ٹرمپ انتظامیہ نے کورونا کی پیشگی اطلاع کو نظر انداز کیا، سائنسدان

امریکا کے سرکردہ سائنسدان نے راز افشاء کرتے ہوئے ایک شکایت درج کرائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے کورونا وائرس کے خطرات کی پیشگی اطلاعات کو نظرانداز کر دیا جس کی وجہ سے قبل از وقت تیاری میں ناکامی ہوئی، ساتھ ہی جب اس وائرس کا حملہ ہوا تو حکومت نے غیر مصدقہ دوا کو علاج قرار دیتے ہوئے جلد بازی دکھائی۔ بایو میڈیکل ایڈوانس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق سربراہ ڈاکٹر رک برائٹ نے اپنی شکایت میں الزام عائد کیا ہے کہ انہیں ان کے عہدے سے ہٹا کر نچلے عہدے پر اس لئے رکھا گیا کیونکہ انہوں نے سیاسی دبائو کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ملیریا میں استعمال ہونے والی دوا ہائیڈروکسی کلوروکوئن کو صدر ٹرمپ کے مشورے کے تحت کورونا کے علاج کیلئے استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی حکومت چاہتی تھی کہ نیویارک اور نیو جرسی کے جو علاقے اس وبا سے متاثر تھے وہاں بھرپور انداز سے یہ دوا فراہم کی جائے۔ منگل کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر برائٹ نے کہا کہ امریکی حکومت نے پاکستان اور بھارت سے کلوروکوئین کی بھاری تعداد منگوائی اور اس کے بعد فیڈرل ڈرگ ایڈمنسٹریشن اتھارٹی کی منظوری کے بغیر ہی کورونا کے علاج میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا، جس سے خطرناک صورتحال پیدا ہوئی۔

Courtesy Jang Urdu