ٹوکیو میں چیری بلاسم، ڈاکٹر فرح اور ڈاکٹر یاسوشی

چیری بلاسم کا موسم پھر آن پہنچا!
ہر برس ان پھولوں کو دیکھ کے ہم کہیں اور، بہت دور پہنچ جاتے ہیں۔ وہ چیری بلاسم سے لدے ہوئے درخت کے نیچے ہمارا کھڑا ہونا، ہوا کی سرسراہٹ سے ڈھیروں پھول زمین پہ گرنا، جن میں سے کچھ ہوا میں تیرتے ہوئے ہمارے بالوں میں اٹک جاتے تھے۔
“اماں! اماں! دیکھیے تو سہی” وہ دور سے پھولی سانسوں کے ساتھ ہماری طرف بھاگی چلی آ رہی تھی، ہاتھ میں ایک لفافہ تھا۔ ہم کتابیں دیکھنے میں بے طرح گم، بے اختیار ٹھٹھک گئے۔
بچوں کے سکول میں سالانہ میلہ تھا۔ بچے، والدین، احباب سب ہی اپنی اپنی پسند کے سٹالز پہ موجود تھے۔ فضا میں کافی کی خوشبو اور موسیقی کے سر شام کے دھندلکے کو سحر انگیز بنا رہے تھے۔ کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے ہم ادھر ادھر گھومتے تھے، جب ہم نے اپنی بیٹی کی آواز سنی۔
شہربانوکے ہاتھ میں ایک بڑا سا لفافہ تھا جو اس نے قرعہ اندازی کے سٹال سے جیتا تھا اور اب تمتماتے چہرے کے ساتھ ہمیں کچھ بتاتی تھی، قطر ائرلائن کا کسی بھی فار ایسٹ کے ملک کو جانے کا فری ٹکٹ!
ہماری بیٹی کو ہمارے سیلانی پن کا علم تھا سو وہ ہنستے ہوئے کہتی تھی ” لیجیے اماں! ایک اور دیس آپ کا منتظر ہے”
یہ پیشکش صرف اگلے دو ہفتوں میں استعمال کے لئے تھی سو کہاں، کس طرف ؟ یہ ایک بڑا سوال تھا۔ چین جائیں کہ کوریا؟ فلپائن یا انڈونیشیا؟ ویتنام کہ جاپان؟ نظر گویا ٹھہر سی گئی، گزرے بچپن کے دنوں کی بازگشت سنائی دے گئی۔ الف سے اچھی، گاف سے گڑیا، جیم سے جاپانی!

ہم ٹوکیو ائرپورٹ پہ تھے، سترہ گھنٹے کے طویل سفر کے بعد! ابھی ہمیں ایک گھنٹہ مزید انتظار کرنا تھا۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ جاپان کو اپنی منزل چن لینے کے بعد ہم نے سکاٹ لینڈ میں مقیم اپنی دوست ڈاکٹر فرح کو جب اپنا پروگرام بتایا تو جاپان کی کشش ان پہ بھی غالب آئی اور جھٹ سے سامان باندھ لیا۔ اب ان کی فلائٹ ایک گھنٹے میں پہنچنے کو تھی۔
رات کا اندھیرا پھیل چکا تھا۔ ائرپورٹ سے لی گئی ٹرین سے اترنے کے بعد ہم ‘شینجیکو’ کی سڑکوں پہ اپنے ہوٹل کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے تھے۔ مشکل یہ تھی کہ لوگوں کو انگریزی نہیں آتی تھی اور ہم جاپانی سے نابلد۔
بالآخر ہماری بےچارگی پہ ترس ایک چہرہ شناس سائیکل سوار خاتون کو آیا جو اسی دوکان سے سگریٹ خرید رہی تھی جہاں ہم کاؤنٹر پہ بیٹھے لڑکے کو ہوٹل بکنگ والا رقعہ دکھاتے تھے۔ اس نے وہ کاغذ ہمارے ہاتھ سے لیا، مسکرائی اور ہمیں پیچھے آنے کا اشارہ کر کے چل پڑی۔ منزل کچھ خاص دور نہیں تھی لیکن سڑکوں کے نام انگریزی میں نہ ہونے کی وجہ سے ہم ناکام ٹھہرے تھے۔
ڈاکٹر فرح اور ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ناکامائز ڈوری سڑیٹ پہ ایک ہجوم کے درمیان چلتے تھے۔ ہمارے چاروں طرف لوگ ڈرم، بانسریاں، دف، سیٹیاں اور نفیریاں بجاتے ہوئے ناچتے تھے۔ کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ کچھ ٹولیوں نے محرم کے تعزیہ نما بڑے بڑے پگوڈا اٹھا رکھے تھے۔ کھوے سے کھوا چھلتی یہ سٹریٹ آساکوسا ڈسٹرکٹ میں سینسو جی ٹیمپل کو جاتی تھی جو جاپان میں بدھ مت کا قدیم ترین مندر ہے۔

