کورونا وائرس : سندھ حکومت اور وفاق کی کارکردگی

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک خاتون ممبر اسمبلی کو گھر میں کھانا بناتے ہوئے دیکھا گیا ،اسی طرح مختلف سیلیبریٹیز نے لاک ڈاؤن کے دوران اپنے تجربات سوشل میڈیا پر شیئر کئے ۔ذیل میں چند ممبران اسمبلی کی لاک ڈاؤن کی مصروفیات اور کورونا کے حوالے سے سندھ حکومت اور وفاق کی کارکردگی پر ان کی رائے پیش کی جارہی ہے پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلافاروقی تقریباًدو برس کے وقفے کے بعد حال ہی میں سندھ اسمبلی کی ممبر بنی ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ اس وقت تو مرد ہو یا عورت سب کے سب گھر میں بیٹھے ہیں۔ ہم گھرمیں بیٹھیں گے تو عوام بھی گھر میں بیٹھے گی ۔ جب گھر میں بیٹھے ہیں تو وہی گھریلو کام ہوتے ہیں کھانا بنالیا صفائی دیکھ لی تھوڑی چہل قدمی کرلی بچے کو دیکھ لیا ٹیلی ویژن دیکھ لیا تھوڑی ورزش کرلی ٹی وی شوز کرلیئے مطلب یہ کہ کوئی خاص مصروفیت نہیں ہے ۔کرونا کے حولے سے وفاق اور صوبائی حکومت کے اقدامات میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔سندھ حکومت تو پہلے ہی لاک ڈآﺅن میں چلی گئی کیونکہ اس وبا کو اور اس کے پھیلاﺅ کو روکنے کا یہ ہی ایک طریقہ ہے فیڈرل گورنمینٹ اس کو ایکسپوز کرتی رہی جس کی وجہ سے بہت کنفویزن پیدا ہوا، وفاق نے پروٹیکشن کٹ کے حوالے سےسندھ حکومت کی کوئی مدد نہیں کی ، بلکہ انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ کے تحت جسے وہ احساس کہتے ہیں ، خواتین کو چار مہینے کی رقوم ایڈوانس بانٹ رہے ہیں وہ بھی اس طرح کہ اس میں سماجی دوری کا خیال نہیں رکھا گیا تو یہ تو وبا کو پھیلانے کا ایک طریقہ کار ہے ۔اس وقت وفاق کوتمام صوبوں کیلئے ایک بڑے بھائی کا کردار ادا کرنا چاہیئے ، لیکن اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت نے سندھ حکومت پر تنقید کرکے دھاوا بولنے کی کوشش کی ہے ۔ میرا خیال ہے کوئی اچھا کام کر رہا ہے تو آپ دل بڑا کریں اس کی تعریف کریں کریں نہ کہ اس کے حوصلے پست کریں ۔

فنکشنل لیگ کی رہنما ممبر صوبائی اسمبلی نصرت سحر عباسی نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے میں تو اپنے علاقے سکھر میں ہوں اور جب سے کرونا کی وبا پھیلی ہے تو اسمبلی کے سیشن نہیں ہورہے ہیں،تو میں یہاں آبائی گھر میںذیادہ وقت موبائل فون کے ذریعہ لوگوں کو اس وبا کے حوالے سے آگاہی فراہم کررہی ہوں کہ اپنے گھروں پر رہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں ، اب کرونا کی وجہ سے ڈیلی ویجیز پر کام کرنے والے بلکہ اچھے خاصے بزنس کرنے والوں کے حالات بھی تنزلی کی طرف جارہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنی امی اور بچوں کے ساتھ وقت گذاررہی ہوں ۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ابتداءمیں لاک ڈاﺅن پر سختی دکھائی لیکن رفتہ رفتہ یہ سختی برقرار نہ رہ سکی کیونکہ نہ انتظامیہ نے سختی دکھائی نا عوام نے خیال کیا غریب عوام کو یہ توقع تھی کہ لاک ڈاﺅن کے دوران گھروں تک راشن فراہم کیا جائے گا سندھ حکومت نے ایسا نہیں کیا بلکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں کاٹ لیں ممبران صوبائی اسمبلی نے ایک مہینے کی تنخواہ دی اس کے علاوہ حکومت کو چھ ارب روپے کورونا ریلیف کے حوالے سے ملے جو سندھ حکومت نے بتایا کہ انہوں نے ضرورتمندوں میں تقسیم کردیئے ہیں لیکن لوگوں کو مستحقین کو راشن نہیں پہنچ سکا ہم اس وقت سیاست کرنا نہیں چاہ رہے لیکن غلطیوں کی نشاندہی کرنا ضروری ہے حد تو یہ ہے کہ سندھ حکومت نے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو سیفٹی کٹس تک فراہم نہیں کی اور یہ لوگ شاپنگ بیگز پہن کر خدمات انجام دے رہے ہیں اس کے علاوہ پولیس قابل قدر کام کر رہی ہے انہیں مراعات دینی چاہیئے سندھ نے ڈاکٹرز کی تنخواہ میں دس فیصد کٹوتی کی جبکہ پنجاب کی حکومت نے ایک مہینے کی تنخواہ ڈاکٹروں کو ایڈوانس دی ہے اور سہولتیں بھی مہیا کی ہیں اس وقت پولیس اور ڈاکٹرز فرنٹ فورس پر خدمات انجام دے رہے ہیں جن کو سہولتیں فراہم کرنی چاہیئے اور احساس پروگرام کے تحت سندھ میں جن ایجنٹس نے ان کے پیسے کاٹے میں ان پر لعنت بھیجتی ہوں ۔

ڈاکٹر فوزیہ حمیدمتحدہ قومی موومینٹ کے پلیٹ فارم سے نیشنل اسمبلی کی ممبر رہ چکی ہیں ۔گذشتہ الیکشن سے قبل انھوں نے پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت اختیار کی ۔ نیشنل کونسل پی ایس پی کی ممبر ہیں ۔انھوں نے کہا کہ کہ لاک ڈاؤن کے دوران این جی اوز نے راشن تقسیم کیا لیکن ہمارے پاس مستحقین کا کوئی باقائدہ سروے موجود نہیں ہے تو جہاں بھی کچھ غریب لوگ نظر آئے انہیں راشن دے دیا،جس کی وجہ سے جو حق دار کو راشن نہ مل سکا ۔کچھ سیاسی جماعتوں کے کے پاس ان کے اپنی ہی ورکرز کا ڈیٹا موجود تھا تو انھوں نے اپنے کارکنوں میں راشن تقسیم کیا۔اسلئے مستقبل میں حکومتی سطح پر مستحقین کا ایک مکمل ڈیٹا ہونا چاہئے تاکہ خدانخواستہ اگر ایسا کوئی پرابلم آئے تو ان کی مدد کی جاسکے ۔کہ ایک طر ف تو کرونا کا چینلج ہمارے سامنے تھا اور دوسرا جہالت سے ہمیں لڑنا تھا ، جو کرونا کے کیسسز بڑھے ہیں تو وہ صرف جہالت کی وجہ سے بڑھے ہیں ۔ ہم اگر سندھ کی بات کرتے ہیں تو یہاں قیادت کا فقدان نظر آتا ہے سندھ مٰں لوکل گورنمینٹ کی فارمنس زیرو رہی ۔ اس وقت تمام ملک میں لوکل گورمنٹ کے نمائندوں کو ایکٹو کیا جاتا بجائے اس کے ایک نئی ٹائیگر فورس بنا ئی گئی ہے ۔ پورے ملک میںلوکل گورنمینٹ کے تقریبا 84 ہزار ممبرز موجود ہیں ، ان کو فیلڈ میں لے جایا جاتا یہ کاﺅنسلرز ہیں جن کو اپنے علاقے کے ہر فرد کے بارے میں معلومات ہیں ،ان لوگوں کو اس وقت کام میں لانا چاہیئے تھا جو کہ نہیں لایا گیا ۔