روزنامہ امن کراچی ایک زمانے میں جمہوری جدوجہد کرنے والوں کا مستقل ٹھکانہ تھا

روزنامہ امن کراچی ایک زمانے میں جمہوری جدوجہد کرنے والوں کا مستقل ٹھکانہ تھا جنرل ضیاءالحق کے آمرنہ دور میں سیاسی رہنما دفتر امن کے دورے کو اپنے لئے باعث فخر سمجھتے تھے۔اس وقت امن کی ٹیم میں بہت سے نامور صحافی شامل تھے۔ زیر نظر یادگار تصویر ممتاز ہاری رہنما محمد فاضل راہو کے دفتر امن کے دورے کی ہے۔تصویر میں ایڈیٹر امن افضل صدیقی مرحوم ، جناب اجمل دہلوی ، احمد سعید سلیم ، خالد سعید ، افتخار قمر مرحوم ، مبشرمنصور مرحوم ،شبر اعظمی، علی حامد ، علی عابد اور محمد منیرالدین موجود ہیں۔ تیس پنتیس سال پرانی یہ تصویر دیکھ کر حیرت ہوتی ہے وقت کتنی تیزی سے گزرگیا۔ جس روز محمد فاضل راہو کا ان کے گاوں میں قتل ہوا میں امن کے ڈسٹرکٹ پیج پر ہوتا تھا۔ اس زمانے میں امن کے نامہ نگاروں کا نیٹ ورک سب سے زیادہ مضبوط سمجھا جاتا تھا ۔فاضل راہو کے قتل کی خبر بھی سب سے پہلے دفتر امن پہنچی۔ اس زمانے میں اقبال جعفری بی بی سی اردو سروس کے کراچی میں نمائندے تھے جنہیں سب سے پہلے میں فون کرکے یہ خبر بتائی وہ اس زمانے ضیاء مخالف تحریک کے باعث امن کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے تھے۔ شام کو بی بی سی لندن سے سیربین پروگرام سے فون آیا اور لندن اسٹوڈیو سے اس واقعہ کی تفصیل معلوم کرکے ریکارڈ کی گئی جسے رات کو نشر کیا گیا۔uddinFrom-the-wall-of-Mohammad munir