عدالت نے فلم ” زندگی تماشا” کی ریلیز رکوانے کی درخواست پرفریقین کے وکلا کو بحث کیلئے 8 جون کو طلب کر لی

لاہور کی سیشن عدالت نے فلم ” زندگی تماشا” کی ریلیز رکوانے کی درخواست پرفریقین کے وکلا کو بحث کے لیے 8 جون کو طلب کر لیا۔ایڈیشنل سیشن جج سید امجد علی شاہ نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ زندگی تماشا میں مذہبی فرقے کو ٹارگٹ کیا گیا ہے،فلم ریلیز ہوئی تو معاشرے میں ہنگامہ برپا ہوگا،درخواست گزار وکیل نے استدعا کی کہ عدالت فوری زندگی تماشا کی ریلیز مکمل طور پر روکنے کا حکم دے جبکہ دوسری جانب عدالت میں سرمد سلطان کھوسٹ سمیت دیگر کی جانب سے وکلا نے وکالت نامے جمع کروا دیے ہیں اور موقف اختیار کیا کہ زندگی تماشہ فلم سوسائٹی کے اچھے پہلووں پر بنائی گئی ہے جس سے لوگوں کے ذہنی تناؤ میں کمی آئے گی جبکہ سنسر بورڈ نے فلم کو کلئیر کر کے کلیئرنس سرٹیفیکیٹ بھی دے دیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ فلم زندگی تماشہ کسی انفرادی یا اجتماعی طور پر کسی کے خلاف نہیں بنائی گئی ہی, یہ فلم لوگوں کی تفریح کے لیے بنائی گئی ہے،فلم میں کوئی ایسا موادشامل نہیں ہے کہ جس سے کسی کے مذہبی جذبات مجروح ہوں اس فلم میں معاشرے کا پازیٹو امیج اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے، عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد فریقین کے وکلا ء کو حتمی بحث کے لیے طلب کر لیا