جہاں تک سندھ حکومت کی بات ہے تو سندھ حکومت نے اچھے کام بھی کئے ،لیکن وفاق نے ساتھ نہ دیا جس کی وجہ سے یہاں حالات زیادہ خراب ہوئے میں یہ سمجھتی ہوں کہ اس سے زیادہ بہتر طریقے سے کام ہوسکتا تھا اگر سندھ حکومت ٹوٹل لاک ڈاﺅن کی طرف جاتی کیونکہ سندھ میں وفاق ساتھ دے نہیں رہی تھی جس کی وجہ سے وہ پراپر لاک ڈاﺅن کی طرف جا نہیں سکے ،جو فنڈ انہوں نے دیا گیا ہے اس میں بھی کرپشن ہوئی ہے یہ بعد میں پتہ چل جائے گا۔ اس میں وفاق کا کردار ناقص رہا ہے بارہ ہزار روپے کی جو بات کی گئی فی گھرانا دیا جائے میرے پاس پوری لسٹ موجود ہے جن لوگوں نے اپلائی کیا ہے ان میں سے تو کسی کو ابھی تک نہیں ملا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سندھ حکومت یہاں بھی اپنی سیاست کر رہی ہے اور انہی لوگوں کو چیزیں ایلوکیٹ کر رہی ہے جو یا تو ان کی پارٹی کے لوگ ہیں یا ان کے قریبی لوگ ہیں ۔ سب سے بہتر طریقہ یہی تھا کہ ہم مکمل لاک ڈاﺅن کرتے لوگوں کو ان کے گھروں تک محصور کرتے اس کے بعد جو غریب لوگ ہے جن کا ڈیٹا آپ کی این جی اوز کے پاس کچھ پولیٹیکل پارٹیز کے پاس ہے آپ کے لوکل گورمنٹ کے نمائندوں کے پاس ہے ان کا ڈیٹا کلیکٹ کیا جاتا اور راشن ان کے گھروں تک پہنچایا جاتا ۔

ممبر سندھ اسمبلی ادیبہ حسن کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔کراچی مین لاک ڈاؤن کی صورتحال پر ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے سب سے ذیادہ خواتین متاثر ہوئی ہیں کیوں کہ گھر کے کام کے لئے ملازمائیں میسر نہیں ، سارے کام خود کرنے ہوتے ہیں۔جہاں تک خواتین ممبران اسملی کا تعلق ہے پہلے ان کے پاس اپنے خاندان کے افراد کے لئے محدود وقت ہوتا تھا اب ان کے پاس اتنا وقت ہوگیا ہے کہ وہ اپنے شوہر اور بچوں کو بھی وہ ٹائم دے پارہی ہیں۔لاک ڈاؤن میں لیکن گھر کے تمام کام خواتین کو کرنے ہیں اس لئے ان کے لئے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔وفاق اور سندھ کے کرونا کے حوالے سے اقدامات پر ادیبہ حسن نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومت میں آپس میں کورڈینیشن نہیں ہوپارہی ہے جس کی وجہ سے میں سمجھتی ہوں کہ نقصان ہماری عوام کو ہورہا ہے ۔وفاق کچھ کہہ رہا ہے صوبائی حکومت کچھ کہہ رہی ہے لیکن میں سمجھتی ہوں کہ صوبائی حکومتوں کو وفاق کے فیصلے پر عمل کرنا چاہیئے یہاں صوبائی حکومتیں اپنے فیصلے کر رہی ہیں جس کی وجہ سے یہ نقصان ہورہا ہے تو میں سمجھتی ہوں کہ اگر دونوں مل کے فیصلے کریں تو انشاءاللہ تعالیٰ جلد سے جلد ہم اس وبا سے نجات حاصل کرلیں گے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ پروفیشنل لوگوں کیلئے گھر سے کر کام کرنے مٰں پرابلم ہورہی ہے کیوں کہ آفس میں ایک ماحول ہوتا ہے اور اس ماحول میں وہ کام کرتے ہیں لیکن ہمیں اس بات کا بھی خیال کرنا ہا ہے کہ جی ہم جتنا گھر سے باہر نکلیں گے یہ وبا اور پھیلے گی اور اس پر قابو نہیں ہوسکے گا ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جلد سے جلد ہم اس وبا سے نکل جائیں اور ہم سب اپنے معمولات زندگی کی طرف واپس آئیں