خلیجی ممالک میں ایک لاکھ کے لگ بھگ پاکستانی پھنس کر رہ گئے

کورونا وائرس کی وجہ سے دُنیا بھر کے ممالک معاشی بحران کا شکار – خلیجی ممالک میں ایک لاکھ کے لگ بھگ پاکستانی پھنس کر رہ گئے

کویت میں 500، اومان میں ایک ہزار سے زائد ‘امارات میں 71 ہزار، سعودی عرب میں 16 ہزار، قطر میں 36 سو، بحرین میں 387، پاکستانی فوری طور پر وطن واپس آنا چاہتے ہیں جن ممالک سے پاکستانی واپس آنا چاہ رہے ہیں، وزارت خارجہ اور وزارت سمندر پار پاکستانیز نے ان سے درخواست کر رکھی ہے کہ وہ خود کو سفارت خانے کے ساتھ رجسٹر کروائیں تاکہ ان کی تعداد کا پتہ لگایا جا سکے۔ اس وقت مختلف ممالک سے ایک لاکھ پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کی ضرورت ہے۔اب تک 18 ہزار پاکستانیوں کو اب تک وطن واپس لایا گیا ہے جن میں سے 13 ہزار پی آئی اے جبکہ 5 ہزار نجی فضائی سروسز کے تحت پاکستان پہنچے ہیں۔
وزارت ایوی ایشن ڈویژن کے مطابق سعودی عرب سے آٹھ ہزار 332 پاکستانیوں کو اب تک واپس لایا گیا ہے جن میں اکثریتی تعداد عمرہ زائرین کی ہے۔اسی طرح متحدہ عرب امارات سے 2 ہزار 278، ملائشیا سے 454، برطانیہ سے 182جبکہ کینیڈا سے 138 پاکستانیوں کو اب تک واپس لایا گیا ہے۔ عراق سے 136، آذربائیجان سے 125، ناروے سے 45، جاپان سے 51، تھائی لینڈ سے 51، ترکی سے 197، انڈونیشیا سے 229، آسٹریلیا سے 208


جبکہ جرمنی سے 38 پاکستانیوں کو واپس لایا گیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز زلفی بخاری کے مطابق بیرونی ممالک میں ایک لاکھ پاکستانی ایسے ہیں جن کو واپس لانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس تعداد میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے خصوصی پروازوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے علاوہ حکومت پاکستان نے دیگر نجی ایئر لائنز کو بھی پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے پروازوں کی اجازت دے دی ہے۔
ترجمان پی آئی اے کے مطابق ‘سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لیے پروازیں بڑھائی جائیں گی۔ زلفی بخاری نے سعودی عرب میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان سے سعودی عرب کے لیے ہفتہ وار دو پروازیں چلائی جائیں گی۔