کرونا وائرس کے بعد دفتر کی شکل کیسے ہوگی؟ ویڈیو دیکھیں

شکاگو: کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے گھروں میں رہنے کی پابندی اٹھنے کے بعد جب دفاتر کھلیں گے تو دفتر کی شکل کیسے ہوگی؟ اس سلسلے میں ایک امریکی کمپنی نے دل چسپ ویڈیو بنائی ہے۔

انٹرنیشنل رئیل اسٹیٹ کمپنی کشمین اینڈ ویکفیلڈ نے کام کی جگہ کا ایک ایسا ڈیزائن پیش کیا ہے جو کو وِڈ نائنٹین کی وبا کے دوران محفوظ طریقے سے کام کرنے کے تصور پر مبنی ہے۔

اس ڈیزائن کے مطابق آفسز میں ایسے اسٹینڈرڈز اپنائے جائیں گے کہ راہداریاں وَن وے ہوں گی، جس میز پر ملازمین بیٹھیں گے ان کے گرد ایک بفر زون بنایا جائے گا، اور نشستوں کے درمیان شفاف پلاسٹک اسکرین لگے ہوں گے تاکہ کوئی ملازم کھانسے یا چھینکے تو دوسرے محفوظ رہیں۔

کرونا وائرس کی وبا کو روکنے کے لیے حکومتوں کی جانب سے لگائے گئے لاک ڈاؤن نے لوگوں کے کام کے طریقوں اور جگہوں کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے، کروڑوں لوگ دفاتر سے گھروں کے ڈرائینگ رومز کی طرف اور میٹنگز ویڈیو کانفرنس کی طرف منتقل ہوئیں
لاک ڈاؤن کی پابندیاں ہٹنے کے بعد دفاتر کو انفیکشن پھیلنے سے روکنے کے لیے نئے سرے سے ڈیزائن کیا جائے گا، کیوں کہ امریکی ادارے سی ڈی سی نے کرونا وبا کی دوسری لہر سے بھی خبردار کر دیا ہے۔

دفاتر کے اس نئے ڈیزائن میں میزوں کے گرد ایریا کو خالی رکھنے کے لیے 6 فٹ کے سماجی فاصلے کے تصور کو استعمال کیا گیا ہے، اس کے لیے ویڈیو میں بنیادی تصورات سے کام لیا گیا ہے، جیسا کہ رنگین کارپٹ کا دائرہ لگایا گیا ہے۔

اداروں سے منسلک ماہر نفسیات براڈ بیل نے ملازمین کے ایک دوسرے سے دور دور بیٹھ کر کام کرنے کے اثرات کے حوالے سے کہا کہ ان ملازمین کو جنھیں اداروں کے اندر ایک ہی میز پر بیٹھنا پڑتا ہے، اور دوسروں سے مسلسل رابطہ بھی جن کے لیے ضروری ہوتا ہے، ان کے لیے یہ تبدیلیاں بہت مشکل ثابت ہوں گی۔

کارنل یونی ورسٹی کے ہیومن ریسورس اسٹڈیز کے پروفیسر براڈ بیل نے کہا کہ ہم نے یہ دیکھا ہے کہ ملازمین جتنی زیادہ آئسولیشن پاتے ہیں، نتائج پر اتنے ہی زیادہ منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، وہ اپنے کام سے مطمئن نہیں ہو پاتے اور اس سے ذہنی دباؤ بھی پڑ سکتا ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مالکان وبا کے دوران فاصلے سے کام کے فوائد دیکھ رہے ہیں، امکان ہے کہ کچھ لوگ مستقل طور پر اس ماڈل پر منتقل ہو جائیں گے