قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس کل طلب، لاک ڈاؤن میں نرمی سے متعلق اہم فیصلے متوقع

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس کل ہوگا، جس میں صوبائی وزرائے اعلیٰ، عسکری وسول اداروں کے اعلیٰ حکام شریک ہوں گے جبکہ وفاقی وزرا،معاونین خصوصی چیئرمین این ڈی ایم اے بھی شرکت کریں گے۔

قومی رابطہ کمیٹی کےاجلاس میں کوروناوائرس کی موجودہ اور متوقع صورتحال پر تفصیلی غور کیا جائے گا اور لاک ڈاؤن نرم کیے جانے سے متعلق اہم فیصلے کئے جائیں گےچیئر مین این ڈی ایم اے اورمشیر صحت صورت حال پر بریفنگ دیں گے جبکہ لاک ڈاؤن نرم کرنے سے قبل ایس او پیز کی منظوری دی جائےگی اور عوام کیلئے عوامی مقامات پرفیس ماسک پہننا لازمی قراردیے جانے کا بھی امکان ہے۔

بعد ازاں وزیراعظم عمران خان اہم فیصلوں پرقوم کواعتماد میں بھی لیں گے۔

گذشتہ روز وفاقی وزیر اسد عمر کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس میں لاک ڈاؤن میں نرمی اور تجارتی مراکز کھولنے سے متعلق تجاویز مرتب کرلی گئیں تھیں،منظوری کی صورت میں اطلاق 31 مئی تک ہوگا۔

این سی او سی نے بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کھولنے کی تجویز دی گئی. اور اسے ایس او پیز پر عملدرآمد سے مشروط کیا گیا جبکہ تعمیراتی صنعت کے لیے سہولتوں میں اضافے کی تجویز بھی سامنے آئی۔

اجلاس میں اسلام آباد کے اسپتالوں میں مخصوص او پی ڈیز کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور تجارتی مراکز کے اوقات کار صبح نو سے شام پانچ اور پھر رات آٹھ سے دس بجے کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔

وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز کا کہنا تھا کہ نرمی پرصوبوں سے رائےلی جائےگی، وزیراعظم تمام فیصلوں میں اتفاق چاہتے ہیں، صرف احتیاط کرکے کورونا کے خلاف جنگ جیتی جاسکتی ہے۔

یاد رہے وفاقی کابینہ پہلےہی لاک ڈاؤن میں نرمی کی منظوری دے چکی ہے ، پنجاب حکومت لاک ڈاؤن میں نرمی کےحق میں ہے اور بلوچستان نےلاک ڈاؤن میں 19 مئی تک توسیع کردی جبکہ سندھ حکومت لاک ڈاؤن میں نرمی کے لیے وفاق کےفیصلے کی منتظر ہیں۔

اس سے قبل وفاقی حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کیا تھا، وزیراعظم عمران خان نے لاک ڈاؤن میں بتدریج کمی کا اعلان کرتے ہوئے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی سے گفتگو میں کہا تھا کہ معاشی صورتحال،زمینی حقائق مدنظررکھتے ہیں اہم فیصلےکرنےجارہے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عام آدمی کے مسائل کے پیش نظر لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی کی جائے گی ، حفاظتی اقدامات پر مبنی جامع ایس اوپیز تیار کرلئے ہیں، عوامی نمائندگان ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے متحرک کردارادا کریں۔

Courtesy Ary urdu