مطالعۂ پاکستان، حملہ آور اور مفتوحین

جنگوں، حملہ آوروں کی تاریخ کا مطالعہ کرتے وقت قاری کو اپنی گہری نگاہ اس زمین اور قوم اور ان کے حالات اور تہذیب پر رکھنی چاہیے، جس پر حملہ کیا گیا۔ جسے فتح کیا گیا۔ مفتوح زمین کے لوگ انسانی المیے کے بدترین منظر سے گزرتے ہیں۔ وہ لڑتے بھی ہیں۔ مزاحمت بھی کرتے ہیں۔ ان کے سپہ سالار اور گمنام سپاہی مارے بھی جاتے ہیں۔ ان کی موت ان کے لیے کسی عظیم المیے سے کم نہیں ہوتی۔ پھر جب فاتح لشکر گھوڑوں پر سوار مفتوح بستیوں میں دندناتے ہوئے داخل ہوتے ہیں اور ان کے سامنے دو آپشنیں رکھتے ہیں۔ یا ہماری اطاعت قبول کرو۔ یا زن، زر، زمین و اولاد سمیت مرنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔ اس وقت مفتوح قوم کی اکثریت جان و مال بچانے کے لیے اطاعت قبول کرتی ہے۔
مورخ عموماً فاتح کا مدح سرا ہوتا ہے۔ فاتح کے حکم پر تاریخ لکھتا ہے۔ سچ لکھے گا تو بھی فاتح کی طرف کا۔ لکھے گا کہ وہ اتنا رحم دل تھا کہ بالآخر اس نے ان سب کی جانیں بخش دیں!
بزدل مفتوح قوم نے کس طرح ان کی اطاعت قبول کی۔
مورخ کبھی بھی یہ نہیں لکھے گا کہ حملہ آور لشکر کتنے انسانوں کو روندتا ہوا گزرا اور کتنی آباد بستیوں کو آگ لگائی۔ اور انسانوں کی چیخ و پکار سے کس طرح دل دہل جاتے تھے اور کس طرح اجڑی بستیوں کے لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں ڈھونڈتے پھرتے تھے! اور کس طرح مفتوح افراد حملہ آور سپہ سالار سے جان کی امان بھیک میں مانگتے پھرتے تھے۔

مورخ لکھے گا کہ پھر اس عظیم فاتح نے انہیں جان کی امان دے دی۔
جب دلّی کو برباد کرنے کے لیے نادر شاہ درانی کے سپاہیوں نے گھر گھر کو تہ تیغ کیا اور اتنا خون بہایا کہ شہر کی نالیاں خون سے ابل پڑیں۔ شہر کے گنجان علاقے لاشوں سے اٹ گئے۔ ہزاروں عورتوں کی عصمت دری کی گئی اور سینکڑوں نے کنووں میں کود کر خودکشی کی۔ کئی عورتیں اپنے باپ بھائیوں کے ہاتھوں اس خوف سے قتل کر دی گئیں کہ کہیں وہ نادرشاہی لشکر کے ہتھے نہ چڑھ جائیں۔
مورخ مقتولوں کی تعداد لکھتا ہے کہ پہلے ہی دن تیس ہزار لوگ قتل ہوئے۔
مگر مورخ ہمیشہ مقتولوں کی تعداد لکھ دے گا۔ وہ تعداد کتنے المیوں کی ابتدا بنی، یہ نہیں بتائے گا۔
بالآخر وزیراعظم نظام الملک ننگے پاؤں، ننگے سر نادرشاہ کے دربار میں رحم کی بھیک مانگنے پیش ہوا۔
وزیراعظم نظام الملک سے جب نادر شاہ نے اپنی فتح کی داد چاہی تو اس نے امیر خسرو کا شعر پڑھ دیا۔
دگر نماندہ کسی تا بہ تیغ ناز کشی
مگر کہ زندہ کنی مردہ را و باز کشی

ترجمہ:
اور کوئی نہیں بچا جسے تو اپنی تیغ ناز سے قتل کرے
سوائے اس کے کہ مردوں کو زندہ کرے اور دوبارہ قتل کرے
یہاں دلّی کی بربادی کے پس منظر کے ساتھ وہ شعر بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس شعر میں انسانی المیے کا نوحہ محسوس کیجیے، جو جنگوں اور حملوں اور فاتح و مفتوح پر صادق آتا ہے۔

مطالعہ پاکستان کا نصاب فاتح اور مفتوح کی منظر کشی کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ روز اوّل سے پاکستان کی روح قبض کیے رکھنے والوں نے خود کو فاتح سمجھا ہے اور یہاں کے مقامی قوموں کو اور ان کی دھرتی کو مفتوح سمجھا ہے۔ اسی کی بنیاد پر جھوٹا مطالعہ پاکستان ترتیب دیا گیا ہے۔
غور کرو تو آج بھی پاکستانی عوام ننگے پاؤں اور ننگے سر نادرشاہی دربار میں کھڑے ہیں اور امیر خسرو کا شعر کہہ رہے ہیں۔
اور کوئی نہیں بچا جسے تو اپنی تیغ ناز سے قتل کرے
سوائے اس کے کہ مردوں کو زندہ کرے اور دوبارہ قتل کرے۔
Nurulhuda Shah