دہلی کی تہاڑ جیل میں

معلوم ہوا کہ وہ کسی مدرسے کے فارغ تھے، مگر بعد میں بری صحبت کا شکار ہوکر منشیات کا کاروبار کرنے لگے۔ خیر پورے رمضان کے مہینے انہوں نے امامت سنبھالی۔ واقعی نہ صرف وہ حافظ قرآن تھے، بلکہ خوش الحان قاری بھی تھے۔ ان کی قراٗت دلوں کو دستک دیکر مخمور کردیتی تھی۔ ان کی اقتدا میں لگتا تھا کہ جیسے واقعی نماز عشق ادا ہو رہی ہے۔مگر 29 رمضان کی شام جونہی خبر ملی کہ چاند دیکھا گیا ہے اور اگلے دن عید ہے، تو بیرک مقفل ہوتے ہی ، امام صاحب چادر اور ٹوپی اتار کر واپس اپنی جگہ لوٹ گئے

اور اگلی قطار یں جو ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے سونی ہوچکی تھیں، پھر آباد ہوگئیں۔ وہاں ایک بار پھر جوئے اور نشے کی بساط بچھ گئی۔ واہ رے مولا تیرے رنگ۔ رمضان کے مہینے میں اپنی روش کے برعکس جیل حکام نے روزہ داروں کا خاص خیال رکھا۔ اس پورے ماہ انکو وارڈ ، بیرک، غسل خانے صاف کرنے، لنگر ڈیوٹی اور دیگر کاموں سے مستثنیٰ رکھا گیا۔ تہاڑ جیل میں نان ویجی ٹیرین کھانے پر پابندی عائد ہے۔ سبزی اور دال پر گذارہ کرنا ہوتا تھا۔ پانی میں دال اور سبزی ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالنی پڑتی تھی۔ مگر رمضا ن کے دوران سحری کے وقت جو کھانا تقسیم ہوتا تھا ، اسمیں تڑکا لگا ہوتا تھا اور نسبتاً اچھی طرح سے پکایا ہوتا تھا۔ اکثر سویابین کی سبزی بھی ملتی تھی، جس سے گوشت کی طلب کسی حد تک کم ہوجاتی تھی۔ اس کھانے کو دیکھ کر ہی لگتا تھا کہ لنگر میں اس کو پکانے والے مسلمان ہی ہیں، جوروزہ داروں کو صحیح کھانا کھلا کر ثواب حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جس طرح اسکول میں بچوں کا ایک گروپ سا بنتا ہے ، اسی طرح بیرک میں بھی قیدیوں کا ایک گروپ بنتا ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کام تقسیم ہوتے ہیں۔ اگر کسی کی کورٹ میں تاریخ ہے ، تو اس کے حصہ کا کھانا لنگر سے وصول کرنا اور بیرک اور وارڈ کی صفائی کیلئے بھی باری باری نام دینا وغیرہ۔ میرے گروپ میں ایک کشمیری پنڈت کمپیوٹر انجینیر اروند مکو، دہلی یونیورسٹی کا ایک طالب علم انیل کمار اور میرٹھ کے کسی دیہات کا مکین احتشام الدین تھے۔ پنڈت جی کھانے پینے کے بڑے شوقین تھے۔ جب اگلے روز سحری کے کھانے کی میں نے تعریف کی، تو اروند مکو کے منہ میں پانی بھر آیا۔ آو نہ دیکھا تاوٗ، اس نے بھی جیل آفس جاکر اپنا نام روزہ داروں میں لکھوا دیا۔ سحری میں تڑکے والا کھانا کھا کر تو وہ سو گیا۔ مگر صبح سویرے چائے نہ ملنے سے وہ خاصا مضطرب تھا۔ دوپہر ہوتے ہوتے اسکی حالت خاصی خراب ہوچکی تھی۔ وہ اب اس وقت کو کوس رہا تھا، جب وہ اپنا نام روزہ داروں کی فہرست میں لکھوا کر آیا تھا۔ اس دوران اسکو جیل آفس سے بلاوا آگیا ۔ مسلم قیدیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کیلئے ایک ہندو قیدی کا روزہ رکھنا، جیل کیلئے پبلسٹی اور حکومت کیلئے ہندو مسلم رواداری کی علامت تھی۔ ابھی چند روز قبل بھی تہاڑ جیل کی پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ ڈیڑھ سو کے قریب غیر مسلم روزہ رکھ رہے ہیں۔ واپسی پر پنڈت جی کی حالت نہایت خستہ تھی۔ ابھی افطار میں کئی گھنٹے باقی تھی۔ بس ہم نے اسکو پانی اور کچھ بسکٹ کھلاکر کہا کہ بچپن میں ہم بھی ایسے ہی روزے رکھتے تھے۔ سحری کرنے کے بعد دادی ہمیں دوپہر کا کھانا کھلا کر اسکو بچوں کا افطار کہتی تھی۔ مکو صاحب یہ یقین ہی نہیں کر پا رہے تھے کہ ہم پورا دن کھائے پئے بغیر گذارتے ہیں۔ مگر اب اس کے ساتھ ایشو تھا کہ چونکہ اس کا نام روزہ داروں کی فہرست میں درج کیا گیا تھا،اسکو ناشتہ اور لنچ نہیں دیا جاسکتا تھا۔ روزہ داروں کی فہرست سے نام نکلوانے میں اسکو اگلے دو تین دن دانتوں پسینہ آگیا۔ معلوم ہوا کہ لین دین کے بعد ہی مذکورہ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ نے کسی طرح اسکو دوبارہ عام قیدیوں کی فہرست میں شامل کردیا۔ مگر رمضان ختم ہونے تک میں اور احتشام سحری کے تڑکے والے کھانے میں سے کچھ بچا کر اسکے لئے رکھتے تھے۔ رمضان کے دوران تو جیل حکام نے جس طرح تعاون کیا، وہ عید کے دن مفقود تھا۔ عید سے چند روز قبل ہم نے جیل حکام کو مشورہ دیا کہ عیدکے روز لنگر سے سوئیو ں کا انتظام کیا جائے۔ طے ہوا کہ قیدی چندہ کرکے خود سوئیاں منگوائیں۔ چونکہ جیل ڈائٹ کے مطابق ہفتے میں دو بار قیدیوں کو کھیر ملتی تھی، جیل حکام نے کہا کہ اس کیلئے جو دودھ آتا ہے ، اس سے اس ہفتے سوئیاں بنائی جائیگی ۔ یعنی اس ہفتے اب کھیر نہیں ملے گی۔ قیدیوں نے تقریبا 12ہزار روپے کی رقم جمع کرکے جیل حکام کے حوالے کی۔ اس رقم سے سوئیاںاور خشک میوے خریدنے تھے۔ احتشام نے دیگر وارڈوں میںسوئیوں کا لالچ دیکر رقم جمع کی تھی۔ مگر عید کے روز جب سوئیاں تقسیم ہونے کیلئے آئیں، تو دیکھا کہ وہ پانی میں ابال کر تیار کی گئی تھیں۔ خشک میووں اور دودھ کا نام و نشا ن بھی نہیں تھا۔ اس ہفتے کھیر بھی نہیں ملی۔ جیل حکام نے دودھ اور قیدیوں سے وصول چندہ کی پیشتر رقم اپنے جیبوں میں ڈالی تھی۔ پانی میں ابلی ہوئی بغیر شکر کے بے ذائقہ سوئیاں زبردستی کھلائی گئیں۔ کوورونا کے لاک ڈائون سے یقینا کائنات کی رنگینیاں پھیکی پڑ گئی ہیں، مگر گھروں کے اندر کا رمضان پھر بھی تہاڑ جیل کے روزوں سے بدرجہا بہتر ہے۔ اس لئے ان ساعتوں میں بھی اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوشکر ادا کرنا چاہئے۔ (ختم شد)
Iftikhar-Gillani-daily92