سعودی عرب : سوشل میڈیا پر افواہیں یا غلط معلومات پھیلانے پر 10 لاکھ تک جرمانہ اور 5 سال تک قید کی سزا بھگتنا پڑے گی

 احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی 1 لاکھ ریال جرمانہ
ریاض: سعودی حکومت نے کورونا وائرس کے خلاف حکومتی احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی کرنے پر بھاری جرمانوں اور سزاؤں کا اعلان کردیا۔سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی حکومت نے کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے مقرر حفاظتی اقدامات اور انتظامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سزائیں اور سرزنش کے ضابطے مقرر کیے ہیں۔ وزارت داخلہ کے عہدیدار نے خلاف ورزیوں اور ان کی سزاؤں کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق جو افراد، نجی ادارے، ان کے ملازم یا ان سے لین دین کرنے والے، کورونا کی وبا سے نمٹنے کے لیے مقررہ حفاظتی اقدامات اور احتیاطی انتظامات کی خلاف ورزی کریں گے ان پر کم از کم 1 ہزار سے لے کر 1 لاکھ ریال تک کا جرمانہ ہوگا یا ایک ماہ سے لے کر ایک برس تک قید یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔ اگر ضروری سمجھا گیا تو 6 ماہ تک نجی ادارہ بھی بند کردیا جائے گا۔
اگر فرد یا ادارے نے خلاف ورزی دوبارہ کی تو سزا دگنی کردی جائے گی، سزا کی مقدار ہر خلاف ورزی کے لحاظ سے متعین ہوگی۔حکومت نے ہر خلاف ورزی اور اس کی سزا کا چارٹ بنا دیا ہے، خلاف ورزیوں کی زمرہ بندی بھی کردی ہے۔ اس کا فیصلہ وزیر داخلہ، وزیر صحت کے ساتھ مل کر کریں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جو شخص نقل و حرکت پر پابندی کے دوران کرفیو پاس یا اجازت نامہ مقررہ مقاصد کے سوا کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرے گا اس پر 10 ہزار تا 1 لاکھ ریال تک کا جرمانہ یا ایک ماہ سے لے کر ایک برس تک قید کی سزا ہوگی۔ قید اور جرمانہ دونوں سزائیں ایک ساتھ بھی دی جاسکتی ہیں جبکہ کرفیو پاس یا اجازت نامہ ضبط کرلیا جائے گا۔

آئسولیشن کی خلاف ورزی پر جرمانہ اور قید
وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ جو شخص قرنطینہ یا آئسولیشن کی ہدایات کی خلاف ورزی کرے گا اس پر 2 لاکھ ریال تک کا جرمانہ، 2 برس تک قید یا جرمانے یا دونوں سزائیں بیک وقت دی جائیں گی۔
خلاف ورزی دہرانے پر مذکورہ سزا دگنی کردی جائے گی۔
وائرس منتقل کرنے کی سزا
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر کورونا وائرس منتقل کرے گا اسے 5 لاکھ ریال تک جرمانے یا 5 برس تک قید کی سزا ہوگی، دونوں سزائیں ایک ساتھ بھی دی جا سکتی ہیں، خلاف ورزی دہرانے پر مذکورہ سزا دگنی کردی جائے گی۔

کرفیو پاس کی خلاف ورزی
وزارت داخلہ کے مطابق جو عہدیدار کرفیو کے دوران کسی ایسے شخص کو جس کا دفتر آنا جانا ضروری نہ ہو یا جس کے کام کی نوعیت کرفیو کے دوران نقل و حرکت کی متقاضی نہ ہو اسے کرفیو پاس یا اجازت نامہ دلانے میں سہولت دے گا اس پر کم از کم 10 ہزار ریال اورزیادہ سے زیادہ 1 لاکھ ریال جرمانہ ہوگا۔
اسے 1 ماہ سے 1 سال تک قید کی سزا دی جاسکتی ہے اور قید اور جرمانے کی سزائیں ایک ساتھ بھی ہوسکتی ہیں، خلاف ورزی دہرانے کی صورت میں مذکورہ سزا دگنی کردی جائے گی۔
افواہیں پھیلانے کی سزا
وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ جو شخص کورونا وائرس کی وبا سے متعلق سوشل میڈیا یا سوشل ایپلی کیشنز پر کوئی افواہ پھیلائے گا، یا پھیلانے میں حصہ لے گا، یا مغالطہ آمیز معلومات نشر کرے گا، یا ایسی مغالطہ آمیز معلومات پھیلائے گا جن سے خوف و ہراس پھیلتا ہو یا پھر حفاظتی اقدامات اور متعلقہ احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی پر اکسایا جارہا ہو ایسے شخص پر کم از کم 1 لاکھ ریال سے لے کر 10 لاکھ ریال تک کا جرمانہ ہوگا۔
ایسے شخص کو 1 برس سے لے کر 5 برس تک کی سزا بھی دی جائے گی یا دونوں سزائیں بھی دی جاسکتی ہیں، مبینہ خلاف ورزی دہرانے کی صورت میں مذکورہ سزا دگنی کردی جائے گی۔