انڈیا والے ایک کیمرے والی لڑکی سے ڈرتے ہیں

بچپن سے ہی مجھے اخبار پڑھنے اور اخبار میں چھپی تصاویر دیکھنے کا شوق رہا ہے، اکثر اوقات کسی اخبار میں یا ٹی وی پر جنگ کے دوران برستے بموں، اڑتے انسانی چیتھڑوں، گولیوں، گرتے فوجیوں، زمیں بوس ہوتی عمارتوں اور خصوصاً مقبوضہ کشمیر کی تصاویر یا ویڈیوز دیکھ کر میں بہت سوچتا تھا کہ یہ کون ہو گا جو یہ تصاویر اتارتا یا ویڈیوز بناتا ہو گا، یہ یقیناً ان جنگجوؤں سے بھی زیادہ بہادر ہو گا۔ شاید ان تصویر کشوں کو جنگی حالات کی تصویر کشی کی تربیت سے گزار کر میدان میں اتارا جاتا ہو گا، مگر یہ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ فوٹو گرافر تو صحافت کی تربیت گاہ سے پاس آؤٹ ہوئے ہوتے ہیں۔
اور ان کا کیمرہ بھی کسی کلاشنکوف، میزائل یا دیگر جنگی ہتھیاروں جیسا ہی خطرناک ہتھیار ہے۔ جنگی ہتھیار تو انسانی چہرے زمین کے اندر پہنچا دیتے ہیں مگر یہ ہتھیار وہ ہتھیار ہے جو انسانی چہروں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیتا ہے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرہ بھی ایسے ہی ہتھیار سے لیس اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کا چہرہ دنیا کے سامنے لانے میں برسرِ پیکار ہیں۔ بھارت سرکار نے اپنے ریاستی وسائل، کالے قوانین، فوج، پولیس، اصلحہ، عدالتیں اور تھانے مسرت زہرہ کے کیمرے کے مقابلے میں لا کھڑے کر دیے ہیں۔
بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر جیسے خطے میں صحافت مزید مشکل اور جوکھوں کا کام ہے۔ دو سال قبل صحافی شجاعت بخاری کے بہیمانہ قتل کے بعد بھارت کا چہرہ کھل کر سامنے آیا تھا۔ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں صحافی ہونا گویا سمندر میں رہ کر مگر مچھ سے بیر رکھنے کے مترادف ہے۔ بھارت اپنے تیئں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار بنتا ہے۔ جبکہ یہی بھارت صحافت کے لیے دنیا کا آٹھواں خطرناک ترین ملک ہے۔

گزشتہ دنوں بھارتی انتظامیہ کی طرف سے خاتون فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرہ کو سائبر قانون کی خلاف ورزی کے جھوٹے الزام میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ مسرت زہرہ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کی پہلی خاتون فوٹو جرنلسٹ ہیں۔ مسرت زہرہ کے خلاف سخت قانون انسداد قوم دشمن سرگرمیاں (یو اے پی اے ) کو لاگو کرتے ہوئے جموں و کشمیر پولیس نے مقدمہ درج کیا۔ اُن پر الزام عائد کیا گیا کہ اُنھوں نے سوشل میڈیا پر ملک دشمن پوسٹ ڈالتے ہوئے قابل گرفت کام کیا ہے۔ مسرت زہرہ کا کام واشنگٹن پوسٹ، الجزیرہ، دی کاروان اور ہندوستان و بیرون ملک کے دیگر نامور اداروں نے شائع کیا ہے۔ وہ اپنے جرنلزم میں بھارت کے زیر تسلط کشمیر کی صورت حال، خصوصاً عورتوں اور بچوں کی حالت زار کو موضوع بناتی ہیں۔
بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کی تاریخ 90 ء کی دہائی سے شروع ہوتی ہے۔ 1990 میں جب آزادی کی تحریک جب عروج پر پہنچی، تو کشمیر کے ایک معتبر صحافی اور روزنامہ ’الصفاء‘ کے ایڈیٹر شعبان وکیل کو قتل کرکے صحافت کے راستے میں سب سے پہلا پتھررکھا گیا تھا، بھارتی ریاستی جبر کا یہ سانپ کئی کشمیری صحافیوں کا خون پی کر بھی سیر نہیں ہوا اور اب خاتون صحافی کی طرف اپنا پھن پھیلائے دیکھ رہا ہے۔
بھارت جیسے ملک میں عوام کو اور پھر پوری دنیا کو بے خبر رکھنا از حد ضروری ہوتا ہے، تا کہ دنیا میں ایسی ریاست کا اصل چہرہ بے نقاب نہ ہو سکے جہاں بنیادی انسانی حقوق اپنا کوئی وجود نہیں رکھتے۔ بھارتی اور بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ کام کرنے والے تین فعال کشمیری صحافیوں مسرت زہرہ، گوہر گیلانی اور پیرزادہ عاشق کے خلاف بغاوت کے مقدمات قائم ہیں۔ ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ یہ تینوں صحافی بھارتی یونین ٹیرٹری میں بھارت کے خلاف سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس اپ لوڈ کر رہے ہیں جو بھارت سرکار کے خلاف عوام کے جذبات کو ابھارا دیتی ہیں۔ یعنی بھارتی درندگی کے واقعات کی تصویرکشی کرنا، اس کی خبر شائع کرنا اس کے خلاف بغاوت ہے جبکہ بھارتی فوج اور پولیس کے انسانیت اور انسانی حقوق کے خلاف سنگین نوعیت کے جرائم قابلِ باز پرس نہیں ہیں۔

پیر زادہ عاشق کو فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے ایک نوجوان کے خاندان کی بپتا لکھنے پر مقدمات کی دلدل میں دھکیلا گیا ہے، جبکہ گوہر گیلانی سے بھی اسی قسم کی کہانی منسوب کی جا رہی ہے۔ بھارت سرکار جس چیز سے سب سے زیادہ ناخوش ہے وہ ہے ان صحافیوں کی طرف سے حریت پسندوں کی جنازوں کی میڈیا کوریج۔ ان جنازوں میں ہزاروں افراد کا سیلاب امڈ آتا ہے، صحافی ان میں سے کسی ایک کو بھی گھر سے گھسیٹ کر ساتھ نہیں لاتا، اب جب صحافی یہ منظر دیکھ رہا ہے تو وہ اس پر کیا لکھے جو بھارت سرکار کے لیے قابلِ قبول ہو؟
بھارت سرکار کے یہ اقدامات بھارت کو ایک بدترین فسطائی ریاست کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ بھارت جمہوریت کے لبادے میں ایک فسطائی ریاست ہے۔ کشمیری صحافیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے اس سلوک سے صاف ظاہر ہے کہ بھارت میں قطعی طور پر جمہوریت موجود نہیں ہے۔ جمہوری بندوست رائے کی آزادی اور تعظیم کا نام ہے۔ مسرت زہرہ کی تصویروں میں بھارت کو اپنا چہرہ سیاہ اور داغ دار نظر آتا ہے تو وہ اس کا انتقام کی آگ میں جل رہا ہے، وہ اس کا انتقام ایک نہتی لڑکی مسرت زہرہ سے لینے کا خواہشمند ہے۔
Mohsin Shafiq