہ بند رہے گا، شادیاں بند نہیں لیکن بڑے اجتماعات نہیں ہوسکتے ، سیاسی اجتماع نہیں ہو سکتے، عوامی سطح پر کوئی بھی اسپورٹس ایونٹ کا انعقاد نہیں کیاجاسکتا، میں وفاق کے یہ فیصلے قبول کرتے ہوئے بہت ڈر رہاہوں، کچھ چیزیں کھل رہی ہیں لیکن اگر ضرورت نہیں تو گھر سے نہ نکلیں، لوگ اگرگھرسے نکلتےہیں توایس اوپی پرعملدرآمدکریں،ماسک پہنیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اسوقت کیسزبڑھ رہے ہیں،بہت ضرورت ہے کہ متحدرہیں، کوئی اورصوبہ وفاق کے ایس اوپیز پرنہیں چلتا تویہ میراقصورنہیں ، کراچی شہر کی صورتحال اتنی اچھی نہیں ہے۔

ڈاکٹر فرقان کے حوالے سے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر فرقان کے انتقال پر شدید افسوس ہوا،ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، محکمہ صحت سندھ نے تحقیقات کرکے ذمہ داران کو سزا دی ہے، ڈاکٹر فرقان کی خاندان سےمعذرت کرتا ہوں ان کو تکلیف ہوئی ، اللہ تعالی سندھ، پاکستان اوردنیا کو اس آزمائش میں کامیاب کرے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کورونا مریض کودیگر بیماریاں ہیں تو وہ زیادہ متاثر ہورہے ہیں، ایسےکیسز بھی آئے کہ نتیجہ آنے سے پہلے فوت ہو جاتے ہیں، سندھ میں روزانہ 5600 ٹیسٹ کرنے کی استعدادہے ، کورونا ٹیسٹنگ کٹس کی کمی ہے، وفاق سے کہا ہے ہمیں وینٹی لیٹرز کی سخت ضرورت ہے جبکہ نیپا پر ایک اسپتال ہے جس کو کورونا کیلئے مختص کررہے ہیں۔

Courtesy ary english