ملک میں قومی کھیل ہاکی کی ترقی کیلئے سیاست کو ختم کرکے میرٹ کو فروغ دینا ہوگا، رائو سلیم ناظم

پنجاب ہاکی ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سیکرٹری ائولیمپیئن رائو سلیم ناظم نے کہا ہے کہ ملک میں قومی کھیل ہاکی کی ترقی کے لئے سیاست کو ختم کرکے میرٹ کو فروغ دینا ہوگا۔ گذشتہ روز اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے اور یہ کھیل زیادہ تر 2008 ء سے زوال کا شکار ہے اس وقت پاکستان رینکنگ میں ساتویں یا آٹھویں پوزیشن پر تھا اور اولمپک میں شرکت کرنے کے بعد یہ کھیل ملک میں دن بدن تنزلی کا شکار ہوتا چلا گیا۔
بدقسمتی سے پاکستان ہاکی فیڈریشن کی بھاگ دوڑ ایسے لوگوں کے ہاتھ آ گئی جو اس کے اہل نہیں تھے بلکہ انہوں نے ضلعی سطح سے لیکر قومی سطح تک سیاست کو فروغ اور رنگ دیا، میرٹ کا کوئی خاص خیال نہیں رکھا گیا اور نہ ہی اس کھیل کی بہتری کے لئے کوئی کام کیا اس وجہ سے ملک میں ہاکی کا ٹیلنٹ ضائع ہوتا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے دیہاتی علاقوں میں اس وقت بھی بہت ٹیلنٹ موجود ہے اور بچے ہاکی بہت شوق اور جذبے کے ساتھ کھیل رہے لیکن ان کے کھیلنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ دنیا میں ہاکی تو آسٹروف پر کھیلی جارہی ہے اور یہ بچے ہاکی گراس پر کھیل رہے ہیں۔

رائو سلیم ناظم نے کہا کہ ملک میں ہاکی کی ترقی کیلئے زیادہ سے زیادہ آسٹروف ان علاقوں میں بچھائی جائے جہاں باقاعدگی سے ہاکی کھیلی جاتی ہو، ان میں لاہور، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، فیصل آباد، گوجرہ اور بہاولپور جیسے شہر شامل ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی او سی کے مطابق حکومت کسی بھی کھیل میں مداخلت نہیں کر سکتی بلکہ فنڈز مہیا کرتی ہے لیکن حکومت کو یہ کریڈٹ ضرور جانا چاہئے کہ حکومت نے ہاکی کی ترقی کے لئے 2008 ء سے اب تک ایک ارب سے زائد رقوم فراہم کی، لیکن ہاکی کی ترقی کے لئے ایمانداری کے ساتھ اقدامات نہیں کئے گئے۔
قومی کھیل کی ترقی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں رائو سلیم ناظم نے کہا کہ ہاکی میں سیاست کو ختم کرکے قومی سوچ کو اپنانا ہوگا، کھلاڑیوں کی سلیکشن اور دیگر فیصلے میرٹ کی بنیاد پر کرنے ہونگے۔ کورونا وائرس کی وباء کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباء بھی تو اللہ تعالی کی طرف سے ہے اس میں بھی شاہد کوئی بہتری ہو لیکن اس وباء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اس وباء سے بچانے کے لئے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا بہت ضروری ہے اور کھلاڑی اپنے گھروں سے غیر ضروری طور باہر نہ نکلیں اور اپنی فزیکل فٹنس کو برقرار رکھنے کے لئے ورزش ضرور کریں اور اس سے بھر پور فائدہ اٹھائیں۔
انہوں نے کہا کہ کھلاڑی قوم کا سرمایہ اور امن کے سفیر کا درجہ رکھتے ہیں اور وہ ہی کھیلوں میں ملک کا نام روشن کرسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ وہ دن دور نہیں جب دنیا کے کھیلوں کے میدان دوبارہ آباد ہونا شروع ہو جائیں گے