قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس، تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق اہم فیصلہ

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں صوبائی وزرائے اعلیٰ، عسکری اداروں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے جبکہ وفاقی وزراغلام سرور، شفقت محمود، شبلی فراز ، اسدعمر،شاہ محمود،خسروبختیار،حماد اظہر،فخر امام،شیخ رشید، مشیر عبدالرزاق داؤد ،ڈاکٹر حفیظ شیخ ، معاونین خصوصی ثانیہ نشتر، زلفی بخاری، عاصم باجوہ ، ظفر مرزا، معیدیوسف بھی شریک تھے۔

قومی رابطہ کمیٹی کےاجلاس میں کوروناوائرس کی موجودہ اور متوقع صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا اور چیئرمین این ڈی ایم اے اور مشیر صحت نے صورتحال پر بریفنگ دی مارکیٹیں اوردکانیں بھی صبح 8 سے شام 5 بجے تک کھولے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد چھوٹی دکانیں بھی کھل سکیں گی۔

گذشتہ روز نیشنل کمانڈاینڈکنٹرول سینٹرمیں وفاقی وزیرمنصوبہ بندی اسدعمر کی زیرصدارت اجلاس ہوا تھا ، جس میں نومئی سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے لیےسفارشات پرغور کیا گیا ، وفاق نے تجویز دی عید خریداری کے لیے دکانیں فجر سے شام پانچ بجے تک کھولنے کی اجازت دے دی جائے،صوبے چاہیں تو دکانیں کھولنے کا وقت بڑھا سکتے ہیں جبکہ شاپنگ مالزکھولنے کی اجازت نہ دی جائے گی۔

اجلاس میں تعمیراتی شعبے سے منسلک دکانیں کھولنے کی تجویزبھی زیرغورآئی جبکہ صوبوں نے پبلک ٹرانسپورٹ،انٹرسٹی ٹرانسپورٹ بحالی کی تجویزکی مخالفت کی اور پندرہ ٹرینیں بحال کرنیکی تجویز بھی مستردکی گئی۔

اجلاس میں ہفتہ اوراتوار کو لاک ڈاؤن برقراررکھنے کی بھی تجویز دی گئی اور ملک میں شاپنگ مالزبند رکھنے سے متعلق غورہوا جبکہ یکم جون سےتعلیمی ادارےکھولنے پرسندھ اور پنجاب مخالفت کرچکے ہیں۔

ہوابازی کے وزیرغلام سرورخان کے مطابق این سی او سی اجلاس میں اندرون ملک پروازیں چلانےکا فیصلہ ہوگیا ہے، ابتدائی طور پرکراچی، اسلام آباد، لاہور اور کوئٹہ کے ایئرپورٹس سےپروازیں شروع کرنےکا منصوبہ ہے۔

یاد رہے وفاقی کابینہ پہلےہی لاک ڈاؤن میں نرمی کی منظوری دے چکی ہے ، پنجاب حکومت لاک ڈاؤن میں نرمی کےحق میں ہے اور بلوچستان نےلاک ڈاؤن میں 19 مئی تک توسیع کردی جبکہ سندھ حکومت لاک ڈاؤن میں نرمی کے لیے وفاق کےفیصلے کی منتظر ہیں۔

اس سے قبل وفاقی حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کیا تھا، وزیراعظم عمران خان نے لاک ڈاؤن میں بتدریج کمی کا اعلان کرتے ہوئے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی سے گفتگو میں کہا تھا کہ معاشی صورتحال،زمینی حقائق مدنظررکھتے ہیں اہم فیصلےکرنےجارہے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عام آدمی کے مسائل کے پیش نظر لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی کی جائے گی ، حفاظتی اقدامات پر مبنی جامع ایس اوپیز تیار کرلئے ہیں، عوامی نمائندگان ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے متحرک کردارادا کریں

Courtesy Ary Urdu