آٹو موبائل انڈسٹری شدیدبحران سے دوچارہے حکومت کی فوری توجہ درکار ہے ۔کیپٹن ریٹائرڈ محمد اکرم

چیئرمین آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایسسوریز مینوفیکچرز ایسوسی ایشنPAAPAM کیپٹن ریٹائرڈ محمد اکرم کا کہنا ہے کہ اس وقت آٹو موبائل انڈسٹری شدید بحران کا شکار ہے

اور حکومت کی فوری توجہ درکار ہے یہ انڈسٹری ملک میں روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے اور بے شمار لوگوں کا روزگار اس انڈسٹری سے جڑا ہوا ہے آٹو موبائل انڈسٹری سے جڑے ہوئے اہم اسٹیک ہولڈرز اس وقت حکومت کی توجہ چاہتے ہیں پاکستان میں جو کاریں بنتی ہیں میں ہونڈا ٹیوٹا سوزوکی جبکہ ٹریکٹرز میں ملت ٹریکٹر اور غازی ٹریکٹر بنیادی طور پر اسیمبلنگ یونٹس ہیں اور ان کے لئے پارٹس تیار کرنا ایک روزگار فراہم کرنے کا بڑا وسیلہ ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق سوا لاکھ سے زائد باقاعدہ تربیت یافتہ لیبر اس انڈسٹری میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہے اور اگر مختلف سب کانٹریکٹر اور نیچے کام کرنے والوں کو بھی شامل کرلیا جائے تو کم و بیش 5 لاکھ لوگوں کا روزگار اس انڈسٹری سے وابستہ ہے ہمارا بزنس گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ ہے اگر یہاں کام کم ہوگا یا کمپنیاں بند ہوںگی تو ہمارا کام بھی ٹھپ ہو جائے گا ۔پچھلے ایک سال سے اٹھو سیکٹر پہلے ہی مشکلات سے دوچار ہے کیونکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کافی کمی آئی ہے اور کرونا وائرس کی وجہ سے ان کمپنیوں میں کام بالکل بند ہونے کی طرف چلا گیا ہے ہماری حکومت سے گزارش ہے کہ جب انڈسٹری کو کھولا جائے تو اس انڈسٹری پر بھی توجہ دی جائے کیونکہ جب تک یہ کمپنیاں نہیں کام کریں گی ہمارے کام بھی بند رہیں گے

جو اسمول اینڈ میڈیم انٹرپرائز ہے وہاں پر 500 سے لے کر 600 کے قریب لوگ کام کرتے ہیں اور کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی بندش کے بعد اب سے بڑا معاملہ یہ ہے کہ ان ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کرنی ہے اس حوالے سے حکومت کی پالیسی کے تحت اسٹیٹ بینک نے قرضہ فراہم کرنے کی پالیسی تو دی ہے لیکن اس میں بھی چار فیصد مارک پر رکھا گیا ہے اور کولیٹرل اس نے ایک ایسی شرط ہے جو بہت سے آٹوموبائل سیکٹر کے لوگ پوری نہیں کر پا رہے .ایک تو ہم قرضہ لے کر تنہائی ادا کریں اور پھر اس قرضہ پر مارک اپ بھی اسٹیٹ بینک کو ادا کریں ۔یہ کاروباری طریقہ نہیں ہے یہ منصفانہ صورتحال نہیں ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم ایک روایتی سیکٹر کے ساتھ کام کرتے ہیں ہر جگہ رجسٹر ڈ ہیں سیلز ٹیکس انکم ٹیکس ۔اور ہم میں سے کوئی بھی اپنا بزنس چھوڑ نہیں سکتا ۔آٹو پارٹس سپلائی کرنے والے کسی بھی سپلائر کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ تمام سرکاری اداروں کے ساتھ رجسٹرڈ ہے اور ٹیکس ادا کر رہا ہے لہذا اس کو اگر کولیٹرل فری سیلری پیکج دے دیا جائے تو اس طرح لکویڈیٹی کا معاملہ فوری طور پر حل ہو جائے گا ۔

اس کے علاوہ انہوں نے یوٹیلیٹی بلز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ہنڈریڈ کے وی بلز کو سپورٹ کرنے کی بات کی ہے کنزیومر ز کو۔ جبکہ ہمارے یہاں 400 کے لیے تک کنزیومر ہوتا ہے ماہانہ ۔لہذا ہم حکومت سے گزارش کر رہے ہیں کہ ہمارے لیکویڈیٹی ایشوز ہیں ان کو ایڈریس کیا جائے ۔

