کون کون میچ فکسنگ کرتا رہا ؟سلیم ملک اور عامر سہیل کے تہلکہ خیز انکشافات

پاکستان کرکٹ ٹیم میں ماضی میں کون کون میچ فکسنگ کرتا رہا کس کس نے اکیلے اور کس نے دیگر کھلاڑیوں کو ساتھ ملا کر میچ فکس کیے تھے اس حوالے سے ہمیشہ ہی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں اور یہ بحث کبھی بھی ختم نہیں ہوئی لیکن پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک اور مایہ ناز اوپننگ بیٹسمین عامرسہیل ایک مرتبہ پھر تہلکہ خیز انکشافات کے ساتھ میدان میں نکل آئے ہیں

اور وہ اس والے سے ایک ایک سوال کا جواب دینے کے لئے پوری طرح تیار ہیں پاکستان کے سابق کپتان سلیم ملک جنہوں نے اپنی کپتانی میں پاکستان کو سب سے زیادہ ٹیسٹ اور ون ڈے میچز جتوائے اور ان پر 1999 میں میچ فکسنگ کی وجہ سے لائف ٹائم پابندی لگی آٹھ سال تک وہ بیس بڑے اور 2008 میں مقدمہ جیتے لیکن ایک طاقتور لوگ بھی نے ان کو دوبارہ کرکٹ بورڈ میں نہیں آنے دیا کبھی کہا گیا کہ انٹرنیشنل پابندیاں ہیں کبھی کہا گیا کہ آئی سی سی کی ای میل آگئی ہے کبھی کہا گیا کہ ان پر رکھنے سے بدنامی ہوگی ۔
آپ سلیم ملک اور عامر سہیل نے سوال اٹھایا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اگر دوسروں کو بچاتا رہا ہے تو سلیم ملک کے ساتھ انصاف کرے ۔سلیم علیہ کے بیس سال ضائع ہوئے ہیں پورا کیریئر تباہ ہوگیا ہے ۔
پاکستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار مبشرلقمان جوخودبھی کرکٹ کھیلتے رہے ہیں اور ان کھلاڑیوں کے پرانے ساتھی ہیں انہوں نے اپنے پروگرام میں سلیم ملک اور عامر سہیل سے کھل کر بات کی ہے اور ان سے پوچھا ہے کہ کون کون میچ فکسنگ میں ملوث رہا اور جن کے نام جسٹس قیوم کی رپورٹ میں آئے کیا آپ انہیں مولوی سمجھتے ہیں یا نہیں ۔
سلیم علیکم نے بار بار کہا کہ آپ مجھ سے نام کیوں سننا چاہتے ہیں سب کے نام جسٹس قیوم کی رپورٹ میں آچکے ہیں لوگ رپورٹ پڑھتے نہیں ہیں دیکھنے بڑےبڑے اسپورٹس جرنلسٹ ہیں ان میں سے کسی نے بھی رپورٹ کو صحیح طرح نہیں پڑھا میں سیکھتا رہا بولتا رہا پریس کانفرنس بھی کرتا رہا میری خبر نہیں آتی تھی میرے مخالفین طاقتور تھے مخالف لوگ بھی مافیا کی شکل میں تھی انہوں نے میری ایک نہیں سنی مجھ پر جھوٹے غلط الزامات لگائے آٹھ سال میں مقدمہ لڑا اور عدالت سے جیتا لیکن جسٹس قیوم کی رپورٹ پڑھی اس میں سب کے نام لکھے ہوئے ہیں آٹھ نو کھلاڑیوں کے نام ہیں بعد میں لوگوں نے داڑھیاں رکھ لیں ان سے کسی نے نہیں پوچھا ۔میں نے پاکستان کو سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ اپنی کپتانی میں جتوائے اس وقت کچھ کھلاڑی تھے جنہیں یہ لگ رہا تھا کہ اگر یہ ایک سال اور پھیل گیا تو پھر ان کا چانس ختم ہو جائے گا ۔ٹیم میں دو گروپ بن گئے تھے ایک طرف وسیم اکرم کا گروپ تھا ایک طرف وقاریونس کا گروپ تھا مجھے اس صورتحال میں عارف عباسی نے کپتان بنا دیا تھا میں نے ان کو اسی کو ساری صورت حال بتا دی تھی ۔

