میچ فکسنگ کے خلاف کیا سزا ہونی چاہیے، عاقب جاوید نے بتادیا

لاہور : سابق ٹیسٹ کرکٹرعاقب جاوید نے کہا ہے کہ فکسنگ مافیا مضبوط اور کھلاڑی کمزور ہیں، میچ فکسنگ میں پکڑے جائے والے کھلاڑی پر تاحیات پابندی اور دس سال جیل ہونی چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کیا، فکسنگ کے خلاف قانون سازی کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ90 کی دہائی میں فکسنگ اور فکسرز مافیا دونوں کا عروج تھا، فکسنگ مافیا مضبوط اور کھلاڑی کمزور ہیں.

انہوں نے کہا کہ جو کھلاڑی ایک بار فکسنگ میں ملوث ہوا، پھر مافیا اسے نکلنے نہیں دیتا، محمد عامر کو دوبارہ ہیرو بنا کر فکسنگ کو پھر تقویت دی گئی۔
عاقب جاوید نے کہا کہ جو بھی فکسنگ میں پکڑا جائے، تاحیات پابندی اوردس سال جیل ہونی چاہیے، جسٹس قیوم کمیشن میں بہت کچھ چھپایا گیا جس کا بعد میں جسٹس قیوم نے اعتراف بھی کیا، ان کا کہنا تھا کہ جو بھی میچ فکسرز کے خلاف بولا اس نے نقصان اٹھایا۔

90کی دہائی میں میچ کوکنٹرول کرنے کے لیےٹیم کے5 سے6 کھلاڑیوں کو استعمال کیا جاتا تھا۔ عاقب جاوید نے کہا کہ وسیم اکرم انہیں کھلانا نہیں چاہتے تھے، مجھےعدالت میں بولنے کی وجہ سے قتل کرنے کی دھمکیاں بھی ملتی رہیں، سلیم ملک کوموقع بھی ملنا چاہیےاور بورڈ میں نوکری بھی دینی چاہیے۔