جس کا کوئی خواب نہیں اس کا کوئی مستقبل نہیں ۔ارطغرل غازی

ترک ڈرامے ارطغرل غازی کے مشہور ڈائیلاگ

-اگر تم نے اپنے دشمن کو اپنا وطن ہی نہیں بلکہ ایک پتھر کا ٹکڑا بھی رکھنے دیا؛ تو مصائب ہم پر آ پڑیں گے ۔

ہمارے دشمن کی طاقت ہماری بہادری کی علامت ہے ۔

اگر ہم گر جاتے ہیں تو پوری اسلامی دنیا گر جائے گی ۔جب تک ہم اپنے عقیدے اور روایات سے مضبوطی سے وابستہ ہوں گے ہمارا سر نہیں جھکے گا اور اسلامی پرچم نہیں گرے گا ۔

جب تک ہم اللہ کے راستے پر چلیں گے کوئی بھی ہمیں ہمارے گھٹنوں کے بل نہیں گرا سکتا ۔

ذوالفقار سے اچھی نہ کوئی تلوار ہے اورنہ علی (کرم اللہ وجہہ) سے بڑا کوئی بہادر زمین پر ۔

دو طاقتیں ہیں ایک تلوار دوسری عقل ۔۔۔۔آج تک کوئی ایسی تلوار ایجاد نہیں ہوئی جو عقل کو ہرا سکے ۔

مجھے موت کا ڈر نہیں لیکن وہ آخری سانس میرے لئے حرام ہو گئی جس سے پہلے میں ہتھیار ڈال دو ں۔ ۔۔۔۔۔۔

ہمارے اسلاف کی داستان بچوں کو سلانے کے لیے نہیں بلکہ مردوں کو جگانے کے لئے سنائی جاتی ہیں ۔

جہاں انسان جاتا ہے وہاں اس کا رزق پہلے پہنچ چکا ہوتا ہے ۔

ہم خیانت اور دھوکہ دہی سے کوئی کامیابی حاصل کرنے کی بجائے موت کو ترجیح دیتے ہیں ۔

حق کی راہ پر چلنے والوں کو میرا رب کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا ۔

جدوجہد ہماری مگر فتح اللہ کی ہے ۔

ہم یادو غازی بنیں گے یا شہید مگر ہماری تلواروں کی جھنکاریں ہزاروں سالوں تک سنائی دیں گی۔

مایوسی ہمارے لیے حرام ہے ہمیں اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونے کا حکم دیا گیا ہے ۔

اگر ہم نے آج ڈر کے مارے بزدلی کی چوڑیاں پہننی ہماری نسلیں ظالموں سے کانپیں گی۔

تمام جہاں بھی اگر ظالم ہو جائے تو بھی ہم ظلم سے ڈرنے والے نہیں ۔

اس گھوڑے پر سوار ہونے کی کوشش نہ کرو جس پر قابو نہ پا سکو۔

تلوار اسی کے ہاتھ میں سجتی ہے جسے چلانی آتی ہو ۔

میں غدار کو نہیں معاف کروں گا چاہے وہ میرا بھائی ہو ۔

ہمارے دلوں میں کیا ہے ہم اپنے الفاظ اور اپنی موت سے ظاہر کریں گے

حق کے راستے میں اگر ساری کائنات بھی تمہارے خلاف ہو تو بھی تم یہ یقین رکھو کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے

یہ مشہور ڈائیلاگ اس ڈرامے سے قاسیم علی شاہ نے اپنی ویلاگ میں نقل کیے ہیں اور امی کو ایک یادگار ڈرامہ قرار دیا ہے