سندھ میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی پر مبنی کیس پر درخواست کی سماعت

کراچی : سندھ میں موٹر سائیکل کی ڈبل سوار ی پر پابندی پر مبنی کیس پر درخواست کی سماعت میں جسٹس محمد علی مظہر ، سندھ پولیس اور سندھ حکومت پر برہم۔ قانون انسان کے لیے بنائے جاتے ہیں ، انسان قانون کے لیے نہیں بنایا گیا، حکومت فوری طورپرایس اوپی تیارکرکے اس معاملے کوحل کرے،حکومت سندھ ایسی قانون سازی کرے جس سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی لگادی خدانخواستہ کسی کو ایمرجنسی ہوجائے تو وہ اسپتال کیسے جائیں گے، کیا سندھ حکومت نے ایمرجنسی کی صورت میں ہر گھر کے باہر ایمبولینسیں کھڑی کردی ہیں، کیا صوبے میں ایسا نظام بنادیا گیا ہے کہ فون کرو تو فورا ایمبولینس آجائے گی،پولیس اور فورسز کے لوگ ڈبل سواری پر پابندی ہونے کے باوجود بھی شہر میں گھوم رہے ہیں، کیا ڈبل سواری پر پابندی لگانے سے پہلے حکومت نے سوچا تھا،  ہم بھی سڑکوں پر نکلتے ہیں روز دیکھتے ہیں کہ فورسز والے لوگ کتنی خلاف ورزی کررہے ہوتے ہیں،کسی کو دل کا مرض لاحق ہے اس کے پاس گاڑی بھی نہیں تو وہ موٹر سائیکل پر اسپتال نہیں جاسکتا؟ ڈبل سواری کی وجہ سے کتنے لوگوں کو کرونا ہوا؟ سندھ حکومت سے کہیں عوام کے لیے مشکلات پیدا نہ کریں، 11 مئی کو ایس او پی بنا کر عدالت میں پیش کریں ورنا ہم خود قانون کے مطابق فیصلہ کردیں گے، 

عمیرعلی انجم کنوینر نیوز ایکشن کمیٹی پاکستان نے کہا کہ سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن کے سوا صوبے کے عوام کو کچھ نہیں دیا، جن وزراء نے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کی صحافی ان وزراء کو کوریج دینے کے لیے پیچھے پیچھے گھوم رہے ہوتے ہیں،  چند صحافی جن کی معمولی تنخواہیں ہیں وہ ڈبل سواری پر کوریج کے لیے جاتے ہیں، موٹر سائیکل کی ڈبل سواری موجود اہلکار شہر ڈبل سواری کام پر جانے والوں سے رشوت وصول کرتے ہیں۔
جب غلط طریقے سے قانون سازی کی جائے گی تو پھر اس طرح کی باتیں سامنے آئیں گی، جسٹس محمد علی مظہر کا ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمہ۔ کیا پولیس اہلکاروں کے لیے کوئی ایس او پی نہیں، جب پابندی لگائی گئی ہے تو وہ کیسے گھوم رہے ہیں؟ جسٹس محمد علی مظہر
ڈبل سواری کا غلط استعمال کیا جارہا تھا اس لیے پابندی عائد کی گئی،جواد ڈیرو سرکاری وکیل
عوام سے زیادتی نہ کی جائے، جسٹس محمد علی مظہر