گرم موسم، رمضان میں ڈی ہائیڈریشن سے بچنے کیلئے کارآمد ٹپس

موسم گرما کے آتے ہی ہیٹ ویو اور چلچلاتی دھوپ کے سبب بہت سے افراد پانی کی کمی ’ڈی ہائیڈریشن‘ کا شکار ہو جاتے ہیں جو کہ صحت کے لیے نہایت مضر ہے ۔

گرمیوں کے موسم میں رمضان المبارک کا مہینہ مزید سخت ہو جاتا ہے، دن میں پانی نہ پینے کی وجہ سے ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس سے آپ کی طبیعت بگڑ سکتی ہے ۔

طبی ماہرین کے مطابق اگر آپ کا روزہ ہے تو بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں کیوں کہ پسینہ آنے کی صورت میں آپ کے جسم سے پانی سمیت نمکیات بھی نکل جاتے ہیں اور گلوکوز لیول متوازن نہیں رہتا، گھر سے باہر جانا ناگزیر ہے تو سَن گلاسز، پوری بازؤں والی قمیص لازمی پہنیں اور کوشش کریں کے سورج کی شعاؤں سے کم سےکم آپ کا سامنا ہو۔

ڈی ہائڈریشن کی علامات کیا ہیں انسانی جسم کا 60 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے، اگر پانی کی کمی ہو جائے تو جسم کے سارے اعضاء کی کاکردگی متاثر ہوتی ہے، پانی کی کمی کے سبب آپ سب سے پہلے خود کمزور محسوس کرنا شروع کرتے ہیں اور ہوش و حواس کھو بیٹھتے ہیں، پانی کی طلب ہوتی ہے، اس کے علاوہ سر درد، پٹھوں کا اکڑنا، کمزوری، چکر آنا، خشکی ہونا، متلی ہونا، منہ کا سوکھنا، ہونٹوں کا خشک ہونا شامل ہے ۔

ڈی ہائیڈریشن سے بچنے کے لیے کیا کیاجائے ؟

گھر سے کم سےکم باہر نکلیں؟جس دن پارہ زیادہ ہو گھر سے باہر نہ جائیں، ضرورت کے مطابق اگر جانا پڑے تو گیلے تولیے سے اپنا سر ڈھانپ لیں، براہ راست سورج کے سامنے جانے سے گریز کریں اور چھتری کا استعمال لازمی کریں، گھر کے باہر کے سارے کام صبح یا شام کے وقت نمٹا لیں تاکہ دوپہر کی سختی سے بچا جا سکے۔

ڈی ہائیڈریشن کاغذا سے علاج کریں

Courtesy jang urdu