نیا پاکستان پرانی بیورو کریسی

2018 کے انتخابات سے پہلے پاکستان کے عوام پرانے چہروں پرانے پاکستان یعنی” اسٹیٹس کو” سے انتہائی تنگ آ چکے تھے۔ ان حالات میں سیاست کے نئے چہرے عمران خان نے تبدیلی اور نیا پاکستان کا نعرہ دیا جس سے پاکستان کے عوام میں ایک نئی امید اور نیا حوصلہ پیدا ہوا۔ انہوں نے پرجوش انداز میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو ووٹ دے کر کامیاب بنایا۔ عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد نئے پاکستان کی تشکیل کے لئے اقدامات اٹھائے تو انہیں پرانی بیوروکریسی کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بیوروکریسی گزشتہ تیس سالوں کے دوران پروان چڑھی تھی جن کو میرٹ سے ہٹ کر سیاسی وفاداری کی بنیاد پر بھرتی کیا گیا تھا۔ اس پرانی بیوروکریسی نے احتساب کا شفاف اور یکساں نظام مضبوط اور مستحکم نہ ہونے دیا واضح اور غیر مبہم قانون سازی نہ ہونے دی تاکہ انصاف اور احتساب کے نظام کو مفلوج بنایا جا سکے۔ ججوں کی تعیناتی بھی اکثر اوقات سیاسی اور اقربا پروری کی بنیادوں پر کی گئی۔ انصاف کرنے والے جج آزاد اور غیر جانبدار نہیں تھے اس لیے پاکستان کے عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور دفاع نہ کیا جا سکا۔ پرانی بدنیت اور نااہل بیوروکریسی نے ریاستی اداروں کو کمزور اور مفلوج کرکے رکھ دیا جبکہ کرپٹ خاندانوں کو مضبوط بنایا۔

وزیراعظم عمران خان نے پولیس اور بیوروکریسی میں میں اصلاحات کر نے کی کوشش کی تو بیوروکریسی نے قلم چھوڑ خاموش ہڑتال کردی، وزیراعظم کو بیوروکریسی کا اجلاس بلا کر کر انہیں اعتماد میں لینا پڑا۔ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح برصغیر کے مسلمانوں کے مزاج اور فطرت شناس تھے – وہ گاہے بگاہے مفاد پرست اور موقع پرست طبقات کی ذہنیت کے بارے میں اپنی قوم کو خبردار کرتے رہے۔ انہوں نے 6مئی 1945 کو اے ایچ اصفہانی جو امریکہ میں پاکستان کے پہلے سفیر نامزد کئے گئے کے نام ایک خط میں تحریر کیا ” ہندوستان کے مسلمانوں میں کرپشن ایک لعنت بن چکی ہے خاص طور پر نام نہاد تعلیم یافتہ اور دانشور افراد اس لعنت میں گرفتار ہیں بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ یہ طبقہ اخلاقی اور دانشورانہ طور پر کرپٹ ہے اس میں شک نہیں کہ یہ بیماری عام ہے مگر اس مخصوص طبقے میں کرپشن روز بروز بڑھتی جارہی ہے”قائد اعظم نے گیارہ اگست 1947 کے اپنے تاریخی خطاب میں فرمایا “رشوت ستانی اور بدعنوانی دراصل ایک زہر ہے ہمیں نہایت سختی سے اس کا قلع قمع کر دینا چاہیے”ڈاکٹر کنیز یوسف کی تحقیق کے مطابق قائد اعظم نے سرکاری ملازمین کے لیے راہنما اصول متعین کیے تھے اور فرمایا تھا “کہ سرکاری ملازمین سیاست سے الگ رہیں اور عوام کی خدمت کریں وہ عوام حاکم نہیں بلکہ ان کے نوکر بن کر رہیں عوامی مسائل کے سلسلے میں برداشت کا مظاہرہ کریں اور عوام کے مطالبوں کا احترام کریں اقربا پروری اور رشوت ستانی سے دور رہیں اور میرٹ پر فیصلے کریں اپنے فرائض منصبی کے دوران کسی کے دباؤ میں نہ آئیں، اپنا فرض انتہائی احساس وفاداری، بڑی دیانتداری، راست بازی ولگن اور وفا شعاری کے ساتھ انجام دیں، منتخب جمہوری حکومت کے ساتھ سیاستدان کے طور پر نہیں بلکہ خادموں کی طرح تعاون کریں اپنے فرائض منصبی اس انداز سے ادا کریں کہ قیامت کے روز اللہ کی عدالت میں سرخرو ہوسکیں”( پالیٹکس اینڈ پالیسیز آف قائد اعظم صفحہ 257)

انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد قائداعظم کے نظریات کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا اور پاکستان کی ریاست پر انگریزوں کے پروردہ اور تربیت یافتہ لوگ قابض ہو گئے-تاریخ شاہد ہے کہ جس سیاستدان نے بھی قائد اعظم کے نظریات کے مطابق پاکستان کی تشکیل نو کی کوشش کی اس کو سیاسی منظر سے ہٹا دیا گیا- اس میں کوئی شک نہیں وزیراعظم عمران خان قائداعظم کے نظریات کے مطابق نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں مگر ان کو پاکستان کی پرانی بیوروکریسی اور مافیا کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سینٹ اور قومی اسمبلی کے اراکین کی اکثریت عمران خان کو یہ یقین دہانی کرا چکی ہے کہ وہ آئینی انقلابی اور عوامی اصلاحات کے سلسلے میں موجودہ حکومت سے مکمل تعاون کریں گے اور ان کی حکومت کو عدم اعتماد کی تحریک کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا – عمران خان اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ پرانی بیوروکریسی کے ساتھ نیا پاکستان تشکیل نہیں دیا جاسکتا لہٰذا 22 کروڑ عوام کے مفاد کا تقاضہ ہے کہ بیوروکریسی میں سکرینگ یعنی تطہیر کی جائے۔انتہائی قابل اعتماد ذرائع کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے ریاست کے تمام اداروں اور شعبوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ایسے سرکاری ملازمین کی نشاندہی کی جائے جو 20 سال کی سروس پوری کر چکے ہیں اور ان کی سروس کا ریکارڈ شفاف نہیں ہے- جن کی شہرت خراب ہے یا جو مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے رہے یا کرپشن میں ملوث رہے اور آئین اور قانون کی خلاف ورزی اور بے ضابطگیوں کے مرتکب ہوئے ہیں۔

آئین اور قانون کے مطابق ایسے تمام سرکاری افسروں کو زبردستی ریٹائر کیا جا سکتا ہے جو اپنی بیس سال کی سروس پورے کر چکے ہوں۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی سینئر بیوروکریسی میں مسلم لیگ نون اور پی پی پی کے سیاسی وفادار شامل ہیں جو ذہنی و فکری اعتبار سے تحریک انصاف اور عمران خان کے سخت خلاف ہیں لہٰذا ان کی موجودگی میں تحریک انصاف کی حکومت اپنے انقلابی منشور پر عمل درآمد نہیں کر سکتی اور ریاست کے مستقبل کی خاطر وہ فیصلے اور اقدامات نہیں لیے جاسکتے جو کہ انتہائی ضروری ہو چکے ہیں – عوام دشمن مفاد پرست بیوروکریٹس سے نجات حاصل کرنے کا یہی بہترین راستہ ہے کہ انہیں آئین اور قانون کے مطابق جبری ریٹائر کر دیا جائے جسے پاکستان کی تاریخ میں کئی بار آزمایا جا چکا ہے اور اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آتے رہے ہیں البتہ یہ کام ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر نھیں بلکہ ریکارڈ کی بنیاد پر ھونا چاھئے تا کہ حکومت کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج نہ کیا جا سکے- اگر وزیراعظم عمران خان پرانی ذہنیت کے حامل بیوروکریٹس سے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک نیا پاکستان وجود میں نہ آسکے- نیب پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومت سندھ کے نو اضلاع میں 15 ارب روپے کی گندم چوری ہو چکی ہے – اس ڈکیتی میں ملوث افراد نے پلی بارگین کے قانون کے مطابق10 ارب روپے واپس کرنیکا معاہدہ کرلیا ہے اگر پرانی بیوروکریسی کی سہولت اور معاونت نہ ہوتی تو اس قدر بھاری تعداد میں گندم کبھی چوری نہیں کی جاسکتی تھی۔ مفاد پرست اور عوام دشمن بیوروکریٹس کے تعاون سے پاکستان کی قومی دولت کو بڑی بے دردی اور سنگدلی سے لوٹا گیا ہے لہٰذا یہ بیوروکریٹس ہرگز کسی رحم اور نرمی کے مستحق نہیں ہیں۔
Qayyum Nizami Nawa i waqt