فردوس عاشق اعوان کے بعد اب کس کی باری؟

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اس وقت ایک زخمی شیرنی کی طرح ہیں، پہلے وہ سیالکوٹ میں ایک زور دار پریس کانفرنس کرکے وزیراعظم آفس میں مورچہ زن اپنے مخالفین پر تیر برسانا چاہتی تھیں لیکن پھر نامعلوم وجوہات کی بناء پر یہ پریس کانفرنس نہ ہو سکی۔ اس کے بعد انہوں نے جمعہ کو دن گیارہ بجے پریس کے سامنے اپنے ترکش کے تیر آزمانے کا ارادہ کیا لیکن ایک بار پھر وہ کسی مصلحت کا شکار ہو کر پریس کانفرنس نہ کرسکیں۔
جمعہ کی شام انہوں نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں وزیراعظم سیکرٹریٹ میں بیٹھے ہوئے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر ان کا نام لئے بغیر ”شیلنگ“ کی اور الزام لگایا کہ ایک بیورو کریٹ نے میرے کام میں بار بار مداخلت کی۔ مگر یہ بات طے ہے کہ محترمہ فردوس عاشق اعوان وزیراعظم سیکرٹریٹ میں بیٹھے ہوئے اپنے مخالفین کے خلاف ثبوتوں سے بھرا ہوا ”باکس“ اپنی گاڑی میں رکھ کر گھوم رہی ہیں اور کسی بھی وقت وہ ایک نیا پنڈوراباکس کھولنے کا پختہ ارادہ رکھتی ہیں۔
وفاقی دارالحکومت میں اس وقت شدید کھینچا تانی ہورہی ہے اور حکومت میں موجود گروپ اپنی اپنی صف بندی کررہے ہیں، وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو بخوبی اندازہ ہے کہ محترمہ فردوس عاشق اعوان پلٹ کر وار ضرور کریں گی کیونکہ یہ بات کوئی راز نہیں ہے کہ محترمہ فردوس عاشق اعوان کو عام انتخابات میں شکست کے باوجود وفاقی کابینہ میں شامل کس نے کروایا تھا؟

ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان قطعی طورپر لاوارث نہیں ہیں اور پی ٹی آئی میں بھی اس وقت ان کے خیر خواہوں کی بڑی تعداد موجود ہے، چنانچہ اعظم خان نے وفاق میں خودکو مضبوط کرنے کے لئے ایک اور طاقتور بیوروکریٹ اعظم سلیمان خان کو وزارت داخلہ کا سیکرٹری بنا کر بٹھا دیا ہے، راج نیتی کی اس جنگ میں کوئی بھی خود محفوظ نہیں سمجھتا، اس لئے اعظم خان بمعہ اعظم سلیمان خان ملکر اب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے حملے کے منتظر ہیں اور اس حملے کو روکنے کی بھرپور تیاری بھی کررہے ہیں۔
اعظم سلیمان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے وقت وہ پنجاب میں ہوم سیکرٹری کے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کی حتمی رپورٹ کو دیر تک دبانے میں بھی اعظم سلیمان نے اہم کردار ادا کیا تھا اور اعظم سلیمان پنجاب میں ایک طرف وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو کارنر کرچکے تھے اور دوسری طرف رائیونڈ محل میں بھی اپنے وقار میں تیزی سے اضافہ کررہے تھے۔
یہ بات سب جانتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان پنجاب کے بارے میں صرف وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی بات پر یقین رکھتے ہیں اس لئے انہوں نے اعظم سلیمان کو چیف سیکرٹری پنجاب کے عہدے سے ہٹا کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کر نے کاکہا جس پر وہ لاہور ہائیکورٹ میں بھی چلے گئے تھے لیکن چونکہ ان کی ”خدمات“ اعظم خان سینئر کے لئے تھیں اس لئے اعظم خان نے فوراً آگے بڑھ کر انہیں تھام لیا اور وزارت داخلہ میں لا بٹھایا۔

وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو بخوبی علم ہے کہ اب ان کی وزیراعظم کے پڑوس میں موجودگی اختیارات کے مرکز کو ناپسند ہے اور جہانگیرترین کی رپورٹ لیک کرنے کے بعد محترمہ فردوس عاشق اعوان کی برے طریقے سے رخصتی بھی ”معتبر“ لوگوں نے پسند نہیں کی اس لئے اب وہ ”ریڈار“ پر ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ عنقریب کچھ اور رپورٹس بھی سامنے آنے والی ہیں اور ان رپورٹس کے سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان کو اپنے سائے پر سے بھی اعتبار اٹھ جائے گا۔ اب تک اعظم خان گروپ کے دو وار بہت کارگر ثابت ہوئے ہیں لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بار وہ اور ان کے باقی ساتھی نشانے پر ہیں۔
شہبازگل کو پنجاب بدر اس لئے کیا گیا تھا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کے اختیارات خود استعمال کرنا شروع کردیے اور وفاق میں شہبازگل نے اپنی جگہ اس طرح بنائی ہے کہ وہ اعظم خان سے مل کر پہلے جہانگیرترین گروپ اور پھر فردوس عاشق اعوان کو وزیراعظم سے دور کرنے میں کامیاب ہوئے لیکن دونوں بار ان کے اپنے ہاتھ ابھی تک کچھ نہیں آیا بلکہ رسوائی زیادہ ہوئی ہے۔
وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اور سیکرٹری داخلہ اعظم سلیمان کے ساتھ ایک اور معاون خصوصی کے حوالے سے بہت کچھ وزیراعظم کی میز پر پہنچ چکا ہے، عید سے پہلے اسلام آباد میں اختیارات پر گھمسان کی جنگ کا امکان ہے اور وزیراعظم کے ایک با اعتماد ساتھی کی بھی ”زلف تراشی“ کا اہتمام ہو چکا ہے، عید سے پہلے معلوم ہو جائے گا کہ اب کس کی باری ہے۔ وزیراعظم نے واضح کردیا ہے کہ اب رپورٹ لیک ہوئی تو ذمہ دار کون کون ہوگا۔
Shamsham  Mangat