آپ “درباری” کے بارے میں کچھ جانتے ہیں؟

دلتے ہوئے طرزِ زندگی نے رسم و رواج، فنون و ثقافت اور ہمارے ذوقِ طبع، شوق اور تفریح کے رنگ ڈھنگ اور رجحانات کو بھی بدل دیا۔ کلاسیکی موسیقی اور راگ راگنیاں سمجھنا تو دور کی بات، اسے سننے اور محظوظ ہونے والے بھی کہاں رہے۔ اسی طرح ساز ہیں تو سازندے نہیں رہے اور کتنے ہی آلاتِ موسیقی تو معدوم ہوچکے ہیں۔

آپ نے راگ درباری کا نام تو سنا ہو گا۔ یہ ہندوستان بھر میں مشہور اور عوام و خواص میں مقبول راگ ہے۔ سیکڑوں شعرا کا کلام اس راگ سے آراستہ ہوا اور ہزاروں غزلیں اور گیت راگ درباری میں بنے۔ کہتے ہیں یہ راگ گانے میں آسان ہے اور اس کی پہچان بھی، مگر نزاکتیں سمجھنا اور اسے مخصوص رچاؤ سے اساتذہٴ فن ہی نبھا سکتے ہیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ یہ راگ مشہور موسیقار، سُر اور آواز کے ماہر تان سین کی اختراع تھا، جو دربارِ اکبری میں نمایاں مقام رکھتا تھا اور اسے دربار میں گانے کے لیے خاص طور پر اختراع کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق اس راگ میں خاص گمبھیرتا ہے جس نے اسے بارعب، با وقار ہی نہیں نہایت متین اور پُر اثر راگ بنا دیا۔ اس راگ کو صرف درباری بھی کہا جاتا ہے۔
اس راگ میں بندشوں کے علاوہ غزلیں اور گیت بھی آپ نے سنے ہوں گے۔

کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوش بُو کی طرح میری پزیرائی کی

ہنگامہ ہے کیوں برپا، تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا، چوری تو نہیں کی ہے۔۔۔

اور گیت کا یہ بول دیکھیے

آ میرے پیار کی خوش بُو، منزل پہ تجھے پہنچاؤں