دوسری اور تیسری بیوی

معروف کامیڈین، اداکار امان اللہ (مرحوم) نے تین شادیاں کیں۔ ان تین بیگمات سے ان کے 14 بچے ہیں۔ پہلی بیوی سے چھ اور دوسری، تیسری سے چار چار بچے۔ سوشل میڈیا پر امان اللہ کا ایک انٹرویو سننے کا موقع ملا جس میں اس نے دوسری شادی نہ کرنے کی تلقین کی۔ اداکار امان اللہ کی طرح جن شخصیات نے دوسری یا تیسری شادی تو کرلی مگر ازاں بعد اکثریت کا کہنا یہ تھا کہ حتی الوسع دوسری یا تیسری شادی سے اجتناب کیا جائے، اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے وائس چیئرمین اور ذوالفقار علی بھٹو کے قریب ترین ساتھی شیخ محمد رشید (مرحوم) نے اپنی داستان حیات ’’جہد مسلسل‘‘ میں ایک تجربہ بیان کیا کہ ہر چند اسلام میں دوسری شادی کی اجازت ہے، تاہم آپ بیتی کی بنیاد پر یہ suggest کرنا چاہوں گا کہ ناگزیر حالات ہی میں ایسا قدم اٹھایا جائے۔ اس سے راحت کم اور تلخیوں میں اضافہ ہوتا ہے، جسے مخصوص حالات میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔ سرائیکی کے ایک معروف شاعر اور دانشور طفیل عرشی کی 25 ویں برسی 29 اپریل کو منائی گئی۔ وہ پیرووال، خانیوال کے قریب جیپ کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ طفیل عرشی کا کہنا تھا کہ والد نے دوسری شادی کر لی۔ مجھے اچھا نہ لگا۔ والدہ اور ہمشیرہ کو لے کر داجل سے لاہور آ گیا۔ یہ 1969ء کا زمانہ تھا۔ والدہ پسماندہ ترین علاقہ سے تعلق کے باوجود اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں۔ وہ گورنمنٹ سکول میں پڑھاتی رہیں۔ ہیڈ مسٹرس بنیں۔ میری بہن عمرانہ پروین نے دو تین مضامین میں ایم اے کے ساتھ قانون کی ڈگری حاصل کر لی۔ لاہور ڈسٹرکٹ بار سے سپریم کورٹ بار تک کی نائب صدر بنیں۔ پنجابی کے عوامی شاعر استاد دامن کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ انسان کو شادی صرف ایک بار کرنی چاہیے۔ یہی وفا شعاری ہے۔ دوسری شادی کو میں سودے بازی سمجھتا ہوں۔ استاد دامن نے زیادہ تنہائی کی زندگی بسر کی۔ انکی بیوی فوت ہو گئی اور لڑکا بھی۔ انھوں نے دوسری شادی نہیں کی۔ سید ضمیر جعفری اردو طنزیہ، مزاحیہ شاعری میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔ ان سے میں نے شادی بلکہ شادیوں کے بارے میں سوال کیا تو ان کا جواب تھا۔ اب تک دو شادیوں سے گزر چکا ہوں اور تیسری شادی سے (تادم تحریر) گزشتہ 46 برس سے عہدہ برا ہو رہا ہوں۔ پہلی شادی ایک بنتِ عم سے والدین نے کی۔ دولھا اس وقت نویں جماعت میں اور دلھن چوتھی جماعت میں پڑھتی تھی۔ یہ شادی تقریباََ ’’غیر تعمل‘‘ ہی تحلیل ہو گئی۔ دوسری دونوں شادیوں میں ’’رومان‘‘ کا شائبہ شامل تھا۔ مگر منجھلی بیگم بہت جلد اللہ کو پیاری ہو گئیں اور ’’سنبھلی‘‘ یعنی تیسری بیگم ابھی تک ہمیں ’’پیاری‘‘ چلی آ رہی ہیں۔ ہمارے بیٹوں کی ماں ہونے کا ’’قرعہ‘‘ اسی نیک بخت کے نام نکلا۔ ڈاکٹر طاہر تونسوی اردو ادب کے معروف محقق، نقاد، شاعر اور معلم تھے۔ حال ہی میں ان کا انتقال ہوا۔ پہلی بیوی کے انتقال کے بعد انھوں نے دوسری شادی نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا۔ ایک تجربہ تھا، سو ہو گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں انپے بچوں کے ساتھ اطمینان کی زندگی بسر کر رہا ہوں۔ جورو کا غلام بننے کی خواہش نہیں۔
قتیل شفائی کا شمار مقبول ترین شعرا میں ہوتا تھا۔ انھوں نے فلموں کیلئے بھی مشہور گیت لکھے۔ میں نے ان سے پوچھا تھا کہ ’’آپ نے کتنے عشق فرمائے‘‘ تو ان کا جواب تھا۔ میںکوئی جوش ملیح آبادی نہیں ہوں کہ سترہ عشق کروں، نہ محمود غزنوی ہوں کہ ہندوستان میں سترہ حملے کیے ہوں۔ زندگی میں یہ تجربے ہیں۔ بس ایک تجربہ ’’مطربہ‘‘ والا سامنے آیا۔ جون ایلیا نے زاہدہ حنا سے شادی کی۔ زاہدہ حنا بھی شاعرہ، ادیبہ اورکالم نگار ہیں۔ زاہدہ حنا سے جون ایلیا کی لو میرج تھی۔ اس کے باوجود علیحدگی ہو گئی۔ جون ایلیا کا قیام کراچی میں تھا مگر وہ اکثر لاہور آتے تو میری ملاقاتیں ان سے رہتیں۔ میں نے جون ایلیا سے پوچھا کہ علیحدگی کی وجہ؟ ان کا جواب تھا۔ اس کا ادیبہ ہونا مجھے تباہ کر گیا۔ اس کے اندر ایک ایسی انا پیدا ہو گئی تھی جس کی بنا پر علیحدگی کی نوبت آئی۔ اس نے میرے ساتھ جو رویہ اختیار کیا، وہ جارحانہ تھا۔
معروف شاعر فرحت شہزاد امریکا میں مقیم ہیں۔ ایک بار جب وہ امریکا سے لاہور آئے تو ان سے میری ملاقات رہی۔ اس نے دو شادیاں کیں۔ پہلی شادی انڈین لڑکی سے کی جو شادی سے قبل ہندو تھی۔ پہلی بیگم کے انتقال کے بعد دوسری شادی بھی غیر مسلم لڑکی سے کی۔ میرے سوال کے جواب میں اس کا کہنا تھا کہ دونوں برضا و رغبت مسلمان ہوئیں۔ جسے میں اپنی خوش نصیبی تصور کرتا ہوں۔
Tanvir Zahoor Nawa i waqt