عامر سہیل نے کہا کہ آپ سلیکٹیو جسٹس نہیں کر سکتے یا تو سب کو سزا دینی چاہیے تھی یا دوسروں کو ایڈجسٹ کیا ہے تو ملک صاحب کو بھی ایڈ جسٹ کریں ۔سلیم علی پاکستان کا نہیں دنیا کا بہترین کھلاڑی تھا اس کے بیس سال ضائع کر دیے گئے ایک دفعہ لندن میں مجھے عطاءالرحمن ملا وہ رو رہا تھا وہ کہہ رہا تھا میرا کیریئر تباہ کردیا ہے میں یہاں ٹیکسی چلا رہا ہوں میرے بچے بڑے ہوگئے ہیں وہ پوچھتے ہیں کیا کیا تھا میں نے تو کچھ کیا بھی نہیں پھر میں بد نام کیوں ۔

عامر سہیل نے کہا جب ملک صاحب کے بیٹے کی شادی تھی میں نے وسیم اکرم سے کہا کیا اور ہم ان کی مدد کرو اس کے معاملے کو ختم کر آؤ ۔

سلیم ملک نے کہا کہ جسٹس قیوم کی رپورٹ پڑھ لیں اس میں آٹھ نو کھلاڑیوں کے نام دیے ہوئے ہیں بچہ کہتا ہے وسیم اکرم کا نام لیتا ہے مشتاق احمد کا نام آتا ہے ۔
عامر سہیل نے کہا کہ جج نے خود کہا کہ میرے فیورٹ کھلاڑی تھے کچھ ان میں سے اس لئے میں نے ان کے خلاف فیصلہ نہیں دیا ۔اس کا کیا مطلب ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ وہ لوگ بھی ملوث تھے لیکن ان کے خلاف فیصلہ نہیں آیا سلیم ملک کا کیریئر چونکہ ختم ہونے والا تھا اس لئے سارے ملبہ سلیم ملک پر ڈال دیا گیا ۔
جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے دورے میں میں سلیم ملک سے پوچھتا رہا کہ یہ کیا ہو رہا ہے آپ پاکستان کے سب سے کامیاب کپتان بننے جا رہے ہو پھر یہ ٹیم کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ملک صاحب مجھے کہتے تھے کھببے ۔ ۔ ۔ میں کیا کروں ایک طرف وسیم اکرم کا گروپ ہے دوسری طرف وقاریونس کا گروپ ہے ایک کو ڈانٹتا ہوں تو دوسرا کام دکھا جاتا ہے ۔

عامر سہیل نے کہا میں نے ملک صاحب سے کہا کہ عارف عباسی سے بات کریں انہوں نے علی کو اسی کو ساری صورتحال بتائی انہوں نے صورتحال کو سنبھالا ۔

مبشر لقمان نے سوال کیا کہ کیا کوئی ایک کھلاڑی میچ کس کر سکتا ہے ۔
عامر سہیل نے کہا آپ نے خود بھی کرکٹ کھیلی ہے سب کھلاڑی جانتے ہیں کوئی کھلاڑی اکیلا میچ فکس نہیں کر سکتا اسپاٹ فکسنگ تو کر سکتا ہے لیکن میچ فکسنگ نہیں کرسکتا ۔

قارئین آپ کو یاد دلاتے چلیں کہ سلیم ملک نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے انیس سو بیاسی سے لے کر 1999 تک ٹیسٹ اور ون ڈے میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی انہوں نے 103 ٹیسٹ میچ کھیل کر 5768 بنائے انہوں نے ٹیسٹ میچوں میں 15 سنچریاں اور 29 نصف سنچریاں بنائیں ان کا ہائیسٹ اسکور 237 رنز تھا جبکہ ون ڈے کرکٹ میں انہوں نے 283 میچ کھیلے سات ہزار 170 رنز بنائے اس میں 5 سنچریاں اور 39 نصف سنچریاں شامل تھیں ون ڈے میں ان کا ایک نیک میں زیادہ سے زیادہ اسکور 140 تھا انہوں نے پاکستان کے لیے کہیں ناقابل یقین فتوحات حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا انہوں نے بارہ ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی کپتانی کرتے ہوئے ساتھ میچوں میں فتوحات حاصل کیں اور انہوں نے چونتیس ون ڈے میچوں میں کپتانی کرتے ہوئے ایکس ون ڈے میچوں میں فتوحات حاصل کیں