ال چمکانے کا متبادل طریقہ، سینڈ پیپرسکینڈل کا خالق آسٹریلیا دوسروں پر کیچڑ اچھالنے لگا

ال چمکانے کے متبادل طریقہ کار کو تلاش کرتے ہوئے سینڈ پیپر سکینڈل کے خالق دوسروں پر کیچڑ اچھالنے لگے ،شین وارن نے کورونا وائرس دور کے بعد ایک جانب سے بھاری گیند کا منفرد آئیڈیا پیش کردیا،کسی قسم کی شائننگ درکار نہیں ہو گی،پیسرز سیدھی وکٹ پر بھی سوئنگ کر سکیں گے جن کو بال کے ساتھ کوئی گڑبڑ نہیں کرنا پڑے گی،سابق آسٹریلین لیگ سپنر کا کہنا ہے کہ کوئی نہیں چاہے گا کہ وسیم اکرم اور وقار یونس کے وقت کی طرح خود کو وکٹ کے کناروں پر چھپانا پڑے ۔
تفصیلات کے مطابق کرکٹ کی بااختیار باڈیز کورونا وائرس کے بعد کے حالات میں گیند کو چمکانے کے متبادل طریقہ کار تلاش کرنے میں مصروف ہیں اور بال ٹیمپرنگ کو قوانین کے دائرے میں لانے کی تجاویز بھی دی جا رہی ہیں تو دوسری جانب سینڈ پیپر سکینڈل کے خالق ملک آسٹریلیا سے شین وارن نے ایک منفرد تجویز پیش کرتے ہوئے ٹو ڈبلیوز کے دور پر بھی انگلیاں اٹھانا شروع کردی ہیں جس کا مقصد خود کو دودھ کا دھلا ثابت کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔

کورونا وائرس کے دور کے بعد گیند کوسوئنگ کرنے کیلئے لعاب اور پسینے کے روایتی استعمال کی جگہ ایک آسٹریلین کھیلوں کا سامان بنانے والے ادارے کوکابرا نے ویکس اپلیکیٹر تیار کرلیا ہے جسے ایک ماہ کے عرصے میں سامنے لا جا سکے گا جس کو امپائرز کی نگرانی میں سپنج کی مدد سے بال پر لگا کر اس کی چمک برقرار رکھی جا سکتی ہے لیکن آسٹریلین لیگ اسپن لیجنڈ شین وارن نے ایک منفرد آئیڈیا پیش کیا ہے کہ ایسی گیندیں تیار کی جائیں جن کی ایک سائیڈ قدرے بھاری ہو جسے چمکانے کی ضرورت پیش نہ آئے اور اس سے نہ صرف سیدھی اور سپاٹ وکٹوں پر بال کو سوئنگ کرنے میں مدد مل جائے گی بلکہ بال ٹیمپرنگ کے خدشات کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ممکن ہو جائے گا۔
شین وارن نے سوال اٹھایا کہ ایک جانب سے قدرے بھاری گیندیں کیوں تیار نہیں کی جا سکتیں جن کو ہمیشہ اور کسی بھی قسم کے حالات میں سوئنگ کیا جا سکے ۔شین وارن نے روایتی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ انہیں یقین نہیں کہ کوئی بھی ایسا چاہے گا کہ وسیم اکرم اور وقار یونس کے وقت کی طرح خود کو وکٹ کے کناروں پر چھپانا پڑے جب حد سے زیادہ سوئنگ انہیں وکٹ پر کھڑا ہونے کی مہلت بھی نہیں دیتی تھی اور شدید گرمی میں بھی سیدھی وکٹ پر دوسرے اور تیسرے دن بھی پیسرز کمال کی سوئنگ بالنگ کر سکتے تھے ۔
شین وارن نے بال ٹیمپرنگ کے حوالے سے مشہور آخری واقعے سینڈ پیپر سکینڈل کو فراموش کرتے ہوئے بڑی معصومیت سے واضح کیا کہ ایک جانب سے بھاری گیند کی تیاری سے آگے بڑھنے کیلئے ایک مناسب راستہ مل جائے گا اور اس کیلئے بال کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی گڑبڑ بھی نہیں کرنا پڑے گی۔سابق لیگ سپنر کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی اس پریشانی میں مبتلا نہیں ہونا پڑے گا کہ بال پر سافٹ ڈرنک بوتلوں کے ڈھکن،سینڈ پیپر یا کسی دوسری چیز کا استعمال کیا جا رہا ہے اور یوں بیٹ اور بال کے درمیان مقابلے میں توازن قائم ہو جائے گا۔
شین وارن نے حیران کن طور پر جنوبی افریقہ کے دورے میں ااپنے کھلاڑیوں سٹیو سمتھ، ڈیوڈ وارنر اور کیمرون بینکرافٹ کا ذکر تک نہیں کیا جنہوں نے حریف بیٹسمینوں کو قابو کرنے کیلئے بال کے ساتھ گڑ بڑ کی کوشش کرتے ہوئے سزا کا سامنا کیا بلکہ برسوں پرانے قصے کھول کر بیٹھ گئے اور اس حقیقت کو بھلا بیٹھے کہ دنیا بھر میں بالرز گیند کو اضافی یا ریورس سوئنگ کرنے کی خاطر اپنی ترکیبیں لڑاتے رہے ہیں اور آسٹریلین بھی اس الزام سے پاک نہیں لیکن انہوں نے موقع ملتے ہی پاکستانی پیسرز پر کیچڑاچھالنا شروع کردی۔
شین وارن کا موقف ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران بیٹ کی ساخت میں تبدیلی آتی رہی جو چوڑے اور ہلکے بنائے جاتے رہے لیکن گیند میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی اور اگران کی تجویز کو قابل غور سمجھا جائے تو کھیل میں توازن پیدا ہو جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ذرا بیٹس میں ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھیں کہ کس طرح وہ پہلے کے مقابلے میں ہلکے اور قدرے چوڑے بھی ہو گئے ہیں اور اسی طرح گیندوں میں تبدیلی کیوں نہیں آسکتی جو وقت کا تقاضا بھی ہے لیکن اگر اس سے ہٹ کر کوئی کوشش کی گئی تو حالات بدترین بھی ہو سکتے ہیں