“میں چاہتا ہوں کہ آپ جاپان کے قدیم ترین اور پرجوش ترین مذہبی تہوار سنجا میٹسوری میں شرکت کریں۔ اس تین روزہ تہوار میں ہر برس پندرہ لاکھ سے بیس لاکھ مقامی اور بین الاقوامی لوگ شریک ہونے کے لئے آتے ہیں، آپ تو اتفاق سے یہاں ہیں” ڈاکٹر یاسوشی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ڈاکٹر یاسوشی سے ملاقات ہالینڈ کی ماسٹرخت یونیورسٹی میں ہوئی جہاں ہم دو برس کے لئے ہم جماعت تھے۔ یاسوشی ہماری ٹوکیو آمد کی خبر سنتے ہی ہسپتال سے جلدی اٹھ کے آ چکے تھے اور اب ہم تینوں ایک بہت بڑے اچھلتے، کودتے، ناچتے اور گاتے ہجوم کا حصہ تھے۔ کوئی لفظ بھی پلے نہیں پڑتا تھا لیکن فضا میں پھیلا ہوا جوش ہم پہ اثر کرتا تھا۔ ہم سنسو جی مندر کی طرف اس جم غفیر میں رینگتے ہوئے چلتے تھے۔
سینسو جی مندر کا قیام ساتویں صدی عیسوی میں آیا جب سات سو سال قبل مسیح کا بنا ہوا بودھیستوا کینن نامی مجسمہ اس میں محفوظ کیا گیا۔ یہ مجسمہ دو مچھیروں کو دریاے سمیدا میں مچھلیاں پکڑنے کے دوران ملا۔ ہینوکوما ہماناری اور ہنوکوما ٹیکاناری نامی بھائیوں نے ایک امیر آدمی کی مدد سے یہ مندر تعمیر کیا۔ تب سے ان تینوں کی یاد میں یہ تہوار منایا جاتا ہے۔
ہم ہجوم کے ریلے کے ساتھ مندر کی سیڑھیوں تک پہنچ چکے تھے۔ سیڑھیوں سے اوپر ایک برامدے پہ لال رنگ کی بہت بڑی لالٹین لٹکی ہوئی تھی۔ لال رنگ کی لکڑی سے بنا مندر نہ جانے کتنے ادوار کی یادیں سمیٹے ہمیں خاموشی سے تکتا تھا اور ہم ایک قدیم یادگار کو دیکھتے مسحور ہوئے جاتے تھے۔

یاسوشی کا خیال تھا کہ ہمیں ہر قدم پہ تصویر کھنچوانی چاہیے سو وہ نہایت تن دہی سے اس میں مشغول تھے۔ ہر محب وطن کی طرح وہ بھی اپنا کلچر مکمل طور پہ ہمیں دکھانا چاہتے تھے۔ روایتی لباس کیمونو میں ملبوس لوگ مندر میں داخل ہوتے تھےاور نذر نیاز کا سلسلہ جاری تھا۔ مندر کے باہر ایک پانچ منزلہ لکڑی کا پگوڈا آساکوساشنٹو شرائن بھی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھا۔
قطر ائرویز کی مہربانی سے مندر کے سالانہ تین کروڑ زائرین میں ہمارا نام بھی لکھا جا چکا تھا۔
“کیا آپ نے دوبئی میں برج خلیفہ دیکھا ہے؟ برج خلیفہ کے بعد دوسرے نمبر پہ ہمارا ٹاور” ٹوکیو سکائی ٹری” ہے، چلیے، وہاں چلتے ہیں” یاسوشی نے پورے دن کا پروگرام طے کر رکھا تھا۔
ٹوکیو سکائی ٹری کی تعمیر روایتی پگوڈا کی طرز میں کی گئی اور 634 میٹر کا قد لئے یہ ٹاور 2012 میں مکمل ہوا۔ بنیادی طور پہ اسے ریڈیو اور ٹی وی کی نشریات کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
ہم سکائی ٹری میں داخل ہو چکے تھے اور اب تیز رفتار لفٹ سے اوپر جانے کا مرحلہ تھا۔ برج خلیفہ ہو یا ایفل ٹاور، اتنی اونچائی سے اپنا ہی بسایا ہوا شہر گلیور کی نظر سے کسی اور ہی دنیا سے تعلق رکھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
ننھے منے گھر، ندی جیسا دریا، بچوں کے کھلونوں جیسی کاریں اور اوپر دیکھیں تو آسمان بس ایک ہاتھ کی دوری پہ، آتشیں سورج بھی مقابل، ہوا کی سرسراہٹ بھی پاس پاس۔ یہاں بھی سب ایسا ہی تھا۔
شام کا دھندلکا پھیل چکا تھا، مسافروں پہ تھکاوٹ غالب آتی تھی لیکن ابھی لذت کام ودہن کا مرحلہ باقی تھا۔ روایتی جاپانی ریسٹورنٹ میں میز پہ رکھی انگیٹھی پہ سالمن بھون کے کھانے کا مزا ابھی بھی باقی ہے۔
ٹوکیو میں پہلا دن شب کی سیاہی سے بغل گیر ہو رہا تھا۔ ہم تھکے ماندے ہوٹل کی طرف رواں دواں تھے، رہ حیات میں ایک خوبصورت دن کی یادوں کے ساتھ!
Dr.Tahira Kazmi