صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں 589 وینٹیلیٹر موجود،

چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی سربراہی میں اہم اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبے میں بنائے گئے آئیسولیشن سینیٹر، وینٹیلیٹر کی تعداد، ٹیسٹنگ کٹس، پی پی ایز، ادویات کی خریداری سمیت گندم اور  ٹڈی دل کے معاملات زیر غور آئے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر خوراک ھری رام نے گندم کے خریداری کے معاملے پر خصوصی شرکت کی جب کے سینیئر میمبر بورڈ آف ریونیو قاضی شاہد پرویز، سیکریٹری صحت زاہد عباسی، سیکریٹری زراعت عبدالرحیم سومرو، ،  سیکریٹری خوراک لئیق احمد اور سیکریٹری ریہیبلیٹیشن شریک ہوئے جب کے ڈویژن کمشنر اور ڈپٹی کمشنرز نے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے کہا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں کرونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر اقدامات کے سلسلے میں آئیسولیشن سینیٹرز بنائے گئے ہیں۔ تمام ڈویژنل کمشنر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کراچی کے ایکسپو سینٹر میں 1200 اور پی اے ایف میوزیم 300 بستروں پر مشتمل آئیسولشن سینٹر قائم کیا جارہا ہے۔  حیدرآباد  میں 1100، ٹھٹہ میں 100، بدین میں 150، دادو 101 اور جامشورو میں 220 بستروں پر مشتمل آئیسولیشن سینٹرز قائم کئے گئے ہیں۔ میرپور خاص میں 150، عمرکوٹ میں 150 مٹھی میں 130 اور چھاچھرو میں 100 اور شکار پور میں 330 بستروں پر مشتمل آئیسولیشن سینٹرز قائم کئے گئے ہیں،سکھر میں 1344، خیرپور میں 400، لاڑکانہ میں 330 ، جیکب آباد میں 200 قمبر میں 150 بستروں پر مشتمل آئیسولیشن سینٹرز قائم کئے گئے ہیں۔ اجلاس میں سیکریٹری صحت نے وینٹیلیٹر کے متعلق بریفننگ دیتے ہوئے بتایا کے  سندھ میں اس وقت سرکاری اسپتالوں میں 589 وینٹیلیٹر ہیں 200 مزید خریدے جا رہے ہیں۔ انہونے کہا کہ کراچی کے علاؤہ دیگر ڈویژن میں 120 وینٹیلیٹر ہیں۔ چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے تمام ڈویژنل کمشنر کو ہدایت کرتے وئے کہا کہ وہ خود متعلقہ ڈویژن میں موجود وینٹیلیٹر مینیجمینٹ کی نگرانی کریں اور تمام اضلاع میں بنائے گئے آئیسولیشن سینٹر کی تمام ضروریات کو پورا کیا جائے۔ انہونے سیکریٹری صحت کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام آئیسولیشن سینٹر میں پرسنل پروٹیکشن اکوپمینٹ کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، انہونے کہا کہ صوبے میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی صلاحیت بڑھ گئی ہے اب مزید سکھر ، شہید بینظیر آباد ٹیسٹ کی لیباریٹریز بنائے جا رہی ہے جلد سکھر میں 300 ٹیسٹ کی صلاحیت ہوگی۔ اجلاس میں ٹڈی دل کے حوالے سے بتایا گیا کے صوبے کے مختلف اضلاع میں ٹڈی دل کے موجودگی کے اطلاعات ملے ہیں۔ چیف سیکریٹری سندھ نے تمام ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہر ضلعی کے لئے الگ کانٹیجنسی پلان بنایا جائے۔ محکمہ پلانٹ پروٹیکشن اور زراعت کے افسران اسپرے کو یقینی بنائیں۔ اضلاع اور تحسیل پر کمیٹیاں بنائی جائیں اور لوکل آبادگارں کو بھی کمیٹیز میں شامل کیا جائے۔ ممتاز علی شاہ نے مزید کہا کہ ٹڈی دل کے خاتمی کے لئے تمام وسائل بروکار لائے جا رہے ہیں اور اسپرے اور گاڑیوں کے لئے فنڈز کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔ انہونے مزید کہا کے جہاز کے زریعے اسپرے کرنے کے لئے وفاقی حکومت کو کہا گیا ہے۔ گندم کی خریداری کے متعلق اجلاس میں صوبائی وزیر خوراک نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کے جس گودام سے گندم برآمد ہو گی اس گودام کو سیل کر کے ساری گندم محکمہ خوراک کے حوالے کی جائے گی، چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے کہا کہ گندم ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور گندم کے خریداری کے ٹارگیٹ کو ایک ہفتے میں مکمل کیا جائے۔ اجلاس میں وزیر خوراک نے کہا کے محکمہ خوراک کے افسران کی کوتاہی ہو تو ڈپٹی کمشنر انکے خلاف کاروائی کریں۔ انہونے مزید کہا کے کچھ اضلاع میں گندم ذخیرہ کرنے کی شکایات موصول ہوئے ہیں، انہونے کہا کے باردانا جاری کیا گیا ہے اگر باردانا کے حوالے سے بھی کوئی شکایات ہو تو ڈپٹی کمشنر سیکریٹری خوراک سے رابطہ کرین۔