کابینہ نے بھارت سے 429 ضروری ادویات برآمد کرنے کی سمری مسترد کردی

 بابر اعوان کو سیاسی محاذ پر پہلی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ نے مشیر پالیمانی امور بابر اعوان کی جانب سے بھجوائی گئی وزارت پارلیمانی امور کے ذریعے فنڈز کی تقسیم کی سمری مسترد کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے ارکان پارلیمنٹ کو وزارت پارلیمانی امور کے ذریعے فنڈز کی تقسیم کی سمری مسترد کر دی،بابر اعوان نے وزارت پارلیمانی امور کے ذریعے فنڈز تقسیم کرنے کی سمری بھیجی تھی۔
واضح رہے کہ آج وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں لاک ڈاؤن میں نرمی یا ختم کرنے پر مشاورت کی گئی۔ وفاقی کابینہ نے ملکی معاشی و سیاسی صورتحال پر بھی غور کیا۔ کابینہ نے لاک ڈاون میں نرمی پر اتفاق کیا جبکہ لاک ڈاؤن میں نرمی کا حتمی فیصلہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کرے گا۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 9 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا، جس کے بعد وفاقی کابینہ نے لاک ڈاؤن میں نرمی سمیت ایجنڈے میں شامل متعدد نکات کی منظوری دے دی۔
کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔ کابینہ نے بھارت سے 429 ضروری ادویات برآمد کرنے کی سمری مسترد کردی۔61 فوڈزاورنان فوڈ آئٹمز کو کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ کابینہ اجلاس میں احساس پروگرام کےتحت ریلیف پیکج میں پیشرفت کاجائزہ لیا گیا جبکہ چھوٹا کاروبار کے تحت صنعتی، کمرشل بجلی کے کنکشنز میں رعایت پر بات ہوئی۔
اجلاس میں اسٹیٹ بینک کی کرنسی نوٹوں پروارنش کوٹنگ ختم کرنے کی تجویز مسترد کردی گئی، کابینہ کو عارضی طور پر وارنش کوٹنگ ختم کرنےکی سمری بھیجی گئی تھی ، وزارت خزانہ کی سمری میں موقف اختیار کیا گیا کہ 500 ،1ہزار اور 5ہزار روپے کے نوٹ دو ماہ تک بغیروارنشنگ چھاپنے کی منظوری دی جائے جبکہ کابینہ نے واپڈا ممبرفنانس کی تعیناتی میں توسیع کی بھی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ ارکان کا ایک ماہ کی تنخواہ کورونا فنڈ میں دینے کا اعلان کیا ہے