پاکستان کا فنانس سیکرٹری اور بھکاری ( دل چسپ واقعہ)

ممتاز حسن پاکستان کی ان چند شخصیات میں سے ایک ہیں جو اپنی ذہانت، علم اور شائستگی و شرافت کی وجہ سے بھی پہچانے جاتے ہیں۔

سول سرونٹ اور مالیاتی امور کے ماہر کے علاوہ انھیں محقق، شاعر، براڈ کاسٹر اور معتبر ناقد کی حیثیت سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

ان کی دل چسپی تاریخ اور قدیم آثار میں تھی۔ اہم عہدوں پر فائز رہتے ہوئے کئی اہم ذمہ داریاں نبھانے والے ممتاز حسن نے اپنی تمام مصروفیات کے باوجود مطالعہ کی عادت ترک نہ کی، وہ علم و ادب کے شائق اور مطالعے کے رسیا تھے۔ نہایت سادہ مزاج اور عجز و انکسار کا پیکر ممتاز حسن سے متعلق ان کی پوتی شازیہ حسن نے ایک واقعہ بیان کیا جو نہ صرف یہ کہ مرحوم کی زندگی کے ایک خوب صورت رُخ یعنی ان کی سادگی اور شرافت کا عکاس ہے بلکہ نہایت دل چسپ بھی ہے
وہ لکھتی ہیں، ”وزارتِ مالیات میں دادا شب و روز مصروف رہے، وہ رقم جیب میں رکھنا بھول جاتے تھے، ایک روز سرِ راہ کسی فقیر سے سامنا ہوگیا، فقیر کے سوال پر دادا نے معذرت کی اور کہا ان کے پاس اسے دینے کے لیے فی الحال کچھ بھی نہیں ہے۔ فقیر نے یہ سن کے جیب سے ایک سکہ نکالا اور دادا کی طرف بڑھا دیا۔ دادا اس کی شکل دیکھتے رہ گئے۔