سلطنت عثمانیہ کا بانی ….. ارطغرل غازی کون تھا؟

ارطغرل غازی کے نام سے اردو ڈرامہ ان دنوں پاکستان ٹیلی ویژن پر دکھایا جا رہا ہے لیکن اردو زبان میں ڈبنگ سے پہلے یہ ڈرامہ پاکستان میں اس حد تک مشہور ہے کے اس کے مداحوں میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کو بھی دینا جاسکتا ہے جو اس نے دکھائی گئی اسلامی تہذیب کی تعریف کر چکے ہیں ۔
اس ڈرامے کے حوالے سے پاکستان کے سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے ویلاگ میں تبصرہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ
یہ ڈرامہ ارطغرل غازی دراصل تیرھویں صدی میں اس عثمانی ریاست کے بانی عثمان کے والد ارطغرل کی کہانی ہے ۔جن کی فتوحات کے باعث سلطنت عثمانیہ کا قیام ممکن ہوا ۔ارطغرل کو سلطنت عثمانیہ کا بانی بھی کہا جاسکتا ہے ان کی پیدائش 1891 عیسوی میں ہوئی جب کے وفات بارہ سو اسی عیسوی میں ہوئی ان کا خاندان وسط ایشیا سے یہاں آیا تھا اور اور ان کے جد امجد اگس خان کے بارہ بیٹے تھے جن سے یہ بارہ قبیلے بنے ان میں سے ایک عرطغائی قبیلہ تھا جس سے ارطغرل خود تعلق رکھتے تھے ۔ان کا قبیلہ منگولوں کی یلغار سے بچنے کے لئے سب سے پہلے وسط ایشیا یعنی سینٹرل ایشیا سے ہوتا ہوا ایران اور پھر ان سے اناطولیہ آیا یہاں سلطان علاءالدین جو سلجوق سلطنت کے سلطان تھے ۔

اپنے والد سلطان شاہ کی وفات کے بعد ارطغرل اپنے قبیلے کے سلطان بنے اور یہ سب سے پہلے اخلت آئے پھر وہاں سے ایلیپو گئے تھے ۔اور بارہ سو بتیس میں جہاں سلطان صلاح الدین ایوبی کے پوتے العزیز کی حکومت تھی ارطغرل کو پتا چلا کیا عزیز کو ان کے محل میں ہی غداروں نے گھیرا ہوا ہے اور وہ ان کے ہاتھوں ایک کٹھ پتلی بن کر رہ گیا ہے تو اس نے سب سے پہلے عزیز کو غداروں سے نجات دلائی اور ان سے دوستی کرلی اس کے بعد سلطان علاؤالدین کی بھتیجی حلیمہ سلطان سے شادی کرلی اور ایوبیوں اور سلجوقیوں میں دوستی کرائی۔اور حلب کے قریب صلیبیوں کے ایک مضبوط قلعے کو فتح کیا اور اس کے بعد علاؤالدین قریبی ساتھی بن گیا ۔حلیمہ سلطان سے اس کے تین بیٹے ہوئے ۔جب منگول کی یلغار قریب ہوئی ۔تو انہوں نے منگولوں کے ایک اہم لیڈر نو وان کو شکست دی نوان منگول بادشاہ اگتائے خان کا رائٹ ہینڈ تھا اور وہ چنگیز خان کا بیٹا تھا اور گائے خان کا بیٹا ہلاکوخان تھا جس نے بغداد کو روند ڈالا تھا ۔جس نے تاریخ میں بغداد میں ظلم کی تمام حدیں پار کر دی تھی تاریخ پڑھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ بغداد کی گلیاں خون سے بھر گئی تھی اور دریائے فرات سرخ ہو گیا تھا ۔
نوان کو شکست دینے کے بعد ارطغرل غازی نے اپنے قبیلے کو لے کر سوگٹ آ گئے ۔
وہاں آ کر انہوں نے پہلے تو ایک مقامی قلعے کو فتح کیا اور پھر تمام تر قبیلوں کو اکٹھا کیا جس اناتولیہ میں یہ لوگ پہنچے تھے وہاں کئی نسلوں سے مختلف لوگ آباد تھے جن میں یہودی آرمینائی کرد اور عرب شامل تھے علاقے کے مغرب میں ماضی کے مقابلے میں بہت کمزور بازنکائی حکومت تھی جس کا اتحاد اچھے دنوں میں تو اناتولیا یعنی شام سے اور مشرق میں سلجوقیوں سے جو اپنے آپ کو رومی سلجوقی کہتے تھے ۔

تیرہویں صدی کے وسط میں منگولوں کے ہاتھوں شکست نے سلجوقوں کو کمزور کردیا اور اور منگولوں کو وہ نظر آنے دینے پر مجبور ہو چکے تھے یہ علاقہ ناصرف جنگجوؤں کے لئے مہم جوئی کا علاقہ بن چکا تھا بلکہ یہ وہ لوگ بھی تھے جن کے پاس کہیں اور جانے کے لیے جگہ نہیں تھی جہاں سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھی گئی اس علاقے میں خانہ بدوش نیم خانہ بدوش فوجی مہمات اور ان کے شوقین اور مختلف پس منظر والے غلام اور درویش راہب اور بکھری ہوئی آبادیوں کا دورہ کرکے آنے والے اور بےگھر کسان ۔سکون اور مقدس مقامات کی متلاشی بے چین روحیں۔ اساتذہ اور تاجروں کے گزرگاہ کہ جال بچھے ہوئے تھے ۔
سلطان علاودین کے بعد سلطان غیاث الدین ۔آگے آئے اور انہیں کی بیٹی کے ساتھ عثمان غازی کی شادی ہوئی سلطان غیاث الدین ایک جنگ میں شہید ہو گئے جس کے بعد عثمان غازی سلطان بن گئے اور سلطان غازی کی نسل سے آگے جاکر سلطان محمد فاتح جس نے چودہ سو 53 میں وہ علاقے فتح کیے جن کی بشارت حضور نے دی تھی ۔
جنگجو ارطغرل غازی کے پیچھے اللہ نے ایک روحانی شخصیت بھی رکھی تھی حضور کے فیضان سے جن کی ڈیوٹی لگی تھی وہ شیخ محی الدین ابن العربی تھے جو قدرت کی طرف سے ارطغرل غازی کی روحانی مدد کرنے آئے تھے عابد درجنوں کتابوں کے مصنف تھے آپ علم ایک سمندر تھے انہوں نے دو مرتبہ ارتغل غازی کو موت کے منہ سے نکالا ارطغرل کے تین بیٹے تھے ١٢٩١ عیسوی میں خلافت کی بنیاد رکھی ۔جسے خلافت عثمانیہ کے نام سے شہرت حاصل ہوئی سلطنت عثمانیہ بار 1291سے لے کر 1924 تک قائم رہی ۔