اٹھارہویں ترمیم پر ”معاملہ“: نواز شریف اور زرداری نے کیا شرائط رکھ دیں؟

اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے سیاسی سودے بازی کی غرض سے آصف زرداری اور نواز شریف کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے خفیہ مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوگئے، ایون فیلڈ اور بلاول ہاؤس نے مقتدر حلقوں کے پیغام کے جواب میں اپنی شرائط پیش کر دی ہیں اور یوں آئین پاکستان سے اٹھارہویں ترمیم کی ”واپسی“ پر مشروط رضامندی دے دی ہے، اور بال اسٹیبلشمنٹ کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ مقتدر قوتوں کی طرف سے ”نون“ لیگ اور پی پی پی کی اعلیٰ قیادت کی شرائط مان لینے کا گرین سگنل دیے جاتے ہی نیب کے قانون میں اہم ترامیم کا بل ایوان میں پیش کر دیا جائے گا تاکہ بجٹ سے پہلے پہلے 18 ویں ترمیم کا ”ڈنک“ نکالنے کا مشکل مرحلہ عبور کیا جاسکے۔
ذرائع کے مطابق ”ایون فیلڈ اپارٹمنٹس“ سے بھیجے گئے پیغام میں اٹھارہویں ترمیم کے معاملے پر بات کرنے کے لئے یہ شرائط رکھی گئی ہیں : نواز شریف۔ ، اسحاق ڈار، مریم نواز، شہباز شریف، سلیمان شہباز، حمزہ شہباز اور یوسف عباس کے خلاف قائم کیے گئے تمام کرپشن کیس ختم کیے جائیں، حسین نواز، حسن نواز کے علاوہ سلیمان شہباز اور علی عمران کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی بھی کالعدم کی جائے، اسحاق ڈار، نواز شریف اور شریف فیملی کے دیگر ارکان کی پاکستان واپسی کے لئے ”محفوظ قانونی راہ“ یقینی بنائی جائے اور نواز شریف کی نااہلی کالعدم کرنے کی غرض سے نیب کورٹ کی سزا کے ساتھ ہی مجرم کی نااہلی کی بجائے اسے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف آخری اپیل کے فیصلے سے مشروط کیا جائے۔
بتایا جاتا ہے کہ اسی طرح ”بلاول ہاؤس“ نے بھی اپنے جواب میں پہلے آصف علی زرداری اور فریال تالپُور کے خلاف کرپشن و منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات کے تحت بنائے گئے تمام مقدمات ختم کرنے اور اس مقصد کے لئے دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں نیب آرڈیننس میں ترامیم عمل میں لانے کا تقاضا کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ”کپتان“ نے نیب قانون میں ایسی مجوزہ ترامیم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے ”پھر میں تو سیاسی طور پر فارغ ہو جاؤں گا“ شاید اسی لئے وفاقی وزیر شیخ رشید کو یہ کہنا پڑا کہ ایسا کوئی بل قومی اسمبلی کے ایوان میں پیش کیے جانے پر وہ سیشن کا بائیکاٹ کریں گے تاہم باور کیا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی اراکین پارلیمنٹ اور اتحادی جماعتوں کے ارکان کا ووٹ حاصل کرلیا جائے گا اور یوں، سنجیدہ سیاسی حلقوں کے نزدیک سیاسی کشمکش کے اس اہم موڑ پر کپتان اکیلا رہ گیا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کی جزوی یا کلی واپسی جن طاقتور حلقوں کی ضرُورت ہے وہ اس کے لئے درکار سودے بازی پر بدلے میں نیب قانون کا“ ڈنک ”نکالنے کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، اور انہیں اگر کپتان کو حقیقی معنوں میں بھی فارغ کرنا پڑتا ہے تو دریغ نہیں کریں گے۔ شاید قوم اگلا قائد ایوان اسد عمر کو دیکھے۔
ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں ”گیس کنگ آف پاکستان“ رینٹل پاور سکینڈل فیم بزنس ٹائیکون اقبال ظفرالدین احمد جو اقبال زیڈ احمد کے نام سے مشہور ہیں، اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان بیک ڈور چینل کا کردار ادا کر رہے ہیں جو سابق وزیراعظم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سے لے کر جنرل پرویز مشرف اور نواز شریف سے لے کر آصف زرداری تک نہ صرف ہر حکمران سے ذاتی قربت کے حامل رہے ہیں بلکہ اب انہیں ”پاور بروکرز“ یعنی مقتدر حلقوں کا اعتماد بھی حاصل ہے۔
انرجی سیکٹر کے اجارہ دار ”مہران گیس“ اور جام شورو جائنٹ وینچر کے مالک اقبال زیڈ احمد کو ”ملک ریاض ثانی“ بھی سمجھا جاتا ہے کہ وہ بھی ”راولپنڈی“ کے ساتھ ساتھ بیک وقت ہر سیاسی جماعت کی طاقت کے مرکز کا ذاتی اعتماد رکھتے ہیں لیکن گیس کنگ بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین سے کہیں زیادہ اثر و رسُوخ کی حامل شخصیت گردانے جاتے ہیں۔
اقبال زیڈ احمد، پیپلزپارٹی کے لیگل جائنٹ اعتزاز احسن کے مؤکل رہنے کے ساتھ ساتھ مبینہ محسن بھی مانے جاتے ہیں جنہوں نے ان کی بیگم بشریٰ اعتزاز کے نام بھمبر (آزاد کشمیر) میں ایجنسی دیتے ہوئے ”مہران گیس“ کا خصوصی کوٹہ الاٹ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق متذکرہ سیٹھ نے اٹھارہویں ترمیم میں اہم ترامیم کے مسودے کی ایک ایک کاپی لندن میں سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، سابق وزیراعظم نواز شریف کے علاوہ پاکستان میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے قائد آصف زرداری کو پہنچا دی ہے، جو مقتدر حلقوں کی طرف سے تیار کروایا گیا ہے جبکہ نیب قانون میں ترامیم کے لئے مرتب کی گئیں نہایت اہم سفارشات پر مبنی مسودہ اقبال زیڈ احمد نے حال ہی میں ”راولپنڈی“ کی نمائندگی کرنے والی بعض شخصیات کے حوالے کیا ہے جس میں شامل تجاویز دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کی خواہشات کی روشنی میں مشترکہ ”محنت“ سے تیار کی گئی ہیں۔

Aleem Usman