حکومت کی موجودہ صورتحال میں قرضہ پالیسی کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ حکومت بھی ہماری اپنی ہے اور اسٹیک ہولڈرز بھی ہم خود ہیں لیکن اسٹیک ہولڈرز کے لئے کوئی بھی پالیسی بناتے وقت ان سے پہلے پوچھا کیوں نہیں جاتا ۔اگر مشاورت کا عمل کرلیا جائے تو پھر پیچھے مڑ کر دیکھنا نہیں پڑتا افغان منٹ نے اپنے طور پر ایک پالیسی کا اعلان کیا ہے اور اینڈ آف ڈے اس میں بہت سی بیوروکریٹک ایشوز آجاتے ہیں اگر پالیسی پر عملدرآمد کرنے سے پہلے سوچ سمجھ کر راستہ تلاش کر لیا جائے تو اہداف کا حصول بہتر طریقے سے ممکن ہوتا ہے دیکھا جائے تو حکومت نے سیلری پیکج کے حوالے سے بہت اچھا اقدام اٹھایا ہے اور ہم اس کی تعریف کرتے ہیں قدر کرتے ہیں لیکن جس طرح بینکوں نے اپنا مفاد دیکھتے ہوئے کولیٹرل کا معاملہ رکھا ہے اس کا بھی کوئی و بے آؤٹ ہونا چاہیے حکومت کی پالیسی آنے کے بعد ہمارے لوگوں نے بھی قرضوں کے لیے درخواستیں دی ہوئی ہیں لیکن ابھی تک معاملہ پروسیس میں ہے جبکہ ملک بھر میں ڈیٹ ٹوڈے صورتحال چل رہی ہے 20 مارچ کو لاک ڈاون ہوا تھا اور اب تو ڈیڑھ مہینہ گزر چکا ہے ہم نے ایک تنخواہ اپنے وسائل سے دی۔دوسری تنہا پھر سر پر کھڑی ہے اور وہ بھی اپنے وسائل سے ہی دینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ سلسلہ کتنا عرصہ چلے گا اسی طرح بجلی کے معاملات ہیں اگر 400 کلو واٹ تک بینیفٹ دیا جاسکتا تھا لیکن انہوں نے سو کے وی پر رکھ کر بات بھی ختم کر دی ہے ۔ہم ڈومیسٹک کنزیومر نہیں ہیں ہم تو انڈسٹریل کنزیومر ہیں اسی طرح ہماری گزارش ہے کہ ریفائنڈ فوری طور پر ادا کر دینی چاہیے تاکہ واجبات کو کلیئر کیا جاسکے ۔سب سے اہم بات یہ کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لہذا ٹریکٹر انڈسٹری کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کسانوں کے لیے سبسڈی پر جو ٹریکٹر اسکیمیں تھیں وہ سافٹ لونز کی صورت میں ٹریکٹرز فراہم کیے جائیں تاکہ ٹریکٹر انڈسٹری کا پہیہ چلتا رہے ایگریکلچر کو فائدہ ہو ۔اس کے ساتھ ساتھ ہیلتھ سے متعلق جو ایس او پی بنائی گئی ہے ان پر عملدرآمد کے لیے ہم تیار ہیں انڈسٹری سے زیادہ اہم انسانی زندگی ہوتی ہے ہم یہ بات بخوبی سمجھتے ہیں لیکن انڈسٹری چلے گی جب ہیں انسانی زندگی بچے گی ۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے اور خواہش ہے کہ انڈسٹری کا پہیہ چلتا رہنا چاہیے ۔حفاظتی تدابیر اختیار کیا جانا چاہئے اور انڈسٹری کو چلانا چاہیے انڈسٹری کو بند رکھنے سے کتنا نقصان اور کتنے اثرات ہونگے اس کا کسی کو اندازہ ہی نہیں ہے آج بھی چیزوں کا استعمال تو جاری ہے لیکن پروڈکشن رکی ہوئی ہے اور اشیا کی مانگ اور سپلائی میں جو فرق پیدا ہوتا جا رہا ہے اس گیپ کو کیسے اور کب دور کریں گے ۔اس گیپ کو ختم کرنے میں بہت وقت لگے گا یہ بات سمجھنی چاہیے ۔سندھ حکومت اور پنجاب حکومت کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے اور پورے ملک میں یکساں پالیسی ہونی چاہیے جس پر سب جگہ عملدرآمد کیا جائے ۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ جب تک یکطرفہ طور پر فیصلے کیے جائیں گے اور اسٹیک ہولڈرز کی صلح مشورے کو شامل نہیں کیا جائے گا مطلوبہ نتائج اور اہداف حاصل نہیں ہوسکیں گے آخر ہم سب پاکستانی ہیں پھر ٹیبل کے ایک طرف بیٹھ کر یکطرفہ فیصلے کیوں ہوتے ہیں آئے بیٹھے اور جو مصدقہ اسٹیک ہولڈرز ہیں ان کے ساتھ مشاورت کرکے ایک پالیسی بنائیں یا ٹیبل کے دونوں طرف کے لوگوں کو سن کر بات کی جائے گی فیصلہ کیا جائے گا پالیسی بنائی جائے گی تو میرے خیال میں وہ آگے بڑھنے کا صحیح راستہ ہوگا ہم حکومت کے ان اقدامات کی تعریف کرتے ہیں جو انہوں نے فنانشل ریلیف دینے کے لیے اٹھائے ہیں لیکن یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ آخر کار وہ رزلٹ نہیں نکل رہے جن کے لیے یہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں

رپورٹ صبیح سالک