عمران خان کا نیا پلان، اٹھارویں ترمیم کا ڈھانچہ بدلنے کے لیے نیا آئینی پیکیج تیار

وزیراعظم کا نیا پلان کیا ہے ۔اٹھارویں ترمیم کا ڈھانچہ تبدیل کرنے کے لیے نیا آئینی پیکج کس طرح کا تیار کیا جارہا ہے ۔وفاق کو مضبوط اور صوبوں سے اختیارات واپس وفا ق کو جلانے کا پلان ہے ۔اٹھارویں ترمیم میں جو کچھ صوبوں کو دیا گیا تھا اس پر نظرثانی کرکے انہیں کنفرنٹ لسٹ کے مطابق واپس اسلام آباد لایا جائے گا ۔اس حوالے سے پاکستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار صابرشاکر نئے تفصیلات بیان کی ہیں اور دعویٰ کیاہے کہ بہت جلد بہت کچھ ہونے والا ہے انہوں نے سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کا حوالہ بھی دیا اور عمران خان کے آئندہ پلان پر تفصیلی بحث بھی کی ان کا کہنا ہے کہ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ اٹھارویں ترمیم پر بھی نظرثانی ہوگی اور کنکرنٹ لسٹ میں وہ سب چیزیں جو صوبوں کے پاس چلی گئی تھی ان کو واپس اسلام آباد لاکر وفا ق کو مضبوط کیا جائے گا ۔اب اگر صوبائی اسمبلی میں کسی قسم کی قانون سازی ہوئی بھی ہوگی تو وفاقی حکومت قانون سازی کر کے اس کو منسوخ کردے گا ۔

صابر شاکر کا کہنا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے بہت ہی باریک ٹانکا لگایا گیا تھا اور اس کا مقصد صوبوں میں علاقائی جماعتوں کو مضبوط کرنا تھا اور اس کے پیچھے غیر ملکی سازش بھی نظر آتی ہے جو اس علاقوں میں چھوٹے چھوٹے ملک بنانے کا پلین رکھتا ہے اوپر بظاہر ایک وفاقی حکومت ہوا کرے گی لیکن اس کے اختیارات بہت کم ہوں گے اور نیچے صوبوں کے پاس وسیع اختیارات ہونگے تابش آگ نے کہا کہ کرونا کی صورتحال میں یہ سارا پلان سامنے آگیا اور پتہ چل گیا کہ وفا ق کو کس طرح کمزور کیا گیا تھا ۔علاقائی جماعتیں چاہتی تھی کہ اتنے غیرت مل جائیں کہ اپنے صوبوں میں شہنشاہ بن جائیں ۔بلوچستان کی صورت حال کو ذہن میں رکھ کر سوچیں تو آپ کو سارا پلان سمجھ میں آجائے گا پہلے بھی ہم بات کرتے تھے کہ مر میں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو جو اختیارات اور فنڈز دے دیئے گئے ہیں وہ مرکز کے لئے بہت خطرناک ہے لیکن اس وقت ان باتوں کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی مکرونہ کی صورتحال میں ثابت کردیا کہ پاکستان میں کوئی چیف ایگزیکٹیو نام کی چیز ہی نہیں ہے وزیراعظم کے پاس اختیارات ہیں نہیں ہیں صوبے تو بہت زیادہ خود مختار ہو چکے ہیں ۔